
نینسی پلوسی کی وضاحت ،ہم نے بائیڈن کو بتا دیا ہے کہ وہ ٹرمپ کو نہیں ہرا سکتے
دو تہائی ڈیموکریٹس بائیڈن کو انتخابی دوڑ سے باہر دیکھنے کی متمنی: سروے
واشنگٹن، 18جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)امریکی ایوان نمائندگان کی سابق خاتون اسپیکر نینسی پلوسی کا کہنا ہے کہ انہوں نے صدر جو بائیڈن کو آگاہ کر دیا ہے کہ عوامی سروے یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست نہیں دے سکتے۔امریکی نیوز چینل سی این این نے با خبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ پلوسی کا مزید کہنا تھا کہ صدر بائیڈن ایوان نمائندگان پر کنٹرول واپس لینے کے حوالے سے ڈیموکریٹس کے مواقع تباہ کر سکتے ہیں۔پلوسی کا موقف امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹس کے لیڈر چاک شومر کے بیان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔
شومر کے مطابق انہوں نے ہفتے کے روز ملاقات میں بائیڈن کو بھرپور طریقے سے آگاہ کر دیا کہ ان کا صدارتی دوڑ سے دست بردار ہونا ملک اور ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے بہتر ہو گا۔اسی سلسلے میں امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک ذمے دار ایڈم شیف نے بدھ کے روز صدر بائیڈن سے مطالبہ کیا کہ وہ دوسری بار مدت صدارت کے لیے اپنی نامزدگی واپس لے لیں۔ شیف نے لوس اینجلس ٹائمز اخبار کو دیے گئے بیان میں واضح کیا کہ ٹرمپ کے دوسری بار صدر بننے سے جمہوریت کی بنیادیں سبوتاژ ہو جائیں گی۔ شیف کو سنجیدہ اندیشے ہیں کہ صدر بائیڈن نومبر میں ہونے والے انتخابات میں اپنے حریف کو ہرانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
سی این این کے مطابق ذرائع نے ایک سینئر ڈیموکریٹ مشیر کے حوالے سے بتایا کہ بائیڈن اب اس سوچ پر سنجیدگی سے غور کرنے لگے ہیں۔ وہ اپنی دست برداری کے مطالبات کو پہلے کی طرح چیلنج نہیں کر رہے ہیں۔ بائیڈن نے اپنے مشیروں سے یہ بھی پوچھا ہے کہ آیا ان کی نائب کمالا ہیرس صدارتی انتخاب جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔البتہ جو بائیڈن کے ایک قریبی ذریعے نے آج جمعرات کے روز اعلان کیا ہے صدر اپنی دست برداری کا نہیں سوچ رہے تاہم یقینا انہوں نے ڈیموکریٹس کے مطالبے سننے کے لیے کشادگی کا اعلان کیا ہے۔
دو تہائی ڈیموکریٹس بائیڈن کو انتخابی دوڑ سے باہر دیکھنے کی متمنی: سروے
واشنگٹن، 18جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)لگ بھگ دو تہائی ڈیموکریٹس نے سروے میں کہ دیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کو صدارتی دوڑ سے دستبردار ہو جانا چاہیے اور ان کی پارٹی کو ایک مختلف امیدوار کھڑا کرنے دینا چاہیے۔ یہ نیا پول جو بائیڈن کے اس دعوے کی سختی سے تردید کرتا ہے کہ ٹرمپ سے مباحثے کے بعد اوسط ڈیموکریٹ اب بھی ان کی حمایت کرتا ہے۔ یاد رہے اس مباحثے کے بعد کچھ بڑے ناموں نے بائیڈن کی حمایت چھوڑ دی ہے۔اے پی- این او آر سی سنٹر فار پبلک افیئر ریسرچ کے ایک نئے سروے سے پتا چلا ہے کہ 10 میں سے صرف تین ڈیموکریٹس کو بہت زیادہ یقین ہے کہ بائیڈن کے پاس دفتر میں مؤثر طریقے سے خدمت کرنے کی ذہنی صلاحیت موجود ہے۔
یہ فروری میں کئے گئے ایک سروے میں 40 فیصد کی حایت سے تھوڑی کم حمایت ہے۔یہ نتائج ان چیلنجوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن کا سامنا 81 سالہ صدر کو ہے کیونکہ وہ اپنی پارٹی کے اندر سے دوڑ چھوڑنے کے مطالبات کو خاموش کرنے کی کوشش کر رہے اور ڈیموکریٹس کو یہ باور کرانے کی بھی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دینے کے لیے بہترین امیدوار ہیں۔یہ رائے شماری اصل میں ٹرمپ پر ہفتہ 13 جولائی کو پنسلوانیا میں قاتلانہ حملے سے پہلے کی گئی تھی۔ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ٹرمپ پر فائرنگ کے واقعہ نے بائیڈن کے بارے میں لوگوں کے خیالات کو متاثر کیا ہے یا نہیں۔دریں اثنا نائب صدر کملا ہیریس کے حوالے سے پول میں پتہ چلا ہے کہ ان کی منظوری کی درجہ بندی اسی طرح ہے جیسے پہتے تھی۔ لیکن ان کی حمایت کرنے والے امریکیوں کا فیصد قدرے کم ہے۔
پول اس بات کا ثبوت فراہم کرتا ہے کہ سیاہ فام ڈیموکریٹس بائیڈن کے سب سے بڑے حامیوں میں شامل ہیں۔ تقریباً آدھے نمونے میں کہا گیا ہے کہ انہیں دوڑ میں جاری رہنا چاہیے جب کہ 10 میں سے 3 سفید فام اور ہسپانوی ڈیموکریٹس نے بائیڈن کی حمایت کی۔ مجموعی طور پر 10 میں سے 7 امریکیوں کا خیال ہے کہ بائیڈن کو دستبردار ہو جانا چاہیے۔



