قومی خبریں

جے پی نڈا کی مدت ِ صدارت میں توسیع ,جے پی نڈا کی قیادت میں ہی مشن 2024 کی تکمیل کا عزم

بی جے پی کے آئین کے مطابق کم از کم 50 فیصد یعنی نصف ریاستوں میں تنظیمی انتخابات کے بعد ہی قومی صدر کا انتخاب کیا جا سکتا ہے

نئی دہلی ، 17جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)بی جے پی کی قومی ایگزیکٹو میٹنگ کے دوسرے دن پارٹی صدر جے پی نڈا کی توسیع کو منظوری دے دی گئی۔ نڈا کی میعاد اگلے ایک سال یعنی جون 2024 تک بڑھا دی گئی ہے۔ بتا دیں کہ جے پی نڈا کو جون 2019 میں ورکنگ صدر بنایا گیا تھا۔ اس کے بعد 20 جنوری 2020 کو انہیں کل وقتی صدر بنا دیا گیا۔ نڈا کی میعاد 20 جنوری کو ختم ہو رہی تھی۔دہلی میں بی جے پی کی قومی ایگزیکٹو میٹنگ کا آج آخری دن ہے۔ آج کے اجلاس میں ایک سماجی و اقتصادی تجویز پیش کی گئی۔ مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان نے بتایا کہ اس قرارداد میں پی ایم مودی کی تعریف کی گئی ہے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ ان کی پالیسیوں کی وجہ سے ہندوستان دنیا کی پانچ بڑی معیشتوں میں شامل ہو گیا ہے۔خیال رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے پہلے دن یعنی پیر کی میٹنگ سے پہلے پٹیل چوک سے این ڈی ایم سی کنونشن سینٹر تک 15 منٹ کا روڈ شو کیا۔ اس کے بعد مودی نے پروگرام کا افتتاح کیا۔

بی جے پی لیڈر روی شنکر پرساد نے بتایا کہ پی ایم نے ہر کمزور بوتھ پر مضبوطی سے کام کرنے کو کہا ہے۔ ملک بھر میں ایسے 72 ہزار بوتھس کی نشاندہی کی گئی ہے۔بی جے پی ذرائع کے مطابق یہ توسیع اگلے سال 10 ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات اور 2014 کے لوک سبھا انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔ نڈا جولائی 2019 میں پارٹی کے ورکنگ صدر بنے۔ اس کے بعد 20 جنوری 2020 کو انہیں کل وقتی صدر بنا دیا گیا۔ ان کا انتخاب متفقہ طور پر ہوا۔ اس سے قبل سابق صدر امت شاہ کو بھی 2019 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات تک توسیع دی گئی تھی۔پارٹی صدر کی مدت میں توسیع کی ایک اہم وجہ اس سال کے آخر میں ہونے والے 9 قانون ساز اسمبلیوں کے انتخابات ہیں۔

اس کے ساتھ ہی جموں و کشمیر میں مئی اور جون کے درمیان انتخابات ہونے کی امید ہے۔ اگر کسی وجہ سے جے پی نڈا کے نام پر اتفاق رائے نہیں ہوتا ہے تو بھوپیندر یادو کا نام دوڑ میں سب سے آگے ہے۔ اس کے ساتھ ہی گجرات بی جے پی کے صدر سی آر پاٹل کو مرکز میں اہم ذمہ داری ملنے کا پورا امکان ہے۔تکنیکی طور پر دیکھا جائے تو بی جے پی تنظیم کے انتخابات 2022 میں نہیں ہو سکتے، اس لیے صرف جے پی نڈا کو ہی لوک سبھا انتخابات تک اس عہدے پر برقرار رہنے کے لیے کہا جا سکتا ہے۔

بی جے پی کے آئین کے مطابق کم از کم 50 فیصد یعنی نصف ریاستوں میں تنظیمی انتخابات کے بعد ہی قومی صدر کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔ اس تناظر میں ملک کی 29 ریاستوں میں سے 15 ریاستوں میں تنظیم کے انتخاب کے بعد ہی بی جے پی کے قومی صدر کا انتخاب ہوتا ہے۔ ایل کے اڈوانی اور امیت شاہ کے بعد مسلسل دوسری میعاد حاصل کرنے والے تیسرے لیڈر بن گئے ہیں۔تاہم راج ناتھ سنگھ دو بار پارٹی صدر بھی بنے لیکن ان کا دور مسلسل نہیں رہا۔نیچے دیے گئے گرافک میں، بی جے پی کے قیام کے بعد سے اب تک کے صدور کی تفصیلات دی گئی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button