تلنگانہ کی خبریںسرورق

نسیم بیگم کے حوصلے ہمالیہ سے بلند

20 فیٹ برقی کھمبے اور 40 فیٹ بلند برقی ٹاورس پر چڑھ کر کام کررہی ہیں

حیدرآباد :(اردودنیا/ایجنسیاں) برقی سب اسٹیشن اور کھمبوں پر چڑھ کر کام کرنا مردوں کے لیے کافی کٹھن ہوتا ہے ۔ کئی مرتبہ حادثات ہوتے ہیں ۔ زخمی ہونے کے ساتھ ساتھ کئی زندگیاں بھی ضائع ہوئی ہیں ۔ ایسے جوکھم اور خطرات سے بھرے کام کرنے کے لیے اب خواتین بھی آگے بڑھ رہی ہیں ۔ ان میں نسیم بیگم بھی شامل ہیں ۔ جن کے حوصلے ہمالیہ سے بھی بلند ہیں ۔ 20 فیٹ کے کھمبوں ، 400 کلو واٹ سب اسٹیشن کے 40 فیٹ بلند ٹاورس پر چڑھ کر مرمتی کام انجام دینے کے لیے جگر کی ضرورت ہوتی ہے ۔

مرد ملازمین ہی ایسے کاموں کے لیے گھبراتے ہیں ۔ مگر خواتین بھی ایسے کام انجام دیتے ہوئے کسی بھی کام کے لیے مردوں سے پیچھے نہ ہونے کا ثبوت دے رہی ہیں ۔ بارش ، دھوپ اور سردی کی پرواہ کئے بغیر نسیم بیگم کے بشمول دیگر چار خواتین سوشیلا ، سواپنا ، سنیتا اور نندنی ضلع ناگر کرنول کے منڈل ونگنور کے اسپیشل منٹیننس گینگ میں یہ پانچ خواتین اپنی خدمات سے اعلیٰ عہدیداروں کو متاثر کررہی ہیں ۔

اس بارے میں جب نسیم بیگم سے بات چیت کی گئی تو انہوں نے کہا کہ انہیں چیلنج سے بھر پور کام قبول کرنا پسند ہے اور انہیں فخر ہے وہ ان کے والدین کے خوابوں کی تعبیر کررہی ہیں ۔ وہ غریب خاندان سے تعلق رکھتی ہے ۔ اپنے والد کی خواہش کو وہ شوہر کے تعاون سے پورا کرپاتی ہیں ۔

آئی ٹی آئی کی تکمیل کے بعد ماہانہ 2 ہزار روپئے کی تنخواہ سے وہ خاندان کی کفالت میں تعاون کررہی تھی تب میرے والد نے مجھے سرکاری ملازمت حاصل کرنے کا مشورہ دیا ۔ یہ ملازمت حاصل کرتے ہوئے وہ اپنے والد کی خواہش کو پورا کرچکی ہیں ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button