
ممبئی: مرنے والی 67 سالہ خاتون نے دل سے ہڈیوں تک سب کچھ عطیہ کر دیا،پانچ افراد کی جان بچائی
جسلوک اسپتال میں ایک خاتون Teresa Maria Fernandez کا علاج چل رہا تھا جسے ڈاکٹر نے برین ڈیڈ قرار دے دیا۔
ممبئی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ممبئی میں ایک مردہ ہسپانوی خاتون نے پانچ لوگوں کی جان بچائی ہے ۔ یہاں جسلوک اسپتال میں ایک خاتون Teresa Maria Fernandez کا علاج چل رہا تھا جسے ڈاکٹر نے برین ڈیڈ قرار دے دیا۔ اعضاء کے عطیہ کے لیے 67 سالہ خاتون کے اہل خانہ کی رضامندی کے بعد چار ہندوستانیوں اور ایک لبنانی شہری کی جان بچائی گئی۔ ہسپانوی خاتون ٹریسا ماریا فرنانڈیز بھارت کے دورے پر آئی تھیں جہاں انہیں 5 جنوری کو ممبئی میں ہیمرجک فالج ہوا، علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا۔
جسلوک اسپتال کے ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کی صحت میں کوئی بہتری نہیں آئی اور انہیں برین ڈیڈ قرار دے دیا گیا۔ اسپتال میں شریک کروانے کے بعد خاتون کے اہل خانہ بھی ممبئی پہنچ گئے تھے۔ ہسپانوی خاتون کی بیٹی پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہے، انھوں نے بتایا کہ ان کی والدہ ہمیشہ سے اپنے اعضاء عطیہ کرنا چاہتی تھیں۔ خاندان نے خود اعضاء عطیہ کرنے کی بات کی۔
دل سے لے کر ہڈیوں تک سب کچھ عطیہ کیا۔
ریجنل کم اسٹیٹ آرگن اینڈ ٹشو ٹرانسپلانٹ آرگنائزیشن (ROTTO-SOTTO) کے مطابق خاتون کے پھیپھڑے، جگر اور گردے ہندوستانی مریض کو دیے گئے ہیں۔ خاتون کا دل لبنانی شہری کو دیا گیا ہے۔ ان کی ہڈیاں بھی عطیہ کر دی گئی ہیں۔ ان کا جگر ممبئی کے 54 سالہ ڈاکٹر کو دیا گیا ہے جس سے ان کی جان بچ گئی۔ انہیں 2019 سے دل کی بیماری تھی۔ ٹرانسپلانٹ ناناوتی ہسپتال میں ہیپاٹولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹ میڈیسن کے پروگرام ڈائریکٹر ڈاکٹر چیتن کلال نے کیا۔
جسلوک اسپتال کے ڈاکٹر امبیڈکر نے کہا کہ لوگوں کو ایک ہسپانوی خاتون Teresa Maria Fernandez کے خاندان سے سیکھنا چاہیے، جس نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنےاعضاء عطیہ کئے، وہ بھی کسی دوسرے ملک میں کسی اجنبی کو۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ ہم نے عطیہ کے لیے ان سے رابطہ بھی نہیں کیا، وہ خود اس کے لیے راضی ہوگئے۔ انہوں نے دکھایا کہ جغرافیائی حدود انسانیت کو نہیں روک سکتیں۔



