نیشنل ڈیفنس اکیڈمی ✍️مومن فیاض احمد
مومن فیاض احمد،لیکچرر و کرئیر کونسلر،صمدیہ جونیر کالج، بھیونڈی
بارہویں کے بعد وہ کورسیس جسے مکمل کرنے کے بعد پرکشش تنخواہ کے ساتھ پر وقار زندگی بھی گزار سکتے ہیں۔اگرآپ میں ہمت ہے ، حوصلہ ہے،منزل کو پانے کے جنون ہے ،محنت کرنے کاجذبہ ہے تو دنیا کی کوئی بھی چیز آپ کے لیے مشکل نہیں ہو سکتی ہے۔ ہر کوئی کمفرٹ زون میں رہنا چاہتا ہے۔سرکاری ملازمت میں تحفظ ملتا ہے۔اس لیے بڑی تعدا د میں امیدوارسرکاری نوکری کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس شعبے میں اتنا زیادہ مقابلہ ہونے کے بعد بھی لوگوں کا رجحان سرکاری نوکری کی جانب رہتا ہے۔جس سرکاری نوکری کا ذکر کرنے والے ہیں بہت ہی اہم اور وائٹ کالر سرکاری نوکریاں ہیں عام طور پر اس طرح کے کورسیس یا مقابلہ جاتی امتحانات کو بہت سے لوگ مشکل سمجھتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے یہ محنت طلب ضرور ہیں اگر آپ کے ارادے مضبوط ہیں اور صحیح سمت میں محنت کر رہے ہیں تو انشاء اللہ کامیابی ضرور آپ کا مقدر بنے گی۔
تجربات بتاتے ہیں جن لوگوں بلند حوصلوں کے ساتھ محنت کی ہے وہ اپنی منزل کو حاصل کر کے رہے ہیں ۔اس مضمون کے ذریعے بارہویں کے بعد کچھ مقابلہ جاتی امتحان کا ذکر کیا جا رہا ہے جسے مکمل کرنے کے بعد پروقار اور پر کشش تنخواہ بھی حاصل کرسکتے ہیں۔
۱) نیشنل ڈیفنس اکیڈمی (N.D.A.) :۔ اس ادارے میں آرمی، نیوی اور ایئر فورس کی ٹریننگ دی جاتی ہے ۔یہ ملک کی ٹاپ موسٹ خدمات میں سے ایک اہم ہے۔ اس ادارے میں داخلے کے لیے سال میں دو بار یونین سروس پبلک کمیشن کے جانب سے امتحان ہوتے ہیں۔ ایمپلائمنٹ نیوز کے علاوہ دیگر اخبارات میں بھی اشتہار دیا جاتا ہے۔
شرائط:
۱) نیشنل ڈیفنس اکیڈمی (N.D.A.) میں آرمی، نیوی اور ایئر فورس میں داخلہ بذریعہ انٹرنس امتحان ہوتاہے
۲) داخلہ کے وقت امیدوار کی عمر سترہ سال سے کم اور انیس سال سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے
۳) انڈین آرمی کے لیے کسی بھی شعبے سے بارہویں پاس ہونا ضروری ہے جب کہ ایئر فورس اور نیوی کے لیے بارہویں میں فزکس اور میتھس ہونا چاہیے۔
۴) امید وار کاغیر شادی شدہ ہونا ضروری ہے۔ ۵)فزیکل فٹنیس بہت اچھی ہونا چاہیے۔
۶)کم از کم لمبائی 157 سینٹی میٹر ہونا چاہیے۔
۷)انگلشں اچھی ہونا چاہیے ۔
۸)ایسے طلبہ جو بارہویں کے امتحان میں شریک ہوئے ہیں وہ بھی انٹرنس امتحان دے سکتے ہیں لیکن داخلے کے وقت بارہویں کامیاب ہونا ضروری ہے۔
علم حساب کا پرچہ 300 مارکس کا اور جنرل ابیلیٹی ٹیسٹ کا پرچہ600 مارکس کا ہوگا دونوں پرچوں کے لیے ڈھائی گھنٹے کا وقت ہوتا ہے۔سوالہ پرچہ انگلش میں ہوتا ہے اسکے جوابات بھی انگلش میں لکھنا ہوتا ہے۔ علم حساب کے پرچے میں الجبرا، علم مثلث، شماریات، احتمال، میٹراسیس اور ڈٹرمینس، ڈیفریشن، کیلکولیس، انالیٹیکل جیومیٹری آف ٹو اینڈ تھری ڈائمینشن اینٹی گریس کیلکولیس اینڈ ڈیفرنشیل اکویشن وغیرہ پر مشتمل ہوتا ہے۔
جنرل ابیلٹی ٹیسٹ کے پرچے کے دو پارٹ ہوتے ہیں۔ پارٹ 1 انگلش 200 نمبر کا ہوتا ہے اس پرچے کے ذریعے امیدوار کی انگلشں سمجھنے کی صلاحیت پرکھی جاتی ہے ساتھ ہی قواعد الفاظ کے استعمال، ذخیرہ الفاظ، اضافی ٹیکسٹ،کمپری ہینسن پر سوالات پوچھے جاتے ہیں جن سے امیدوار کی انگریزی میں مہارت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
پارٹ 2- ,400 نمبر کا ہوتا ہے۔جس میں طبیعات،کیمیا، جنرل سائنس ،جغرافیہ، جنرل نالج، سوشل اسٹڈیز اور ، موجودہ ایوینٹس پر مشتمل سوالات ہوتے ہیں۔
۲) انٹرویو: ایسے امیدوار جو داخلہ امتحان میں کامیابی حاصل کرتے ہیں انہیں ہی انٹریو کے لیے بلایا جاتا ہے۔ ایس ایس بی بورڈ انٹریو لیتا ہے ۔انٹرویو 900 مارکس کا ہوتا ہے۔ اس انٹریو میں گروپ ڈسکشن، گروپ پلاننگ آئوٹ ڈور ،پرسنل انٹرویو وغیرہ میںسے ایک موضوع پر اظہار خیال کرنا ہوتا ہے۔جس کی بنا پر طلبہ کی ذہنی آزمائش در پیش مسائل کے حل اور ان کے موجودہ حالات سے واقفیت کے متعلق معلومات حاصل کی جاتی انٹریو مکمل ہونے کے بعد داخلہ میرٹ کی بنیاد پر دیا جاتا ہے۔اس میںہزاروں طلبہ شریک ہوتے ہیں جن میں سے میرٹ کے مطابق 600 طلبہ کو انٹریو کیلیے بلایا جاتا ہے۔
۳) میڈیکل ٹیسٹ: جو امیدوار انٹریو کے مرحلے میں کامیاب ہو جاتا ہے ہے انہیں میڈیکل ٹیسٹ کے لیے بلایا جاتا ہے جن کی تعداد صرف تین سے چار سو کے درمیان ہوتی ہے۔ امیدوار مقررہ میعار کے مطابق جسمانی طور پر صحت مند ہو بڑی تعداد میںکوالیفائیڈ امیدواار کو میڈیکل ان فٹ کی بنیاد پر رد کردیا جاتاہے اس لیے امیدوار درخواست بھیجنے سے پہلے اپنا طبی معائنہ اچھی طرح سے کرالیں تاکہ آخری مرحلے میں مایوسی کا شکارنا ہونا پڑے۔ہے۔ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد آخرمیں منتخب امیدوار کو لیا جاتاہے۔
۴) دستاویزات کی جانچ: ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد ان کی دستاویزات کی جانچ کی جاتی ہے۔ پھر ان کے دلچسپی ،شوق اور منتخب شعبے جیسے آرمی، نیوی، ایئر فورس اور نیول اکیڈمی کے شعبے میں بھیجا جاتا ہے۔ امیدواروں کے منتخب ہو جانے اور اکیڈمی میں داخلے کے فوراً بعد انگلش، حساب، سائنس اور ہندی کے ٹیسٹ لیے جاتے ہیں۔تمام امتحانات،انٹریو، میڈیکل فٹنیس کے بعد امیدوار جس شعبے کا انتخاب کیا ہے اس کے لیے اسے ٹریننگ کے لیے بھیجا جاتا ہے۔
ٹریننگ:ٹریننگ کے دوران روزانہ تین سے پانچ کلومیٹر کی رننگ کرائی جاتی ہے۔تیرنا، گھوڑسواری،پہاڑوں پر چڑھائی وغیرہ کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔اس کے ساتھ ہی فرصت کے اوقات میں فوٹو گرافی، پینٹگ،موسیقی، کشتی وغیرہ کی تربیت دی جاتی ہے۔ایسے امیدوار جنھیں ٹیسٹ کے دوران چوٹ آئی ہو یا سروس سلیکشن بورڈ(SSB) ٹیسٹ کے دوران کوئی بیماری لگ گئی ہوا ن کوا سپتال میں بھرتی کرکے سرکاری خرچ پر علاج کرایا جاتا ہے۔اس ادارے میں قیام،طعام،کتاب اور کپڑوں کا خرچ حکومت برداشت کرتی ہے۔
آرمی؍نیوی اور ایئر فورس تینوں ملازمتوں کے لیے منتخب امیدوار کو تعلیمی اور جسمانی ٹریننگ نیشنل ڈیفینس اکیڈمی میںٹریننگ کے تینوں برسوں میں دی جاتی ہے یہ انٹر سروس ادارہ ہے۔ ابتدائی ڈھائی برسوں میں تینوں سروسیز کے لیے مشترکہ ٹریننگ دی جاتی ہے۔کامیاب ہونے والے کیڈٹسں کو جواہر لال نہرو یونیورسٹی دہلی کی بی ایس سی ؍بی اے کی ڈگری دی جاتی ہے۔ نیشنل ڈیفینس اکیڈمی پاس کرنے والے آرمی کیڈیٹ انڈین ملٹری اکیڈمی دہرہ دون ، نیول کیڈٹس جو کیڈتس ٹریننگ شپ اور ایئر فورس کیڈیٹ اے ایف اے حیدر آباد؍ پی ایف ٹی ایس الہ آباد بھیج دے جاتے ہیں۔
آئی ایم اے میں آرمی کیڈیٹ کی کیڈیٹ کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ ایک سال کی سخت فوجی ٹیننگ دی جاتی ہے ۔ تاکہ کیڈٹوں کو انفنڑری کے سب یونٹوں کے قیادت کرنے والے کامیاب افسر بنایا جاسکے کامیابی کے ساتھ ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد جنٹلمین کیڈٹس کولفٹینٹ کے عہدے پر مستقل کمیشن دیا جاتا ہے۔
نیول کیڈیٹ کے ایگزیکیٹو انجنیئرنگ اور الیکٹریکل برانچ کے لیے منتخب ہوتے ہیں انہیں نیشنل ڈیفینس اکیڈمی پاس کرنے کے بعد 6ماہ کی ٹریننگ دی جاتی ہے اسے مکمل کرنے کے بعد مڈ شپ مین کا عہدہ دیا جاتا ہے۔اس شعبہ میں 6 ماہ کی ٹریننگ کے بعدلیفٹننٹ کا عہدہ دیا جاتا ہے۔
ایئر فورس کیڈٹوں کے ڈیڑھ سال کی ٹریننگ دی جاتی ہے ایک سال کی ٹریننگ کے بعد پائلٹ آفیسر پر پرویثزنل کمیشن دیا جاتا ہے 6ماہ کی ٹریننگ کے بعد انہیں مستقل طور پر کمشنڈ آفیسر کا درجہ دیا جا تا ہے۔
سہولیات: افسران کو شہری بھتہ،مہنگائی بھتہ، منٓظور شدہ قاعدے کے مطابق ہوتا ہے۔ماہانہ کٹ الائونس دیا جاتا ہے۔سب افسروں کو مفت راشن حاصل ہوتاہے۔افسروں کو ڈیوٹی کے مقام سے ایک کلو میٹر کے اندر سرکاری رہائش گاہ سرکار کی طرف سے ٹرانسپورٹ یا کیمپس میں قیام گاہ کی سہولت نہ ملنے پرماہانہ ٹرانسپورٹ بھتہ دیا جاتاہے۔
لہذا جو طلبہ اس فیلڈ میں دلسچپی رکھتے ہیں۔ملک کی خدمت کرنے کا جذبہ ہے۔وہ نیشنل ڈیفینس اکیڈمی کو جوائنٹ کریں۔مزید معلومات کے لیے ویب سائٹ سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں ۔



