سرورققومی خبریں

مسلمان متعدد بیویاں رکھنے کے مجاز،لیکن آپس میں مساوات لازمی: مدراس ہائی کورٹ

بیوی کا صحیح خیال رکھنا شوہر کا فرض ہے۔

چنئی، 29دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) مدراس ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ مسلم مردوں کو شرعی طریقۂ کار کے بموجب تعدد ازدواج کا حق ہے، لیکن انہیں تمام بیویوں کے ساتھ یکساں سلوک کرنا ہوگا۔ اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے تو یہ ظلم کے مترادف ہوگا۔ بیوی کا صحیح خیال رکھنا شوہر کا فرض ہے۔ اس معاملے میں ہائی کورٹ نے فیملی کورٹ کے اس فیصلے کو بحال کر دیا ہے ،جس میں ظلم کی بنیاد پر پہلی بیوی کے حق میں طلاق کا حکم نامہ منظور کیا گیا تھا۔ہائی کورٹ نے اس بات کا نوٹس لیا کہ شوہر اور اس کے اہل خانہ نے ابتدائی طور پر پہلی بیوی کو ہراساں کیا۔ حمل کے دوران بھی اس کا مناسب علاج نہیں کیا گیا۔ اس سے تنگ آ کر پہلی بیوی نے سسرال کا گھر چھوڑ دیا۔

بعد میں مسلمان شخص نے دوسری شادی کر لی اور اپنی دوسری بیوی کے ساتھ رہنے لگا۔ہائی کورٹ نے کہا کہ مرد نے اپنی پہلی بیوی اور دوسری بیوی کے ساتھ ایک جیسا سلوک نہیں کیا، جب کہ اسلامی قانون کے تحت مرد کے لیے اپنی بیویوں کے ساتھ ایسا سلوک کرنا فرض ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ ظلم کے معاملات میں عدالت کو ازدواجی تعلقات کی بحالی کا حکم دینے سے پہلے دیگر حالات پر بھی غور کرنا چاہیے۔اس کے ساتھ ہی عدالت نے ایک شخص کی درخواست کو مسترد کر دیا، جس میں اس نے خاندانی عدالت کی جانب سے اپنی علیحدگی اختیار کرنے والی بیوی کی درخواست پر اس کی شادی کو تحلیل کرنے کو چیلنج کیا تھا۔

جسٹس سومترا دیال سنگھ اور شیو شنکر پرساد کی ڈویژن بنچ نے ہیمسنگ عرف ٹِنچو کی طرف سے دائر پہلی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ظلم ثابت ہونے کے بعد طلاق کی درخواست کی جا سکتی ہے۔ تاہم، اس کے بعد فریقین اپنے آپ کو کیسا سلوک کریں گے ،یہ ایک متعلقہ حقیقت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button