میانمار میں احتجاج جاری، مظاہرین پر تشدد، عالمی برادری کی مذمت

ینگون: (ایجنسیاں)میانمار میں فوج کے خلاف وسیع پیمانے پر مظاہرے جاری ہیں۔ منتخب حکومت کو اقتدار دینے کا مطالبہ کرنے والوں پر پِیر کے روز سیکیورٹی فورسز نے بندوقیں تان لیں اور لاٹھیوں کے ساتھ ان پر حملہ کر دیا تا کہ انہیں منتشر کیا جا سکے۔

ایک ہزار سے زیادہ مظاہرین نے ملک کے دوسرے بڑے شہر منڈالے میں میانمار اکنامک بینک کے سامنے مظاہرہ کیا۔ مظاہرے کی کوریج کرنے والے ایک فوٹو گرافر کے مطابق، اس دوران پولیس اور فوجیوں سے بھرے ہوئے دس ٹرک وہاں پہنچے اور انہوں نے فوری طور پر مظاہرین پر ربڑ کی گولیاں برسانی شروع کر دیں۔اس کے بعد، فوجیوں اور پولیس نیمظاہرین پر لاٹھیوں سے حملہ کر دیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق ربڑ کی گولیاں لگنے سے چند افراد زخمی بھی ہوئے۔

دارالحکومت ناپیٹو میں مظاہرین نے ایک پولیس سٹیشن کے سامنے مظاہرہ کیا اور فوجی قبضے کے خلاف احتجاج کرنے والے ان طلبا کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا، جنہیں پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔دوسری جانب، ملٹری حکام نے برطرف لیڈر آنگ ساں سوچی کی نظر بندی میں بدھ تک توسیع کر دی ہے۔ سوچی کو ان کی سرکاری رہائش گاہ پر نظربند کیا گیا تھا۔ انہیں اپنے گھر کی تلاشی کے دوران برآمد کئے گئے چھ غیر رجسٹرڈ واکی ٹاکی ریڈیو غیر قانونی طور پر درآمد کرنے اور استعمال کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔
بنیادی طور پر سوچی کو پیر کے روز تک نظر بند کیا گیا تھا۔ تاہم سوچی کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کی نظر بندی میں بدھ تک توسیع کر دی گئی ہے۔سوچی کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ اب ایک ویڈیو کانفرنس کے ذریعے 17فروری کو ایک عدالت کے سامنے پیش ہو ں گی۔تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ سوچی کی نظر بندی میں توسیع سے فوج اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا۔
دوسری جانب حکام نے راتوں رات انٹرنیٹ تک لوگوں کی رسائی ختم کر دی ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گتریس نے پابندیوں، سیاسی اور سول سوسائٹی کے لیڈروں کی گرفتاری پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انٹونیو گتریس کے ترجمان نے اتوار کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ سیکرٹری جنرل کو میانمار کی صورتحال پر، جس میں طاقت کے استعمال میں اضافہ اور مرکزی شہروں میں مسلح گاڑیوں مبینہ موجودگی شامل ہے، گہری تشویش ہے۔انہوں نے میانمار کی فوج اور پولیس سے مطالبہ کیا کہ وہ مظاہرین کے پر امن اجتماع کا احترام کریں اور متشدد کارروائیوں سے گریز کریں۔
مزید خبریں :بنگلہ دیشی ملازمہ کا قتل، سعودی خاتون کو سزائے موت
بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مسلسل تشدد اور خوف و ہراس کی فضا پیدا کرنا ناقابلِ بول ہے۔ادھر میانمار میں تعینات امریکہ، کینیڈا ور یورپی یونین کے 12 ملکوں کے سفیروں نے مواصلات کی بندش کی مذمت کی ہے، اور یہ کہتے ہوئے میانمار کے عوام کیلئے حمایت کا اظہار کیا ہے کہ دنیا دیکھ رہی ہے۔



