✍️سلام بن عثمان،کرلاممبئی
مگر بدقسمتی اورزخموں کی وجہ سے میدان میں نظروں سے اوجھل رہے
مناف پٹیل Munaf Patel جولائی/ 12 / 1983 میں گجرات کے شہر اکھر میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ مناف پٹیل نے اپنے شروعاتی دور سے آخر تک ہر طرز ( فارمیٹس) کی کرکٹ بہت ہی بہترین انداز میں کھیلتے ہوئے اپنی شناخت بنائی۔ مناف پٹیل ہندوستان کے بدقسمت کرکٹرز میں سے ایک ہیں، مواقع کی کمی تو نہیں کہہ سکتے مگر کئی زخموں نے انھیں اپنے عروج کے وقت میدان سے باہر اپنا وقت دینا پڑا۔
اپنے آغاز کے وقت دلیپ ٹرافی میں ویسٹ زون کے لیے فرسٹ کلاس کرکٹ کے ساتھ گھریلوں میدان میں گجرات، ممبئی کرکٹ ٹیم اور مہاراشٹر کی کرکٹ ٹیم اپنی بہترین کارکردگی دکھا چکے ہیں۔
مناف پٹیل نے پہلی مرتبہ سال 2003 میں 20 سال کی عمر میں اپنی بہترین صلاحیتوں سے اہمیت حاصل کی اور انھوں نے گجرات کے لیے کھیلا۔ انھیں چنئی میں ایم آر ایف پیس فاؤنڈیشن کے سیلیکٹرز نے انھیں وہاں مدعو کیا اور آسٹریلوی کپتان اسٹیو وا اور سابق تیز گیند باز ڈینس للی جو اپنے وقت کے بہت ہی تیز گیند باز رہے۔
انھیں اپنی تیز گیند بازی کے ذریعے اپنی طرف متوجہ کیا۔ جس کی وجہ سے سچن ٹنڈولکر کی حمایت کے ساتھ انھیں مواقعے ملنا شروع ہوئے۔ سال 2005 میں انھیں بورڈ ہریسیڈینٹ الیون کے لیے ایک ٹور میچ میں انگلینڈ کے خلاف کھیلنے کا موقع ملا۔
اس میچ میں مناف پٹیل نے 10 وکٹیں حاصل کیں۔ فوراً ہی انھیں انگلینڈ کے خلاف موہالی میں ٹیم انڈیا میں شامل کیا گیا۔ اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میچ میں 97 رنز کے عوض 7 وکٹیں حاصل کیں اور دوسرے اننگز میں 25 رنز پر 4 وکٹیں۔
موہالی ٹیسٹ میں مناف پٹیل نے گیند کو وکٹوں کے دونوں سمت گماتے ہوئے اپنی بہترین صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ اگلے ہی سیریز میں مناف پٹیل نے یہ ثابت کیا کہ وہ ٹیم انڈیا کے سب سے تیز گیند باز ہیں۔ انھوں نے 85 میل فی گھنٹہ سے بھی زیادہ رفتار سے مسلسل گیندیں کیں اور 90 میل فی گھنٹہ یعنی 140 کلو میٹر فی گھنٹہ تیز رفتاری کے ساتھ گیندیں کیں اور تیز گیند بازی سے اپنے شائقین کو متاثر کیا۔
ملائیشیا میں ڈی ایف ایل کپ کے میچ میں مناف پٹیل نے آسٹریلیا کے خلاف 54 رنز کے عوض 3 وکٹیں کے ساتھ مشہور کھلاڑی فل جیکس، مائیکل کلارک اور اسٹورٹ کلارک کی وکٹیں حاصل کیں۔ اسی ٹورنامنٹ میں کے آخری میچ میں آسٹریلیا کے کپتان رکی پونٹنگ کو صرف چار رنز کے ذاتی اسکور پر آؤٹ کیا۔
سال 2006 کے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میچ کے پہلے ہی میچ میں مناف پٹیل نے 18 رنز کے عوض تین بیش قیمتی وکٹیں حاصل کرتے ہوئے مین آف دی میچ کا ایوارڈ حاصل کیا۔
مناف پٹیل 2007 کے ورلڈ کپ میچ کا حصہ بھی رہے۔ اگست 2007 میں انگلینڈ میں دو میچ کھیلنے سے پہلے ٹورنامنٹ کے فوراً بعد بنگلہ دیش کے خلاف ہندوستان کی یک روزہ بین الاقوامی سیریز کے دوران چوٹ کی وجہ سے باقی میچ کے حصے سے باہر رہے۔ اس کے بعد انھیں نومبر میں پاکستان کے خلاف سیریز میں بھی باہر بیٹھا پڑا، مگر سری سنت کے زخمی ہونے پر مناف پٹیل کو ٹیم انڈیا میں شامل کیا گیا۔
اس کے بعد 2011 کے سری لنکا دورے پر مناف پٹیل کو ٹیم انڈیا میں شامل کیا گیا۔ افتتاحی میچ میں پٹیل نے 32 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ اس کے بعد دوسرے میچ میں گروئن انجری میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ان کی جگہ لکشمی پتی بالاجی کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔
2011 کے ورلڈ کپ سے پہلے سیریز کی تیاری کے لیے یک روزہ میچوں میں مناف پٹیل کو شامل کیا گیا۔ یہ سیریز جنوبی افریقہ میں ہونے والی تھی۔ دوسرے میچ میں مناف پٹیل نے 29 رنز دے چار وکٹیں حاصل کیں۔
اس میچ میں مناف پٹیل نے وین پارنیل کی آخری وکٹ لے کر ہندوستان کو ایک رن سے فتح دلانے میں کامیاب رہے، اور مین آف دی میچ سے نوازے گئے۔
انگلینڈ کے خلاف میچ میں پٹیل نے کیون پیٹرسن کو اپنی ہی گیند پر کیچ کرکے آؤٹ کیا اور ایک بہترین افتتاحی اشتراکی اننگ کو توڑا۔ مناف پٹیل نے موہالی میں انگلینڈ کے خلاف کھیلا، اور انگلینڈ میں ورلڈ کپ میچ کے فائنل میچ کا حصہ بھی رہے۔ مناف پٹیل آخری مرتبہ 2011 میں انگلینڈ کے دورے پر ٹیم انڈیا میں شامل تھے۔
مناف پٹیل نے اپنا پہلا میچ 9 مارچ 2006 میں انگلینڈ کے خلاف کھیلا۔ اور آخری ٹیسٹ میچ 3 اپریل 2008 میں نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلا۔
پہلا یک روزہ بین الاقوامی میچ 3 اپریل 2008 میں انگلینڈ کے خلاف کھیلا۔ اور آخری یک روزہ میچ 3 ستمبر 2011 کو انگلینڈ کے خلاف کھیلا۔
پہلا ٹی20 میچ 9 جنوری 2011 کو جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلا۔ اور آخری ٹی20 میچ 31 اگست 2011 میں انگلینڈ کے خلاف کھیلا۔
آئی پی ایل میں 10-2009 راجستھان رائلز, 13 -2011 ممبئی انڈین، 2017 میں گجرات لائنس، 2020 میں کینڈی ٹسکرس کے لیے کھیلا۔
تیرہٹیسٹ میچوں میں ایک سکسر اور سات چوکے کے ذریعے 60 رنز بنائے، بہترین اسکو رہا 15 رنز۔ گیند بازی میں 35 وکٹیں حاصل کیں۔ گیند بازی میں بہترین کارکردگی رہی 25 رنز کے عوض چار وکٹیں اور چھ کیچیز۔
ستر یک روزہ بین الاقوامی میچوں میں 74 رنز بنائے اس میں بھی بہترین اسکور 15 رنز رہا۔ گیند بازی میں 86 وکٹیں حاصل کیں اور بہترین گیند بازی رہی 29 رنز کے عوض چار وکٹیں اور گیارہ کیچیز۔
ایک سو ایک ٹی20 میچوں میں 104 وکٹیں اور بہترین کارکردگی رہی 21 رنز کے عوض پانچ وکٹیں۔ دو مرتبہ چار وکٹیں اور ایک مرتبہ پانچ وکٹوں کو نشانہ بنایا۔ بلے بازی میں 47 رنز بہترین کارکردگی رہی 23 رنز ناٹ آؤٹ پانچ چوکوں کے ساتھ اور 21 بیش قیمتی کیچیز۔
ساٹھ فرسٹ کلاس میچوں میں 611 رنز بنائے جس میں ایک نصف سنچری بھی ہے، اور بہترین اسکور رہا 78 رنز۔ گیند بازی میں 92 وکٹیں، سات مرتبہ پانچ وکٹیں اور ایک مرتبہ دس وکٹوں کا ریکارڈ بھی قائم ہے۔ بہترین گیند بازی رہی 150 رنز کے عوض چھ وکٹیں اور 27 کیچیز۔
سال 2018 میں کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔


