نئی دہلی13ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)بالی ووڈ #اداکار اورسلگتے مسائل پرمتنازعہ رائے دینے والے #نصیرالدین #شاہ کا کہنا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے ایک گروہ کی طرف سے طالبان کی مبینہ طور پر خوشی کا اظہار کرنے والے بیان کوغلط انداز میں پیش کیا گیا۔ نصیرالدین شاہ نے کہاہے کہ نفرت کے زہر کو ایسے ماحول میں آسانی سے ملایاجا سکتا ہے۔
اردودنیا ایپ انسٹال کے لیے کلک کریں
نصیرالدین شاہ نے کہاہے کہ میں نے پوری مسلم کمیونٹی کے بارے میں ایسی کوئی بات نہیں کہی لیکن انہیں دکھ ہے کہ بنیاد پرستوں نے اس کے لیے ان پر حملہ کیا۔ جبکہ انھوں نے پوری #مسلم کمیونٹی کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لیے کوئی بیان نہیں دیا۔نصیر الدین شاہ نے کہا کہ انہوں نے صرف #کمیونٹی کے کچھ افراد کے ایسا کرنے کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔
ان میں سے ایک مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن بھی تھے جنھوں نے کھل کر #طالبان کی حمایت کے بارے میں بیان دیا۔نصیرالدین شاہ نے کہاہے کہ لڑکیوں کی تعلیم ، لباس اور کھیلوں کے حوالے سے طالبان کے بیان پر یقین نہیں کیا جاسکتا کہ وہ جدیدیت کی راہ پر گامزن ہیں۔طالبان کی تاریخ ہمیں ان پر اعتماد کرنے کی کوئی بنیادنہیں دیتی۔
نصیر الدین شاہ نے کہا کہ مسلمانوں کے ایک طبقے کے بارے میں ان کے بیان کے لیے انہیں ہندو بنیاد پرستوں نے سپورٹ کیا اور وہ خوش ہیں کہ ایک مسلمان دوسرے کو کٹہرے میں کھڑا کر رہا ہے ، لیکن مجھے ان کی کسی #تعریف کی ضرورت نہیں ہے۔انھیں یقین ہے کہ طالبان اپنا موقف نہیں بدلیں گے اور اسی لیے انھوں نے اس مسئلے پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔
ایسے بہت سے لوگ ہو سکتے ہیں جو اس طرح سوچتے ہیں۔ طالبان نے پنج شیرپرقبضہ کر لیا ہے جو کہ پاکستان کے مقبوضہ کشمیر کے قریب ہے اور کون جانتا ہے کہ ان کا اگلا قدم کیاہو گا ۔ نصیر الدین نے کہاہے کہ ان لوگوں کو دیکھ کر دکھ ہوا جو ان کے بیان سے ناراض ہیں۔



