ینگون،7ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)میانمار کی سابقہ جمہوری حکومت نے مسلم مخالف انتہا پسند بدھ مذہبی رہنما کو نومبر میں گرفتار کیا تھا۔ فوجی حکومت نے کسی وضاحت کے بغیر ان پر عائد تمام الزامات واپس لے لئے ہیں۔میانمار کے فوجی جنتا نے چھ ستمبر پیر کے روز ملک کے کٹر مسلم مخالف اور انتہا پسند بودھ مذہبی پیشوا اشین ویراتھو Ashin-wirathu کو رہا کر دیا۔
فوجی حکومت نے ان پر عائد نفرت انگیز بیانات اور بغاوت جیسے الزامات واپس لے لیے ہیں تاہم اس نے اپنے فیصلے کی کوئی وضاحت نہیں کی ہے۔اشین ویراتھو کے نفرت انگیز بیانات اور انتہا پسندانہ نظریات کا حال یہ ہے کہ ٹائم میگزین نے انہیں سن 2013 میں ’بدھسٹ بن لادن‘ کا خطاب دیا تھا۔
ویراتھو نے سن 2019 میں معزول رہنما آنگ سان سوچی کیخلاف بھی بعض توہین آمیز اور نازیبا بیانات دیئے تھے، جس کے لیے ان پر حکومت سے بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، گرفتاری سے بچنے کے لیے وہ روپوش ہو گئے تھے۔ لیکن گزشتہ نومبر میں انہوں نے خود کوحکام کے حوالے کردیا، جس کے بعد ان کی گرفتاری عمل میں آئی تھی۔
سوچی کی حکومت نے توہین عدالت اور عوام میں بے چینی اور افراتفری پھیلانے کے الزام میں انہیں جیل بھیج دیا تھا۔ ان کی رہائی سے متعلق ایک فوجی ترجمان نے مقامی میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ ان کے خلاف کیس کو بند کر دیا گیا ہے اور آج شام کو انہیں رہا کر دیا گیا۔ تاہم اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ فوجی حکومت نے آخراچانک ان پر عائد سنگین الزامات واپس کیوں لے لیے اور انہیں علاج کے لیے فوجی اسپتال میں کیوں بھرتی کیا گیا ہے۔
ویراتھو میانمار میں بدھ قوم پرست اور اسلام مخالف بیان بازی کے لیے معروف ہیں۔ان کی انتہا پسندی کی بیشتر کارروائیاں اور بیانات اقلیتی روہنگیائی مسلمانوں کیخلاف رہے ہیں۔ مغربی صوبے راکھین میں سن 2012 میں بودھوں اور روہنگیا مسلمانوں کے درمیان مذہبی فسادات بھڑک اٹھے تھے اور اسی کے بعد انہیں زبردست شہرت حاصل ہوئی۔
ان کے اسلام مخالف نفرت انگیز بیانات کے تناظر میں سن 2017 میں میانمار میں بودھوں کے سب سے بڑے ادارے ’نیشنل مونک کونسل‘ نے ایک برس کے لیے ان پر تبلیغ کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ تاہم اس پابندی کا بھی ان پر کوئی خاص اثر نہیں ہوا اور وقت گزرنے کے ساتھ ہی وہ اپنی پہلی شکل میں واپس آ گئے۔



