پوکسو ایکٹ کی زد سے باہر نہیں مسلمان:کیرالہ ہائی کورٹ
جسٹس راجندر بادامیکر نے اس دلیل کو مسترد کر دیا کہ مسلم پرسنل لاء نابالغ لڑکی کو 15 سال کی عمر کے بعد شادی کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
کوزی کوڈ، یکم نومبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کیرالہ ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ مسلم کمیونٹی بھی پوکسو ایکٹ کے زد سے باہر نہیں ہے۔ یقینا اس کا پرسنل لا 15 سال سے زیادہ عمر کی لڑکی سے شادی اور جسمانی تعلقات کی اجازت دیتا ہے۔جسٹس راجندر بادامیکر نے اس دلیل کو مسترد کر دیا کہ مسلم پرسنل لاء نابالغ لڑکی کو 15 سال کی عمر کے بعد شادی کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ ایسی صورتحال میں اس کے خلاف پوکسو ایکٹ کے ساتھ بچوں کی شادی کی روک تھام کا قانون لاگو نہیں ہوتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ پوکسوایک خصوصی ایکٹ ہے۔ اس لیے ان دلائل کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ پوکسوایکٹ مسلم پرسنل لا ء کے دائرہ سے باہر ہے۔ جنسی ملاپ کی عمر 18 سال سے اوپر مقرر کی گئی ہے۔
عدالت ایک ایسے معاملے میں ضمانت کی درخواست کی سماعت کر رہی تھی جس میں ایک مسلمان شخص پر ایک نابالغ مسلم لڑکی کو حمل ٹھہرانے کا الزام لگایا گیا تھا۔ ملزم کیخلاف پوکسو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ پولیس کے ایس آئی کی شکایت پر ملزم کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔پولیس نے میڈیکل رپورٹ کے بعد ہی ایف آئی آر درج کی تھی۔ ملزم کے خلاف پریونشن آف چائلڈ میرج ایکٹ کی دفعہ 9 اور 10 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔ اس کے خلاف پوکسوایکٹ کی دفعہ 4 اور 6 کے تحت بھی الزامات ہیں۔



