بین ریاستی خبریں

میسور:آٹھویں جماعت کے طالب علم کے ساتھ ساتھیوں کی وحشیانہ ریگنگ، اسپتال میں زندگی و موت کی کشمکش

اسکول انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج

میسور (کرناٹک):(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)کرناٹک کے ضلع میسور کے جیا لکشمی پورم علاقے میں واقع ایک معروف اسکول میں ریگنگ کا چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ یہاں آٹھویں جماعت میں زیرِ تعلیم 13 سالہ طالب علم کے ساتھ اسی اسکول کے تین ساتھی طلبہ نے وحشیانہ سلوک کرتے ہوئے اس کے نجی اعضا کو شدید زخمی کردیا۔

رپورٹس کے مطابق متاثرہ طالب علم کو روزانہ ذہنی و جسمانی طور پر پریشان کیا جاتا تھا۔ ملزم طلبہ اس سے پیسے اور موبائل فون لانے پر مجبور کرتے تھے۔ 25 اکتوبر کو تینوں طلبہ نے اسکول کے واش روم میں اسے لے جا کر بے رحمی سے مارپیٹ کی، جس کے نتیجے میں اس کے نجی اعضا میں شدید چوٹیں آئیں۔

زخمی طالب علم کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق پولیس نے پہلے مقدمہ درج کرنے سے انکار کیا تھا، تاہم متاثرہ کے اہلِ خانہ اور رشتہ داروں کے دباؤ کے بعد جیا لکشمی پورم پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی۔

پولیس نے اس معاملے میں بھارتی انصاف سنہیتا (BNS) 2023 کی دفعات 115(2)، 117(2) اور 125(b) کے تحت، جبکہ کیشور نیائے ایکٹ 2015 کی دفعہ 75 کے تحت کیس درج کیا ہے۔

ایف آئی آر میں اسکول کے پرنسپل اور ایک ٹیچر کو ملزم نمبر 1 (A1) کے طور پر نامزد کیا گیا ہے، جب کہ تین طلبہ کو نابالغ J1، J2، اور J3 کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے تفتیش شروع کر دی ہے اور اسکول انتظامیہ کی غفلت اور کردار کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔

ریگنگ کے اس واقعے نے ریاست میں تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی، نظم و ضبط اور طلبہ کی حفاظت کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button