قومی خبریں

مسلم تنظیمیں آر ایس ایس کے ساتھ گفت و شیند جاری رکھنے کی خواہشمند

مسلم تنظیموں کا موقف ہے کہ آر ایس ایس کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے

نئی دہلی، 5فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) مسلم تنظیموں کا موقف ہے کہ آر ایس ایس کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے اور دونوں برادریوں کے درمیان تنازعات کو جلد حل کیا جانا چاہیے۔ آئی اے این ایس کے مطابق جماعت اسلامی ہند، جس کے نمائندے نے آر ایس ایس کے رہنماؤں سے ملاقات کی تھی۔ کہاکہ ہماری رائے ہے کہ آر ایس ایس کے ساتھ بات چیت جاری رہنی چاہیے کیونکہ ان کا حکومت پر اثر ہے۔انہوں نے اپنی وضاحت میں کہاکہ ہم تنازعات نہیں چاہتے، اس لیے ہمیں امید ہے کہ بات چیت کا مثبت نتیجہ نکلے گا۔ایک اور مسلم دانشور نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ گائے کے ذبیحہ کے معاملے پر برادری کو تفصیلی ردعمل دینا چاہیے، کیونکہ معاملات میں مسلمان ملوث نہیں ہیں اور یہ اب ایک تجارتی مسئلہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لکھنؤ میں ہونے والی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی میٹنگ میں اس مسئلہ پر بحث ہونے کا امکان ہے۔

خیال رہے کہ ممتاز مسلم شہریوں اور مذہبی تنظیموں نے 14 جنوری کو دہلی کے سابق ایل جی نجیب جنگ کی رہائش گاہ پر آر ایس ایس لیڈر اندریش کمار سے ملاقات کی تھی اور فرقوں کے درمیان ہم آہنگی کے مسئلہ پر بات چیت کی تھی۔مسلم فریق کی نمائندگی جماعت اسلامی کے رہنما محتشم خان نے کی۔ میٹنگ میں جمعیۃ علما ہند کے دونوں دھڑوں کے رہنما موجود تھے، جن میں نیاز فاروقی، فضل الرحمن قاسمی، شاہد صدیقی اور ایس وائی قریشی شامل تھے۔ نجیب جنگ کے ساتھ میٹنگ میں اے ایم یو کی ممتاز شخصیت اور درگاہ اجمیر شریف کے نمائندے سلمان چشتی بھی موجود تھے۔

ذرائع نے بتایا کہ مسلم فریق آر ایس ایس اور اس سے وابستہ تنظیموں سے لنچنگ کے خلاف اپیل چاہتا ہے اور یہ بھی چاہتا ہے کہ حکومت ٹی وی پر نفرت پر مبنی پروپیگنڈہ بند کرے۔ آر ایس ایس کی نمائندگی اندریش کمار، کرشنا گوپال اور رام لال نے کی۔آر ایس ایس نے گائے کے ذبیحہ اور ہندوستان میں اکثریت کے لیے لفظ کافر کے استعمال کا مسئلہ اٹھایا۔ مسلم فریق نے کہا کہ گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے تاکہ اس معاملے پر یکساں قانون ہو اور وہ اپنی برادری سے کہیں گے کہ وہ لفظ کافر کا استعمال عوامی طور پر نہ کریں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button