سرورققومی خبریں

مظفرنگر میں مسلم بچے کی پٹائی معاملہ,محکمہ تعلیم کی کارروائی،تحقیقات مکمل ہونے تک اسکول کو بند رکھنے کی ہدایت

تحقیقات مکمل ہونے تک اسکول کو بند رکھنے کی ہدایت جاری

مظفر نگر، 27اگست :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) ہوم ورک نہ کرنے پر مسلم بچے کی کلاس کے دوسرے طلبا سے پٹائی کے معاملہ میں محکمہ تعلیم نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے اسکول (نیہا پبلک اسکول) سے جواب طلب کیا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے تک اسکول کو بند رکھنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق منصورپور کے اسکول میں طالب علم کی پٹائی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد محکمہ تعلیم کی جانب سے اسکول کا رجسٹریشن منسوخ کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔اس کے ساتھ ہی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اسکول کا رجسٹریشن منسوخ کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ محکمہ تعلیم نے اس حوالہ سے بھی نوٹس بھیج دیا ہے۔ محکمہ تعلیم نے اسکول کے معیار کے حوالے سے کئی نکات پر جواب طلب کر لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تحقیقات مکمل ہونے تک اسکول بند کرنے کے احکامات بھی دیے گئے ہیں۔

بی ایس اے نے کہا کہ اسکول نہیں چلایا جاسکتا، بلاک ایجوکیشن آفیسر اسکول کے طلبہ کو دوسرے اسکول میں داخل کرائے گا۔خیال رہے کہ منصورپور کے اسکول میں مسلم بچے کی پٹائی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ریاستی حکومت کو تنقید کا سامنا ہے۔ پولیس نے اس معاملے پر ملزم خاتون ٹیچر کیخلاف ایف آئی آر بھی درج کر لی ہے۔ اس معاملے کے حوالے سے پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ کھباپور گاؤں میں واقع اسکول کی ٹیچر نے ہوم ورک نہ کرنے پر کلاس کے دیگر طلبا سے ایک طالب علم کی پٹائی کرانے اور اس کیخلاف قابل اعتراض تبصرے کرنے کے معاملہ میں بچے کے والد نے تحریر دی ہے۔وہیں، سوشل میڈیا پر ہنگامہ آرائی کے بعد ٹیچر ترپتا تیاگی نے اپنا بیان جاری کرتے ہوئے وضاحت کی۔ اس نے کہا کہ میرا مقصد کسی کے مذہبی اور سماجی جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں تھا، ویڈیو ایڈیٹ کرکے سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا ہے، میں معذور ہوں اس لیے بچوں کو کنٹرول کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا۔

مظفرنگر واقعہ: متأثرہ بچے کے تعلیمی اخراجات جمعیۃ علما کرے گی برداشت

نئی دہلی، 27اگست :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)مظفرنگر اسکول سانحہ پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا ارشدمدنی نے کہا ہے کہ یہ سانحہ اس بات کی علامت ہے کہ نفرت اپنے انتہاء پر جاپہنچی ہے، ماں کی گودکے بعد اسکول ہی وہ جگہ ہے جہاں بچے کی اخلاقی تربیت بھی ہوتی ہے۔ساتھ ہی مولانا مدنی کہا کہ اس بچے کے تعلیمی اخراجات جمعیۃ علما ہند برداشت کرے گی۔جاری ایک ریلیز کے مطابق انہوں کہا کہ بچہ جہاں بھی پڑھنا چاہے اس کے تمام اخراجات جمعیۃ علمائے ہند برداشت کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ مگر افسوس کہ پچھلے کچھ برسوں کے دوران ملک کے بے لگام اورمتعصب میڈیا اورفرقہ پرست عناصرنے مل کر فرقہ پرستی اورشدت پسندی کا جو زہر لوگوں کے دل ودماغ میں بھراہے اس سے ہمارے تعلیمی ادارے بھی اب محفوظ نہیں رہے اور مظفرنگر کا یہ سانحہ یہ بتاتاہے کہ اس ملک میں نفرت کی جڑیں گہری اورمضبوط ہوچکی ہیں۔

مولانا مدنی نے کہا کہ اگر بچے سے کوئی غلطی سرزدہوئی تھی تو اس کی سزا خودخاتون ٹیچر(جو ماں کے درجہ میں ہیں) دیتی توشاید اس پر کوئی توجہ نہ دیتالیکن اس طرح ایک مخصوص فرقہ کے بچے کو دوسرے فرقوں کے بچوں سے زدوکوب کرایا گیا یہ اپنے آپ میں ایک انتہائی شرمناک حرکت ہے اورایک ناقابل معافی جرم بھی ہے۔اس کی جس قدربھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ اسکول جیسی جگہ پرمعصوم بچوں کے اذہان میں نفرت اورامتیازکا زہر گھولنا استاذاورشاگردکے رشتے کو تارتارکردیتاہے۔انہوں نے مزیدکہا کہ ہر مذہب میں استاذکادرجہ بہت بلند ہے کیونکہ وہ بچوں کو اپنے کرداروعمل اورتعلیم سے ایک اچھا انسان بنانے کی کوشش کرتاہے،لیکن افسوس سپریم کورٹ کی باربارسرزنش کے باوجود میڈیا کے ذریعہ نفرت اورشدت پسندی کا جو سبق پڑھایا جارہا ہے اوراسی طرح فرقہ رپرست عناصر کھلے عام اشتعال انگیزی کرکے سماج میں فرقہ وارانہ صف بندی قائم کرنے کی کوششیں کرتے رہے ہیں وہ اب اپنی انتہاکو جاپہنچی ہیں اوراب دوسرے اداروں کی طرح تعلیمی اداروں میں بھی مذہبی تفریق پید اکی جارہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button