
واشنگٹن:(اردودنیا/ایجنسیاں)برسلز میں ہونے والی نیٹو سربراہ کانفرس کے رہنماؤں نے چین کو ایک مسلسل خطرہ قرار دیا اور روس کی بعض فوجی سرگرمیوں کو جارحانہ قرار دیا ہے۔نیٹو سربراہ کانفرنس کے ایک بیان میں اتحاد کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ چین کے عزائم اور جارحانہ رویہ قوانین اور ضابطوں کی بنیاد پر قائم بین الاقوامی نظام اور نیٹو اتحاد کی سیکیورٹی سے متعلقہ شعبوں کے لیے باقاعدہ مشکلات پیدا کر رہا ہے۔
30 ملکوں کے سربراہوں اور حکومتوں نے اگرچہ چین کو دشمن کہنے سے احتراز کیا تاہم انہوں نے چین کی بعض پالیسیوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ مبہم انداز میں اپنی مسلح افواج کو جدید بنانے اور ڈس انفارمیشن پھیلانے کی پالیسیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق، یہ پیغام صدر بائیڈن کی اس سوچ سے مطابقت رکھتا ہے جس میں وہ چاہتے ہیں کہ عالمی رہنما چین کی معاشی، فوجی اور انسانی حقوق سے متعلق سرگرمیوں کے خلاف یک زبان ہو کر آواز اٹھائیں۔ نیٹو ملکوں کے رہنماوں نے اپنے اعلامئے میں روس کی بعض فوجی سرگرمیوں کو بھی ‘جارحانہ’قرار دیا۔ اور نیٹو اتحاد میں شامل ملکوں کی سرحدوں پر روس کی جنگی کارروائیوں اور روسی طیاروں کی جانب سے ان ملکوں کی فضائی حدود کی بار بار خلاف ورزی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ روس نے نیٹو اتحاد میں شامل ملکوں کے خلاف کئی قسم کے ملے جلے اقدامات کئے ہیں، جن میں ان کے انتخابی عمل میں مداخلت کی کوششیں، سیاسی اور معاشی دباو میں اضافہ، ڈس انفارمیشن کی مہمات اور سائبر حملے شامل ہیں۔ اور جب تک روس بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری کے لئے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرتا، اس کی ساتھ معاملات معمول پر نہیں آسکتے۔
انہوں نے صدر بائیڈن سے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے وابستہ رہنے اور سنجیدگی سے عمل کرنے کی اپیل کی۔نیٹو سربراہ کانفرنس کے موقع پر ہی صدر بائیڈن نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان اور کئی دوسرے رہنماؤں سے ملاقات کی۔صدر اردوان سے ملاقات کو بائیڈن نے بہت اچھا قرار دیا تاہم تفصیل بتانے سے انکار کیا۔امریکہ اور ترکی دونوں نیٹو اتحادی ہیں، لیکن واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان روس سے جدید ہتھیاروں کی خریداری سمیت متعدد امور پر شدید اختلافات پائیجاتے ہیں۔
جس کی وجہ سے امریکہ نے ترکی کو جدید جنگی لڑاکا طیارے ایف -35 کے پروگرام سے الگ کر کے اس کی دفاعی صنعت کے کئی عہدے داروں پر پابندیاں نافذ کر دیں تھیں۔پیر کو صدر بائیڈن نیٹو سربراہی اجلاس میں پہلی بار شرکت کے لیے اس اعلان کے ساتھ پہنچے کہ امریکہ ایک بار پھر اس مغربی اتحاد میں واپس آگیا ہے۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل ینز سٹولٹن برگ کے ساتھ ملاقات میں صدر بائیڈن نے کہا کہ میں تمام یورپی ملکوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ امریکہ اب یہاں موجود ہے۔
صدر بائیڈن نے کہا کہ وہ اَرٹیکل فائیو کو ایک مقدس ذمہ داری سمجھتی ہیں۔
یہ اَرٹیکل اجتماعی دفاعی اصول کے تحت فوجی اتحاد کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اتحاد دوسری جنگ عظیم میں تھا۔جب امریکہ نے اس میں حصہ لیا ۔اور پھر اس وقت بھی تھا جب پہلی بار امریکہ کی سرحدوں کے اندر حملہ ہوا۔ وہ 11 ستمبر 2001 میں نیو یارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کا حوالہ دے رہے تھے۔اس ملاقات میں سٹولٹن برگ نے کہا کہ وہ بائیڈن سے چین اور روس کی جانب سے بڑھتے ہوئے خطرے کے سدباب کے بارے میں مشاورت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی اس مسئلے کے بارے یکساں رائے رکھتے ہیں۔



