
بلیک میلنگ نے جان لے لی، دسویں جماعت کی طالبہ نے خودکشی کر لی
بدنامی کے خوف اور مسلسل دباؤ نے ایک معصوم جان لے لی
ناندیڑ 26 فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مہاراشٹر کے ناندیڑ ضلع سے ایک نہایت افسوسناک اور چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں دسویں جماعت میں زیر تعلیم 16 سالہ نابالغ طالبہ نے مبینہ بلیک میلنگ اور دھمکیوں سے تنگ آ کر پھانسی لگا کر خودکشی کر لی۔ واقعہ نے پورے علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ ناندیڑ کے بھاگیہ نگر تھانہ حدود میں پیش آیا۔ پولیس نے ایک مرکزی ملزم سمیت پانچ افراد کے خلاف خودکشی کے لیے اکسانے کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق کنوت تعلقہ کے اندھابوری گاؤں کی دو بہنیں تعلیم کی غرض سے ناندیڑ شہر کے پنڈھرپور نگر علاقے میں کرائے کے مکان میں رہ رہی تھیں۔ متوفیہ دسویں جماعت کی طالبہ تھی۔ اسی دوران اس کی ملاقات گوکنڈا کے رہنے والے دیپک وشنو سولنکے سے ہوئی۔ دونوں کے درمیان بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا اور موبائل فون پر تصاویر بھی لی گئیں۔
کچھ عرصہ بعد طالبہ نے ملزم سے بات چیت بند کر دی جس پر ملزم نے مبینہ طور پر تصاویر کو وائرل کرنے کی دھمکی دی اور اس پر شادی کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ الزام ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے بھی خاندان کو دھمکیاں دیں جس سے طالبہ شدید ذہنی دباؤ اور خوف کا شکار ہو گئی۔
متوفیہ کے والد سائیں ناتھ دھونڈیبا پوار نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ ان کی بیٹی بدنامی اور ذہنی اذیت کے خوف سے یہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوئی۔ یہ واقعہ 23 فروری کی رات تقریباً ساڑھے نو بجے پیش آیا۔ اطلاع ملنے پر مکان مالک نے فوری طور پر طالبہ کو اسپتال پہنچایا، تاہم ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔
پولیس نے دیپک وشنو سولنکے، پون شنکر سالونکے، کرن شنکر سالونکے، وشنو اتم سالونکے اور شنکر اتم سالونکے کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ ملزمان مسلسل دھمکیاں دے رہے تھے جس سے پورا خاندان خوف اور تناؤ میں مبتلا تھا۔
اس افسوسناک واقعہ کے بعد شہریوں نے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی سنجیدگی سے تفتیش کی جا رہی ہے اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔



