جنتی خوشبو,کستوری اور اس کے فوائد✍️محمود اختر
اصل کستوری کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ اگر سوئی کو دھاگے سمیت لہسن کی پوتھی سے گزارا جائے
Deer musk کستوری کو دل و دماغ کی ادویات میں جزو اعظم کی حیثیت حاصل ہے۔ ماہرین طب نے اس کی بہت تعریف کی ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہر میدانی ہرن سے نافہ یا مشک کی تھیلی حاصل ہو سکتی ہے اور ایک خاص قسم کی بلی سے بھی نافہ نکلتا ہے۔ یہ خیال غلط ہے۔ اس غلط فہمی کو دور کرنے اور قارئین کی معلومات کیلئے اس مضمون کو پیش کیا جا رہا ہے۔ کستوری ایک نہایت ہی قیمتی اور کار آمد مرکب ہے اسے مختلف ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ مردانہ کمزوری کو دور کرنے والی اکثر ادویات میں استعمال ہوتی ہے بہت سے ملکوں میں کستوری سے عطر تیار کیا جاتا ہے۔ اس عطر کی خوشبو نہایت فرحت بخش اور دیرپا ہوتی ہے۔
اصل کستوری کی پہچان: اصل کستوری کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ اگر سوئی کو دھاگے سمیت لہسن کی پوتھی سے گزارا جائے اور پھر اس سوئی دھاگے کو نافے سے گزارا جائے اور لہسن کی بو غائب ہوجائے تو سمجھ لیں کہ کستوری خالص ہے۔ کستوری چونکہ بہت قیمتی اور نایاب ہے اس لئے نافہ میں خشک خون یا خشک کلیجی کا سفوف نافے میں وزن بڑھانے کے لئے ملادیا جاتا ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ ہر میدانی ہرن کے نافے سے مشک کی تھیلی برآمد ہوتی ہے۔ یاپھر ایک خاص قسم کی میدانی بلی سے بھی نافہ نکلتا ہے۔ اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے یہ مضمون پیش کیا جارہا ہے۔ کستوری والا ہرن خاص جنگلوں میں آٹھ سے دس فٹ کی بلندی پر پایا جاتا ہے۔
چین، نیپال، گلگت اور اور روس کے بالائی پہاڑی علاقوں میں یہ ہرن پایا جاتا ہے۔ یہاں اسکی باقائدہ فارمنگ کی جا رہی ہے۔ یہ بھورے رنگ کا ایک چھوٹا سا ہرن ہے۔ جس کے بال بھورے اور گھاس کی طرح ہیں۔ اس کے کان کافی لمبے قد ڈھائی تین فٹ اور اگلی ٹانگیں چھوٹی اور پچھلی ٹانگیں لمبی ہوتی ہیں۔ نر ہرن کے منہ سے دو دانت نکل کر نچلی طرف بڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔ مادہ کے دانت ایسے نہیں ہوتے۔ کستوری صرف نر سے نکلتی ہے۔ جو اس کی ناف میں تھیلی کی شکل میں ہوتی ہے۔ حلال کرنے سے پہلے فوری طور پر اسے رسی سے باندھ دیا جاتا ہے تاکہ خون میں تحلیل نہ ہو۔ کستوری کلیجی کے رنگ جیسی گاڑھے سے محلول کی شکل میں ہوتی ہے جو کہ نکالنے کے بعد چند منٹوں میں جم کر سخت ہوجاتی ہے۔ ناف میں بال نماء تھیلی کو بمعہ کھال کاٹ کر محفوظ کر لیا جاتا ہے۔
کستوری والے ہرن کا شکار: اس ہرن کا شکار دشوار بھی ہے اور تجربہ کاروں کیلئے آسان بھی۔ جس جھاڑی یا چٹان کے نیچے یہ رہائش رکھتا ہے وہ جگہ نہایت صاف ہوتی ہے۔ فضلہ اپنی رہائش سے دور ڈالتا ہے۔ جس چٹان کے ساتھ رہتا ہے بڑی خوبصورتی سے اسی کا حصہ بن جاتا ہے۔ اور زمین کے ساتھ زمین، نا واقف شکاری پاس سے گزر جاتا ہے یہ ہرن اپنا بسیرہ جھاڑی دار جنگل میں برف کے نزدیک کرتا ہے۔ تجربہ کار شکاری چار پانچ ساتھیوں کے ساتھ خود نالے کے منہ پر اور ساتھیوں کو نالے کے نیچے بٹھا دیتا ہے۔ ایک بالکل تہہ میں جبکہ باقی نالے کے کناروں پر بیٹھ جاتے ہیں۔ تہہ والا آدمی زور سے ڈندا درخت پر مارتا ہے۔ ہرن اپنی پناہ گاہ سے نکل کر بھاگتا ہے۔
دائیں اور بائیں والے آدمی بھی اسی طرح ڈنڈے درخت پر مارتے ہیں اور ہرن سیدھا دہانے پہ بیٹھے شکاری کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ عام طور سے ان علاقوں میں شکاری چوری چھپے کستوری کی تلاش میں شکار کرتے ہیں۔ اس کا شکار ہر ملک میں ممنوع ہے اور سخت سزا دی جاتی ہے۔ کستوری چونکہ سونے سے بھی دگنے داموں بکتی ہے اس لئے شکاری پیسے کی وجہ سے اسے مارتے ہیں۔ اس ہرن کی تعداد باوجود پابندی کے بہت کم ہوچکی ہے۔ چین میں باقائدہ فارم ہیں جہاں کستوری وقت مقررہ پہ سرنج کے ذریعے نکال لی جاتی ہے۔ دوسرے سال پھر کستوری ناف میں پک جاتی ہے۔ تب ہرن اسے سورج سے گرم شدہ پتھروں پر رگڑتا ہے۔ حتیٰ کہ یہ پھوڑا نما بال پھٹ کر چٹانوں پر بہہ جاتا ہے پرانے وقتوں میں شکاری لوگ چٹانوں سے کھر چ کر یہ بھی بطور تحفہ دیا کرتے تھے۔



