’آبروئے ملت بیضا بہن مسکان ہے ‘ مسکان خان نے وائرل ویڈیو کی حقیقت بتاکر شرپسندوں کی حقیقت بیان کی
نئی دہلی، 9فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کرناٹک میں حجاب تنازعہ کے درمیان جس شیر دل مسلم لڑکی کی تصویر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ اس باحجاب لڑکی کے گرد بھگوا دھاری مبینہ طلبہ کا ہجوم راستے روکے جے شری رام کا نعرہ لگارہاہے ۔لیکن ان کے ہجوم کو اور ان کے جے شری رام کے نعروں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نہایت ہی شجاعت اور دلیری کے ساتھ ڈٹی رہتی ہے ۔
اس دلیر ، بہادر لڑکی کی ویڈیو ملک و بیرون ملک میں تیزی سے وائرل ہورہی ہے ۔حتیٰ کہ غیر ملکی میڈیا ہاؤسز الجزیرہ، ٹی آرٹی ورلڈ، العربیہ ڈاٹ کام وغیرہ نے بھی اسے اپنی نشریات میں جگہ دی ہے ۔ اب ہر کوئی جاننا چاہتا ہے کہ یہ بہادر لڑکی کون ہے ؟
جس نے لڑکوں کے گھیرے میں آنے کے بعد بھی ہمت نہیں ہاری اور مخالف نعرے کا جواب ’’اللہ اکبر ‘‘سے دیا ،اس شیردل بہادر لڑکی کا نام مسکان بنت محمد حسین ہے ۔اس سلسلے میں جب مسکان سے پوچھا تو مسکان نے کہا کہ میں کالج اسائنمنٹ جمع کرنے کیلئے گئی تھی ، وہ مجھے اندر نہیں جانے دے رہے تھے کیونکہ میں نے حجاب پہن رکھا تھا۔
ان لوگوں نے کہا کہ پہلے برقعہ اتارو پھر اندر جاؤ۔ جب میں دوبارہ وہاں گئی، تو لڑکوں نے مجھے گھیر لیا اور جئے شری رام کا نعرے لگانے لگے، تو اس کے جواب میں نے بھی اللہ اکبر کا نعرہ لگایا۔مسکان بتاتی ہیں کہ میرے استاد اور پرنسپل نے میراتعاون کیا ، انہوں نے مجھے ہجوم سے بچایا۔
مسکان بتاتی ہے کہ جب اسے گھیر لیا گیا تو اس میں کالج کی بہت سی طالبات تھیں،اِن میں ایسے بہت ایسے مبینہ طلبا تھے، جو باہر سے آئے تھے ،یہ لڑکے یہ کر رہے تھے کہ جب تک ہم برقعہ نہیں اتاریں گے ہم بھی بھگوا دھارن کرتے رہیں گے۔
واضح ہو کہ لڑکی کا ویڈیو سامنے آنے کے بعد معروف سیاستداں اسدالدین اویسی نے بھی تعریف کی ہے۔ اسد الدین اویسی نے کہا کہ میں بچی کے والدین کو سلام پیش کرتا ہوں، اس لڑکی نے ایک مثال قائم کر دی ہے۔
اس لڑکی نے بہت سے کمزور لوگوں کو پیغام دیا ہے۔کرناٹک میں اس واقعہ کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد مسکان سوشل میڈیا پر چھائی ہوئی ہے، وہ حجاب کے خلاف جاری احتجاج کا آئی کن بن گئی ہیں۔
مسکان کو لے کر سوشل میڈیا پر کئی میمز اور پوسٹر وائرل ہو رہے ہیں، لوگ مسکان کی بہادری کو سلام پیش کر رہے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ برقع پہنتی رہیں گی،یکم جنوری کو اڈوپی کے گورنمنٹ پری یونیورسٹی کالج میں چھ مسلم طالبات کو کلاس میں جانے سے روک دیا گیا تھا، یہ تمام لڑکیاں حجاب پہنے ہوئے تھیں۔
واضح ہو کہ مسکان خان کی اس بے مثال عزیمت ، بہادری اور دلیری پر جمعیۃ علماء (محمود مدنی ) نے ۵؍لاکھ روپے بطور انعام دینے کا اعلان کیا ہے ۔



