مسلم معاشرہ کہاں جا رہا ہے؟ شادیوں کا اسراف، قرض کا بوجھ اور سنتِ نبویؐ سے دوری-سید خالد محی الدین اسد
نکاح مشکل، رسمیں آسان: مسلم معاشرے کا تلخ سچ
ہندوستان میں تعلیمی اور معاشی لحاظ سے دیکھا جائے تو مسلمان بدھسٹوں سے بھی کمزور و پسماندہ ہیں۔ سچر کمیٹی اور رنگناتھ کمیشن کی رپورٹس میں واضح طور پر کہا گیا کہ مسلمان ملک میں سب سے غریب ہیں اور یہ ایک حقیقت بھی ہے۔ لیکن اگر کوئی غیر مسلم مسلمانوں کی شادی بیاہ اور دیگر تقاریب میں شرکت کر لے تو ہم یہ بڑی ذمہ داری سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ اس بات کو تسلیم نہیں کرے گا کہ مسلمان غریب ہیں۔
اس معاملہ میں وہ بیچارہ غیر مسلم بے قصور ہے، اس لیے کہ وہ مسلمانوں کی شادیوں میں ہونے والے بیجا اسراف سے یہ غلط اندازہ قائم کر لیتا ہے کہ ایسے لوگ، جن کی شادیوں میں تیس تیس ڈشس اور ان کے قائدین کی بیٹے بیٹیوں کی شادی میں ساٹھ ساٹھ ڈشس سے مہمانوں کی تواضع کی جاتی ہے، وہ کیسے سب سے غریب ہو سکتے ہیں۔
اس غیر مسلم بیچارے کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ ایک مسلم لڑکا ہو یا لڑکی، ان کی شادی پر سرپرست یا والدین کیسے قرض حاصل کرتے ہیں۔ اکثر تو سودی قرض کے دلدل میں دھنس جاتے ہیں۔ وہ بھی امیروں کی شادی بیاہ کی تقاریب اور اس میں ادا کی جانے والی غیر اسلامی و غیر شرعی رسومات سے متاثر ہو کر ان کے ہی نقش قدم پر چلنے لگتے ہیں اور پھر سودی قرض کے جال میں پھنس کر خود اپنا بیڑہ غرق کر لیتے ہیں۔
آج ہندوستان میں حیدرآباد شوگر یا ذیابیطس کا دارالحکومت بن گیا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ حیدرآباد میں امراض قلب کے مریضوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ امراض گردہ اور بلڈ پریشر، چاہے وہ لو ہو یا ہائی، میں مبتلا مریضوں کی تعداد بھی بڑی خطرناک تیزی کے ساتھ آگے بڑھتی جا رہی ہے۔ دیکھا جائے تو یہ سب کچھ شادی بیاہ، کھانے پینے اور سونے اٹھنے سے متعلق سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دوری کا نتیجہ ہے اور یہ بات بلا شک و شبہ و بلا جھجھک کہی جا سکتی ہے۔
اب تو خود ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ حیدرآباد میں لوگ کھا کھا کر مر رہے ہیں، حالانکہ لوگوں کو جینے کے لیے کھانا چاہیے۔ اگر مسلمانوں کو اپنی ابتر حالت بدلنا ہے، بیماریوں سے بچنا ہے تو پھر ہر معاملہ میں سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال رکھنا ہوگا۔ وقت کی پابندی کرنی ہوگی۔
رقعوں میں شادی کی جو تاریخ ہوتی ہے، دولہا اور دلہن اس کے دوسرے دن شادی کرتے ہیں کیونکہ رات بارہ بجے کے بعد نکاح ہوتا ہے۔ اگر مسجد میں نکاح ہو تو سمجھئے کہ بوڑھے و ضعیف مہمانوں کے ساتھ ساتھ خواتین اور بچوں کی حالت بری ہو جاتی ہے۔
دوسری طرف ہمارے شہر میں ایک نیا رجحان فروغ پا رہا ہے۔ مساجد (چند مخصوص مساجد) میں نکاح کی تقاریب منعقد کی جا رہی ہیں اور یہ سمجھا جا رہا ہے کہ ہم نے مسجد میں نکاح تو کر دیا، لیکن دولہے صاحب اور دلہن سج دھج کے رات دیر گئے 12 بجے شادی خانہ تشریف لاتے ہیں اور ان کی تاخیر کا خمیازہ مہمانوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔
افسوس اس بات کا ہے کہ وہ موسمی حالات کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں۔ رات بھر شادی خانوں میں وقت ضائع کر کے دولہا دلہن صبح کی اولین ساعتوں میں اپنے گھر پہنچ رہے ہیں۔ ایک طرف فجر کی اذان ہوتی رہتی ہے، دوسری طرف زندگی کے نئے سفر کا آغاز کرنے والے یہ جوڑے گھروں کو واپس ہوتے ہیں۔
ان کی زندگی کی شروعات سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہونے کے بجائے بینڈ باجوں، آتشبازی اور شور شرابہ سے ہوتی ہے۔ کئی مقامات پر بارات کے باعث ٹریفک میں غیر معمولی خلل بھی دیکھا گیا۔
اس برائی کو روکنے میں مساجد کمیٹیاں، قاضی صاحبان اور شادی خانہ کے ذمہ داران اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر مساجد کمیٹیاں، شادی خانہ کے ذمہ داران اور قاضی صاحبان رقعہ دیکھتے ہی ان لوگوں کو وقت کی پابندی کا عہد دلاتے ہیں اور شرعی شادیوں کی جانب راغب کرتے ہیں تو یہ یقیناً ملت اسلامیہ پر ایک بہت بڑا احسان ہوگا۔
خاص طور پر شادی خانہ کے ذمہ دار حضرات شادی خانہ بک کیے جانے کے دوران ہی دولہا اور دلہن والوں کو وقت کی پابندی کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے باور کروائیں کہ رات 12 بجے سے قبل شادی خانہ خالی کر دیں، تو اس سے معصوم بچوں، بڑے بوڑھوں، ملازمت پیشہ مرد و خواتین اور بیماروں کو بڑی راحت ہوگی۔
اس معاملہ میں پولیس کو بھی اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔ ملت کے ایک ہمدرد آئی ٹی ماہر نے ایک اچھا مشورہ دیا کہ شادی خانوں میں شادی اور ولیمہ کے موقع پر چائے پان کے خصوصی اسٹالس قائم کیے جاتے ہیں، جبکہ شادی خانوں میں عارضی فارمیسی قائم کی جانی چاہیے۔ اس لیے کہ لوگ دولہا، دلہن کے تاخیر سے آنے کی وجہ سے وقت پر کھانا نہیں کھاتے، نتیجہ میں کسی کی شوگر گر جاتی ہے تو کسی کا بی پی۔
ہم نے ایسی شادیاں بھی دیکھی ہیں جہاں آتشبازی اور بینڈ باجے کے شور کے درمیان دولہے کا ایک قریبی رشتہ دار ہارٹ اٹیک سے ہلاک ہو گیا، جبکہ شادی کی ایک اور تقریب میں دولہا دلہن کو پھولوں کے ہار پہنانے کے لیے کرین کا استعمال کیا گیا۔ اس طرح کی غیر شرعی حرکتوں کے ذریعہ لوگ آخر دوست احباب اور معاشرہ کو کیا پیغام دینا چاہ رہے ہیں۔
حیدرآباد کی شادیوں میں شادی سے پہلے اور شادی کے بعد شوٹنگ (تصاویر کشی) کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے جس سے بے پردگی اپنے نقطہ عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ولیمہ کے موقع پر دولہا، دلہن کی انٹری (داخل ہونے کا انداز) بھی بڑی عجیب و غریب ہو رہی ہے۔ اسٹیج پر کشیف بادل دکھانے کے لیے کیمیائی مادوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
اب لوازمات کی طرف چلتے ہیں۔ ٹھیک ہے اللہ نے دیا ہے تو مہمان نوازی کیجئے، لیکن افسوس کہ دعوت کے موقع پر اپنے غریب رشتہ داروں، دوستوں اور پڑوسیوں کو بری طرح نظر انداز کر دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ وہی غریب ہوتے ہیں جو کسی بھی ناگہانی وقت پر مدد کے لیے سب سے پہلے پہنچ جاتے ہیں۔
جہاں تک لوازمات کا معاملہ ہے، ہمارے شہر میں ایسی شادیاں ہو رہی ہیں کہ اگر ان میں مصارف کم کیے جائیں تو کم از کم 3 تا 5 غریب لڑکیوں کی بآسانی شادیاں ہو سکتی ہیں۔
اس معاملہ میں علماء، مشائخین، سیاسی قائدین، قاضی صاحبان اور مساجد کی انتظامی کمیٹیوں کے عہدیدار اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور ملت تک یہ پیغام پہنچا سکتے ہیں کہ شادیاں سادگی سے انجام دیں، کیونکہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو یہ ہدایت دی ہے، یہ حکم دیا ہے کہ نکاح کو آسان بنائیں اور زنا کو مشکل۔
آج نکاح کو مشکل بنانے کے نتیجہ میں ہماری بیٹیاں غیروں کے گھروں کی زینت بن رہی ہیں اور ہزاروں لڑکیاں ایسی ہیں جو شادی نہ ہونے کے باعث سسک سسک کر دولہن بننے کے ارمان میں دم توڑ رہی ہیں۔



