مہاراشٹر میں کشیدگی: اورنگزیب قبر تنازع پر ناگپور میں دو گروہوں کے درمیان تصادم، پتھراؤ اور آتش زنی
ناگپور میں دو گروہوں کے درمیان تصادم، گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی، پولیس تعینات
ناگپور:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مہاراشٹر کے ناگپور کے محل علاقے میں پیر کے روز دو گروہوں کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہوگئی۔ تصادم کے دوران متعدد گاڑیوں میں توڑ پھوڑ اور آتش زنی کی گئی۔ پتھراؤ کی بھی اطلاعات ہیں۔ صورتحال کے پیش نظر علاقے میں پولیس فورس تعینات کردی گئی ہے، جبکہ ریپڈ ایکشن فورس (RAF) کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ تنازع مغل حکمران اورنگزیب کی قبر سے شروع ہوا۔
پولیس کا بیان
ناگپور کے ڈی سی پی ارچت چانڈک نے کہا، "یہ واقعہ کچھ غلط فہمی کی وجہ سے پیش آیا۔ صورتحال اب قابو میں ہے۔ یہاں ہماری فورس مستعد ہے۔ میں تمام شہریوں سے اپیل کرتا ہوں کہ گھروں سے باہر نہ نکلیں اور پتھراؤ سے گریز کریں۔ کچھ گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی تھی، جسے فائر بریگیڈ نے بجھا دیا۔ کچھ پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں، اور پتھراؤ کے دوران میرے پیر میں بھی معمولی چوٹ آئی ہے۔ لیکن ہم سب سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ امن برقرار رکھیں اور افواہوں پر یقین نہ کریں۔ قانون کی پاسداری کریں اور پولیس کا تعاون کریں۔ ہم قانونی کارروائی کر رہے ہیں۔”
وزیر اعلیٰ کی اپیل
ناگپور میں ہونے والی اس کشیدگی پر مہاراشٹر کے سی ایم او کی جانب سے بیان جاری کیا گیا کہ پولیس انتظامیہ صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے متحرک ہے۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مکمل طور پر انتظامیہ کا ساتھ دیں اور افواہوں پر یقین نہ کریں۔ انہوں نے کہا، "ناگپور ہمیشہ سے ایک پرامن شہر رہا ہے، اور ہمیں اسی روایت کو برقرار رکھنا ہے۔ ہم مسلسل پولیس انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں ہیں اور شہریوں کو چاہیے کہ وہ مکمل تعاون کریں۔”
تنازع کی وجوہات
دراصل، مہاراشٹر کے چھترپتی سنبھاجی نگر میں مغل شہنشاہ اورنگزیب کی قبر واقع ہے۔ اسے ہٹانے کے مطالبے پر سیاسی اور سماجی ماحول گرما گیا ہے۔ وشو ہندو پریشد (VHP) اور بجرنگ دل کے کارکنان نے پیر کے روز مظاہرہ کیا۔ محل علاقے میں چھترپتی شیواجی مہاراج کے مجسمے کے قریب مظاہرین نے اورنگزیب کا پتلا نذر آتش کیا۔
VHP کی دھمکی
وشو ہندو پریشد کے علاقائی سکریٹری گووند شینڈے نے کہا کہ ان کی تنظیم نے اورنگزیب کے خلاف احتجاج کا آغاز کردیا ہے۔ انہوں نے کہا، "اگر ضرورت پڑی تو ہم چھترپتی سنبھاجی نگر تک مارچ کریں گے اور کار سیوا کریں گے۔ ہمارے کارکنان اس قبر کو ہٹا کر سمندر میں پھینک دیں گے۔ تاہم، ہم حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اسے جلد از جلد ہٹانے کے اقدامات کرے۔”
شیوسینا (یو بی ٹی) کا ردعمل
دوسری جانب، شیوسینا (یو بی ٹی) کے ترجمان اخبار سامنا نے اورنگزیب کی قبر ہٹانے کا مطالبہ کرنے والے گروپوں پر شدید تنقید کی اور اس مہم کو بابری مسجد کی شہادت سے تشبیہ دی۔ اخبار نے اپنے اداریے میں لکھا کہ قبر کو ختم کرنے کا مطالبہ کرنے والے مہاراشٹر کی شاندار تاریخ کے دشمن ہیں اور وہ خود کو "ہندو طالبان” کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ اس طرح کی حرکتیں ماحول کو زہر آلود کرنے کی کوشش ہیں اور ریاست کی جنگجو روایت کی توہین ہیں۔ اداریے میں مزید کہا گیا کہ ایسا طرز عمل ہندو مذہب کی شدت پسندی کے طور پر غلط تاثر دیتا ہے اور چھترپتی شیواجی مہاراج کے اصولوں کی بے حرمتی کے مترادف ہے۔
حالات قابو میں، عوام سے پرامن رہنے کی اپیل
پولیس اور انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور شہر میں امن و امان کو برقرار رکھنے میں تعاون کریں۔ حالات قابو میں ہیں اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔
نیتن گڈکری
مرکزی وزیر اور ناگپور کے رکن پارلیمنٹ نیتن گڈکری نے بھی عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا، "کچھ افواہوں کے باعث ناگپور میں مذہبی کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔ یہ شہر ہمیشہ ایسے معاملات میں امن قائم رکھنے کے لیے جانا جاتا ہے۔ میں تمام شہریوں سے گزارش کرتا ہوں کہ کسی بھی افواہ پر یقین نہ کریں اور امن کو برقرار رکھیں۔”
🌍 تازہ ترین خبریں، اپڈیٹس اور دلچسپ معلومات حاصل کریں!
🔗 اردو دنیا نیوز واٹس ایپ گروپ
<
#WATCH | Maharashtra: Efforts underway to douse fire in vehicles that have been torched in Mahal area of Nagpur.
Tensions have broken out here following a dispute between two groups. pic.twitter.com/rRheKdpGh4
— ANI (@ANI) March 17, 2025
#WATCH | Nagpur (Maharashtra) violence | A Police personnel present at the spot in Mahal area, injured.
Tensions have broken out here following a dispute between two groups. pic.twitter.com/UAGJVuqAU7
— ANI (@ANI) March 17, 2025
#WATCH | Nagpur (Maharashtra) violence: A JCB machine set ablaze during violence in Mahal area of Nagpur. Tensions have broken out here following a dispute between two groups.
Police personnel and Fire Brigade officials are present at the spot. pic.twitter.com/JHrxAMIbCm
— ANI (@ANI) March 17, 2025
#WATCH | Mumbai | On the Nagpur (Maharashtra) violence, Shiv Sena (UBT) spokesperson Anand Dubey says, "Ensuring law and order is the priority of the state government… The violence in Nagpur is very unfortunate… Vehicles were set on fire, stones were pelted… The situation… pic.twitter.com/Y94A7pEvVZ
— ANI (@ANI) March 17, 2025
#WATCH | Nagpur (Maharashtra) violence: Union Minister and Nagpur MP Nitin Gadkari says, "Due to certain rumors, a situation of religious tension has arisen in Nagpur. The city’s history is known for maintaining peace in such matters. I urge all my brothers not to believe in any… pic.twitter.com/1xF8YnOIMk
— ANI (@ANI) March 17, 2025



