سرورققومی خبریں

2008 مالیگاؤں بم دھماکہ: متاثرین نے پرگیہ ٹھاکر اور دیگر کی بریت کے خلاف ہائی کورٹ کا رخ کیا

خصوصی NIA عدالت کے اُس فیصلے کو چیلنج کیا جس میں چھ ملزمین کو بری کر دیا گیا

ممبئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) 2008 مالیگاؤں بم دھماکہ میں ہلاک ہونے والے افراد کے 6 اہل خانہ نے بامبے ہائی کورٹ کا رخ کیا اور خصوصی NIA عدالت کے اُس فیصلے کو چیلنج کیا جس میں بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ پرگیہ سنگھ ٹھاکر، لیفٹیننٹ کرنل پرساد پوروہت اور دیگر چھ ملزمین کو بری کر دیا گیا تھا۔

اپیل کنندگان نثار احمد سید بلال اور دیگر پانچ نے اپنے وکیل متین شیخ کے ذریعے دائر عرضی میں مؤقف اختیار کیا کہ تفتیش کی خامیوں یا ناقص شواہد کی بنیاد پر ملزمین کو بری نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’سازش ہمیشہ خفیہ طور پر رچی جاتی ہے، اس لیے براہ راست ثبوت دستیاب ہونا ممکن نہیں۔‘‘

یاد رہے کہ 29 ستمبر 2008 کو ناسک ضلع کے مالیگاؤں میں ایک موٹر سائیکل پر نصب دھماکہ خیز آلہ مسجد کے قریب پھٹ گیا تھا، جس میں 6 افراد جاں بحق اور 101 زخمی ہوئے تھے۔

متاثرین نے اپیل میں یہ بھی کہا کہ ٹرائل کورٹ کو محض ’’پوسٹ مین‘‘ کا کردار ادا نہیں کرنا چاہیے تھا بلکہ گواہوں کو طلب کرنے اور حقائق جاننے کی ذمہ داری نبھانی چاہیے تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ این آئی اے نے کیس سنبھالنے کے بعد ملزمین پر سے سنگین الزامات ہٹائے اور مقدمے کو کمزور کیا۔

اہل خانہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ این آئی اے کی کارروائی سے قبل ریاستی اے ٹی ایس نے بڑی سازش کو بے نقاب کیا تھا اور اسی کے بعد سے اقلیتی علاقوں میں ایسے دھماکے دوبارہ نہیں ہوئے۔ اپیل کنندگان نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ خصوصی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر ملزمین کو سزا دی جائے۔ہائی کورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق یہ اپیل جسٹس اے ایس گڈکری کی سربراہی والی ڈویژن بنچ کے سامنے 15 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button