سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

پندرہ اگست-حضرت حبیب الامتؒ

مسلمانوں کی قربانیاں اور ہندوستان کی آزادی میں کردار

مسلمان کی زندگی اور عبادت

مسلمان کی زندگی کا ہر لمحہ اور ہر موقع، جو قرآن و سنت کے مطابق گزارا جائے، عبادت ہے۔ مسلمان کا سونا، جاگنا، اٹھنا اور بیٹھنا، دوستی اور دشمنی، اگر اللہ کے لئے ہو تو یہ بھی عبادت ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے عبادات، احکامات اور زندگی کے اصول امتِ محمدیہ کو عطا فرمائے اور بتایا کہ تمہارا ہر کام عبادت بن سکتا ہے، بشرطیکہ وہ قرآن و سنت کے اصول پر ہو۔

مسلمان کو دیگر فرائض و واجبات کی تعلیم کی طرح اس بات کی بھی تعلیم دی گئی کہ اپنے ملک اور قوم کی خدمت کا فریضہ انجام دیں۔ ملک اور قوم کی خدمت اگر حضرت رسول اللہ ﷺ کی تعلیم کے مطابق ہو تو یہ بھی عبادت ہے۔


دو آنکھوں پر جہنم کی آگ حرام ہے

حدیث پاک کے مطابق دو آنکھیں ایسی ہیں جن پر جہنم کی آگ حرام ہے:

  1. وہ آنکھ جو اللہ کے ڈر سے روئے۔
    اللہ تعالیٰ نے اس آنکھ پر جہنم کی آگ کو حرام کر دیا ہے۔ اسی لئے صحابہ کرامؓ جب اللہ کے خوف سے روتے تھے تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے تھے اور وہ ان آنسوؤں کو اپنے چہروں پر مَل لیا کرتے تھے۔ حضور اکرم ﷺ کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ آنسوؤں کا وہ قطرہ جو اللہ کے خوف سے آنکھ سے نکلے، جہاں بھی لگے گا، جہنم کی آگ اس پر حرام ہو جائے گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ خوفِ خدا سے رونا اور آنکھوں میں آنسو آ جانا اللہ کو بہت زیادہ پسند ہے۔

  2. وہ آنکھ جو سرحد اور ملک کی حفاظت کرے۔
    ایک آدمی تہجد کی نماز میں اللہ کے سامنے گڑگڑا رہا ہے، فریاد کر رہا ہے، رو رہا ہے، اور دوسرا آدمی اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر سرحد کی حفاظت کر رہا ہے۔ علماء فرماتے ہیں کہ اس تہجد پڑھنے والے کے مقابلے میں سرحد کی حفاظت کرنے والا ہزاروں درجے فضیلت رکھتا ہے۔


ملک کی حفاظت اور مسلمانوں کا کردار

حضور اکرم ﷺ نے ہمیں اپنے ملک کی حفاظت کا سبق دیا ہے کہ آدمی نماز اور عبادت کے ساتھ وطن کی محبت بھی اپنے دل میں پیدا کرے۔ آج اپنے مذہبی فرائض کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ امت سماجی اور معاشرتی معاملات میں غور کرے اور اپنے ملک کی حفاظت کے لئے جو ضروری ہو، وہ کرے۔

ہندوستان کو آزاد ہوئے تقریباً 78 سال ہو گئے ہیں اور ابھی تک مسلمان اپنا حق حاصل نہیں کر سکے۔ یہ اگست کا مہینہ ہے، مساجد میں جمعہ کے دن دینی بات کے ساتھ قوم اور سماج کے متعلق بھی وعظ و نصیحت ہوتی ہے۔ 15 اگست کو ہندوستان کی آزادی کا جشن منایا جاتا ہے۔

ملک کسی مکان کا نام نہیں، ملک اللہ کا ہے:

وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْض وَمَا فِیْھِنَّ
’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے، سب کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے۔‘‘

ہندوستان کے مسلمانوں نے اس ملک کی ترقی کے لئے بہت کچھ کیا ہے۔ 1857ء کے غدر سے لے کر آج تک اس ملک کی تعمیر اور ترقی میں مسلمان اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کا فتویٰ

شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ نے دیکھا کہ انگریز مسلمانوں کی بیخ کنی پر اتر آیا ہے۔ مساجد و مدارس کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، اسلام کو مٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور قرآن کے مقابلے میں بائبل کو لایا جا رہا ہے۔ اس وقت حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ نے فتویٰ صادر فرمایا کہ انگریز کے خلاف جہاد کیا جائے اور اس کی حکومت کو یہاں سے مٹا دیا جائے، بالکل ختم کر دیا جائے۔

سرزمینِ کرناٹک کے سپوت حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ نے آزادی کا پرچم لہرایا اور سارے ہندوستان کی قوتوں کو دعوت دی کہ ہم اس حال میں بھی انگریز کے خلاف لڑ سکتے ہیں۔ حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ نے آخری سانس تک اسلام دشمن قوتوں کو بھگانے اور اپنے ملک سے نکالنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔


آزادی کی تحریک اور قربانیاں

اس کے بعد ملک کے کونے کونے میں بہت سے حالات اور انقلاب آئے۔ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کے فتوے کے بعد حضرت سید اسماعیل شہیدؒ اور پھر حضرت مولانا محمودالحسن شیخ الہندؒ کی ریشمی رومال تحریک اسی انداز سے چلی۔ یہاں تک کہ رنگون میں آپ کو انگریزوں نے گرفتار کیا اور مالٹا کی جیل میں تقریباً ساڑھے تین سال تک رکھا۔ اس دوران آپ کو بے انتہا اذیتیں دی گئیں۔

حضرت شیخ الہندؒ کا انتقال ڈاکٹر مختار انصاری کے گھر دہلی میں ہوا۔ جب آپ کو نہلایا جانے لگا اور آپ کی پیٹھ اور کمر کو دیکھا گیا تو وہاں گوشت نہیں تھا بلکہ زخموں کے داغ تھے اور صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ باقی رہ گیا تھا۔ ڈاکٹر مختار انصاری نے روتے ہوئے کہا کہ حضرت کو مالٹا کی جیل میں اتنی تکلیف دی گئی کہ آپ کی پیٹھ کو داغا جاتا تھا یہاں تک کہ گوشت پگھل گیا۔


شیخ الہندؒ کے ارشادات

تین سال بعد حضرت کو مالٹا کی جیل سے رہائی ملی۔ ہندوستان واپس آکر فرمایا: "ہم نے جیل میں رہ کر دو باتیں سیکھی ہیں۔ ایک یہ کہ مسلمانوں میں حد درجہ اتفاق و اتحاد ہونا چاہیے اور آپسی رنجش و کدورت کو ختم کرنا چاہیے، تاکہ ایک ہو کر ملک و ملت کے لیے کام کیا جا سکے۔ دوسرا یہ کہ ہندوستان بھر میں قرآن کریم کے مکاتب اور مدارس قائم کیے جائیں۔”

تاریخ میں ہے کہ انگریز حکومت نے ہندوستان کے تقریباً 80 ہزار مدرسوں کو بند کرادیا۔ صرف دہلی کے اطراف میں دس ہزار مدرسے تھے جنہیں انگریزوں نے بند کرادیا۔ قرآن کریم کے بہت سے نسخے دریا برد کیے گئے اور صرف تین سال کے قلیل عرصے میں تین لاکھ قرآن کریم کے نسخے جلا کر خاکستر کر دیے گئے۔


مسلمانوں پر مظالم

حضرت شیخ الہندؒ کے زمانے میں آزادی کی جنگ زور و شور سے جاری تھی۔ یہ کوئی افسانہ نہیں کہ انگریز حکومت صرف مسلمانوں کی دشمن تھی کیونکہ ایک ہزار سال سے زائد مسلمانوں نے حکومت کی تھی اور انگریز نے مسلمانوں ہی سے اقتدار چھینا تھا۔ اس دوران 57 ہزار علماء کرام کو پھانسی پر لٹکایا گیا۔

لکھا ہے کہ دہلی سے لاہور تک ہائی وے پر کوئی درخت ایسا نہیں تھا جس پر کسی مسلمان کی نعش نہ لٹکی ہو۔ جن کے سر پر ٹوپی اور چہرے پر داڑھی دیکھی جاتی انہیں پکڑ لیا جاتا، الزام لگایا جاتا اور جیل بھیج دیا جاتا۔ جنگ آزادی میں دس لاکھ سے زائد مسلمان بچوں کو قتل کیا گیا۔ دو اور تین سال کے بچوں کو اس لیے قتل کر دیا جاتا کہ "یہ مسلمان کا بچہ ہے، بڑا ہو کر یہ بھی ہمارے خلاف غداری کرے گا”۔


مظالم کی دل خراش داستان

مولانا اسیر ادرویؒ نے لکھا ہے کہ لال قلعہ کے سامنے توپ نصب کی گئی تھی۔ لوگوں کو لایا جاتا، توپ میں باندھ دیا جاتا اور پھر توپ داغی جاتی تو پرخچے اڑ جاتے، قیمہ قیمہ ہو جاتا، سر دور جا گرتا تھا۔ ایسے وحشیانہ مظالم لاکھوں مسلمانوں کے ساتھ ہوئے، جو پڑھے لکھے لوگ، علماء اور دانشور تھے۔

ایسے لوگوں کو کالا پانی (انڈومان) بھیجا گیا۔ وہ حضرات جو اپنے نوکروں کے ساتھ عیش و آرام کی زندگی گزار رہے تھے، انگریزوں نے انہیں جیلوں میں ڈال کر آٹا پسوانا، چکی چلوانا اور نالیاں صاف کرانا شروع کر دیا۔ بڑے بڑے جید علماء، نواب اور مالدار ترین شخصیات جو تحریک آزادی میں شامل تھے، کالا پانی بھیج دی گئیں۔

مولانا حسرت موہانیؒ کو ایسی حالت میں دیکھا گیا کہ وہ گلی کوچوں کی نالی صاف کر رہے تھے، یہ کام انگریزوں نے ان کے سپرد کیا تھا۔ یہ ایسی داستانِ الم ہے کہ جب سنتے ہیں تو دل رونے لگتا ہے اور جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کبھی سوچئے کہ ہمارے بڑوں نے اس ملک کے لیے کتنی عظیم قربانیاں دی ہیں۔

مسلمان ملک میں برابر کا حق دار ہے

نوجوان نسل کو پتہ ہی نہیں کہ ہمارے بزرگوں نے اس ملک کے لیے کتنا خون دیا ہے۔ نوجوان سوچتے ہیں کہ یہ ملک ہندوؤں کا ہے، حکومت ہندوؤں کی ہے، لہٰذا ان کے سامنے دب کر رہنا چاہیے۔ یہ ذہن مسلم نوجوانوں کا بن رہا ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر احساسِ کمتری کے بجائے احساسِ برتری پیدا کریں۔ یہ بات سوچ لیں کہ جس طرح سے اس ملک پر ایک ہندو کا حق ہے، ایک عیسائی کا حق ہے، ایک سکھ کا حق ہے، اسی طرح مسلمان بھی اس ملک میں برابر کا حق دار ہے۔

مسلمانوں نے ملک کے لیے بڑی بڑی قربانیاں دی ہیں، اپنی جان، مال اور عزت و آبرو کو قربان کیا ہے۔ جب ملک تقسیم ہوا تو مسلمانوں کو جگہ جگہ خانہ جنگی کے ذریعہ قتل کیا گیا۔ ’’جب امرتسر جل رہا تھا‘‘ نامی کتاب پڑھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ 90 لاکھ مسلمانوں کو اس زمانے میں شہید کیا گیا، محض اس لیے کہ یہ مسلمان تھے۔ مسلمانوں نے اتنی بڑی قربانی دی مگر افسوس کہ ہمارے نوجوانوں کو معلوم نہیں کہ اس ملک کے لیے ہم نے بہت کچھ قربان کیا ہے۔ ہمارے بزرگوں نے اس ملک کی آزادی کی خاطر سو سال تک نسل در نسل اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔


مولانا عنایت علیؒ اور دوسرے علماء پر مظالم

مولانا عنایت علی صاحبؒ کلکتہ کے رہنے والے اور بہت بڑے نواب تھے۔ انگریز نے عید کے دن فجر کے بعد ان کو اور ان کے پورے گھر والوں کو حویلی سے نکال کر باہر کر دیا۔ ان کے لاکھوں کروڑوں روپے کے سامان میں سے ایک سوئی تک اٹھانے نہیں دی اور حویلی پر بلڈوزر چلا دیا۔ یعنی ایسے لوگ جو کروڑ پتی اور ارب پتی تھے، انگریزوں کے ظلم سے دانے دانے کے محتاج ہو گئے۔

یہ دو چار واقعات نہیں بلکہ ہزاروں واقعات ہیں۔ جس مسلمان کو دیکھا جاتا کہ یہ خوشحال ہے، اس کو پکڑتے اور بند کر دیتے اور پھر ان کے بیوی بچوں پر ظلم شروع کر دیتے، یہاں تک کہ ان کی جائیداد کو قرق کر لیا جاتا اور پھر جیل میں ڈال دیا جاتا۔ ایسا ایک دو سال نہیں بلکہ نوّے سال تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ ہمارے علماء اور رہنماؤں نے اس ملک کے لیے برابر قربانی دی۔


علماء کی قربانیوں کی داستان

آپ کو تعجب ہوگا کہ دہلی کی بادشاہی مسجد کے قریب ایک میدان ہے۔ ایک انگریز نے لکھا ہے کہ میرے سامنے چالیس علماء کو قیدی بنا کر لایا گیا اور ایک بہت بڑا کڑھاؤ، جس میں تیل پک رہا تھا، تیار کیا گیا۔ ایک عالم کو اس میں ڈال دیا جاتا اور دوسرے عالم سے کہا جاتا کہ دیکھو آزادی دلانے والوں کے ساتھ مت رہو ورنہ یہی حال ہوگا۔ اس نے لکھا ہے کہ چالیس علماء جل بھن کر راکھ ہو گئے لیکن کسی نے آزادی سے انحراف نہیں کیا۔

اب حالات یہ ہیں کہ ہمارے ملک کے اندر مسلمانوں کی قربانی کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔ جو نصاب ہمارے اسکولوں میں پڑھایا جا رہا ہے، وہی مسلم بچے جانتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آج اپنے مجاہدین اور شہداء کی تاریخ پڑھیں، ان کا مطالعہ کریں تاکہ معلوم ہو کہ ہندوستان میں مسلمانوں نے کس طرح سامراجی طاقتوں سے لوہا لیا۔

حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ

شملہ میں جلسہ ہورہا تھا۔ انگریز وائسرائے تقریر میں کہہ رہا تھا کہ ’’کون ہے جو ہمیں اس ملک سے نکال دے؟‘‘ اس کی بات پر سب خاموش تھے۔ شیخ الاسلام مولانا مدنیؒ، جو دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث تھے اور جنہوں نے چودہ سال تک مسجد نبوی میں درس دیا، کھڑے ہوگئے اور سینے کے بٹن کھول کر کہنے لگے: ’’اے بندر! تجھے اور تیری قوم کو ہندوستان سے ہم نکالیں گے۔‘‘ اس پر وائسرائے نے کہا: ’’آپ بیٹھ جائیے، میں آپ سے بات نہیں کر رہا ہوں۔‘‘

علماء دیوبند ملک کی تقسیم کے خلاف تھے۔ یہ ہمارے علماء کی قربانی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جانباز اور بے باک بنایا تھا۔ وہ سوائے خدا کے دنیا کی کسی بھی طاقت سے نہیں ڈرتے تھے، اور ہندوستان کو آزادی ہمارے علماء اور عوام، خصوصاً مسلم عوام نے دلائی ہے۔

لارڈ ماؤنٹ بیٹن ہندوستان کا آخری گورنر تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اگر ہندوستان تقسیم نہ ہوا تو آئندہ چل کر مسلمان اس ملک کے بادشاہ اور حکمراں بنیں گے۔ اسی لئے برٹش حکومت نے پالیسی بنائی کہ ملک کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جائیں تاکہ ہندوستان میں دوبارہ حکومت مسلمانوں کے ہاتھ نہ آئے۔ علماء دیوبند نے ہمیشہ ملک کی تقسیم کی مخالفت کی اور کہا کہ ہم ملک کی تقسیم نہیں چاہتے۔

لیکن محمد علی جناح کو خود انگریز اور فتنہ پرور عناصر نے ابھارا اور کہا کہ ’’تم ملک کا ایک حصہ لے لو اور اپنا الگ ملک بنا لو۔‘‘ حضرت مولانا ابوالکلام آزاد، جو ہندوستان کے سب سے پہلے وزیر تعلیم تھے، نے جامع مسجد دہلی کی سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر کہا:

’’اے میرے پیارے بھائیو! آج آپ لوگ اپنا وطن چھوڑ کر جا رہے ہیں، ایک وقت ایسا آئے گا کہ وہاں آپ کی قدر نہیں ہوگی اور آپ اور آپ کی نسلیں ہندوستان کو یاد کرکے روئیں گی۔‘‘ آج وہاں ایسا ہی ہو رہا ہے۔

الحمدللہ چھ کروڑ مسلمان ہندوستان میں رہ گئے تھے۔ علماء نے گاؤں گاؤں جا کر لوگوں کو روکا کہ ’’آپ اس ملک میں رہیں، ان شاء اللہ کچھ نہیں ہوگا، مستقبل اچھا ہے۔‘‘ اس وقت یہ عالم تھا کہ ہندوستان کی پولیس باضابطہ آر ایس ایس (جن سنگھ) کا ساتھ دے رہی تھی۔

ایک ایک گاؤں میں ایک ایک ہزار پولیس سپاہی داخل ہوتے اور باشندوں سے کہا جاتا کہ ’’ایک گھنٹے کا وقت دیا جارہا ہے، اس کے اندر گاؤں خالی کر دو۔‘‘ (یہ تو جنوب کا علاقہ ہے، یہاں تو معلوم نہیں ہوا)۔ چنانچہ جو کچھ سامان سمیٹ سکے، اور جو بھی بن پڑا لیا، وہ لے کر نکل گئے۔ پولیس جانوروں کی طرح ہنکا کر گاؤں سے نکال دیتی۔

جب وہ لوگ نئے ملک کی طرف سفر کرتے تو راستے میں ان کو سکھ قتل کردیتے، یہاں تک کہ ایک ہزار آدمیوں میں سے بمشکل پچاس آدمی وہاں پہنچتے۔

لہٰذا ہمیں یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ یہ ملک ہمارا ہے۔ اس ملک کے لئے ہم نے بے شمار قربانیاں دی ہیں، ملک کو ہم نے بنایا اور سنوارا ہے، اور یہاں ہمارے بزرگوں نے آئندہ کے لئے لائحہ عمل تیار کیا تھا۔

الغرض، 15 اگست کو ہندوستان کی آزادی کا جشن منایا جاتا ہے اور ہم خوش ہوتے ہیں کہ ہمیں آزادی مل گئی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک ہندوستانی مسلمانوں کو ان کے جائز اور ضروری حقوق نہیں مل سکے ہیں۔ مسلمان حکومت میں حصہ داری اور قانونی حیثیت سے اپنا حق چاہتا ہے، جمہوریت کو مضبوط کرنا اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن دیکھنا چاہتا ہے، مگر فتنہ پرور عناصر ملک اور اس کی گنگا جمنی تہذیب کو مسلسل نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بزرگوں کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

متعلقہ خبریں

Back to top button