سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

مجربات رحیمی- نیم اینٹی سیپٹک سے مالا مال قدرتی دواء

ڈاکٹر حکیم محمد فاروق اعظم حبان قاسمی رحیمی شفا خانہ بنگلور

نیم مشہور اور عام درخت ہے ہر شخص نے دیکھا ہوگا ۔ سدا بہار درخت ہے ۔ گرمی میں اس پر پھول آتا ہے جس کی بھینی بھینی خوشبو آس پاس بس جاتی ہے اس کے بعد انگور کے برابر پھل آتا ہے جس کو نبولی کہتے ہیں۔

کچی نبولیاں سبز رنگ کی ہوتی ہیں۔ مزہ کڑوہ ہوتا ہے۔ پکنے پر ان کی رنگت پیلی ہوجاتی ہے اور مزہ ذرا میٹھا ہوجاتا ہے ۔ نبولی کی گٹھلیوں سے بیج نکلتا ہے اور اس کو کولہو میں پیل کر تیل نکالا جاتا ہے۔ جو ’’نیم کا تیل‘‘ کہلاتا ہے۔ بعض نیم کے درختوں سے تاڑ اور کھجور کی طرح ذرا مٹھاس لئے پانی نکلتا ہے۔ اس کو ’’نیم کا مد‘‘ کہا جاتا ہے۔

نیم کے تمام اجزا کڑوے ہوتے ہیں لیکن نیم مزے کے لحاظ سے جس قدر کڑوا ہے اسی قدر فائدے کے لحاظ سے میٹھا ہے۔ اس کے تمام اجزاء، پتے ، پھول پھل او رچھال دوا کے طور پر استعمال کئے جاتے ہیں ۔ یہاں تک کہ اس کا سایہ بھی صحت بخش ہے۔

اسی لئے اس کو مکانوں کے صحنوں میں لگاتے اور گرمیوں میں اس کے سایے کے نیچے آرام کرتے ہیں۔ نیم کی شاخوں سے مسواک کرنا منہ کی گندگی کو دور ،دانتوں کو صاف اور ان کی گندگی کو دورکرتا ہے او ران کو کیڑا لگنے سے بچاتا ہے۔

نیم کے طبّی فوائد

نیم کے پتے بڑے اچھے مصفی خون ہیں۔ تقریباً 5گرام لے کر سات کالی مرچوں کے ساتھ پیس کر چھان کر پینے سے خارش، داد پھوڑے پھنسیاں، حتی کہ جذام (کوڑھ) کو بھی فائدہ پہونچاتاہے۔

نیم کی کونپلیں پیس کر لگانے سے گرمی دانے اچھے ہوجاتے ہیں۔ نیم کی کونپلیں 10 گرام اور کالی مرچ دو گرام دونوں کو پیس کر کابلی چنے کے برابر گولیاں بنالیں ایک گولی صبح اور ا یک گولی شام کو پانی سے نگل لیں۔ پیشاب میں شکر آنے کے لئے مفید ہے۔

نیم کے پتے پھوڑے پھنسیوں کو دور کرتے، درد کو تسکین دیتے اور ان کو پکاکر پھوڑ دیتے ہیں اورزخموں سے مواد نکال کر پاک صاف کرتے ہیں ان فوائد کے لئے نیم کے پتوں کو کچل کر گولا سا بنائیں۔ اور اوپر کپڑا لپیٹ کر گیلی مٹی لگائیں اور آگ میں دبادیں۔

جب اوپر کی مٹی پک جائے تو اندر سے پتوں کا بھرتا نکال کر پھوڑے پھنسیوں اور زخموں پر باندھیں ۔ کھلجی میں نیم کے پتوں سے نہاتے ہیں ۔ زخموں کو اس کے پانی سے دھوتے ہیں تعفن اورسٹرانڈ کو دور کرنے والی بڑی اچھی دوا ہے۔ یعنی اینٹی سیپٹک ہے۔نیم کے پتوں کو جلاکر سرسو ں کے تیل میں ملاکر گھوٹیں۔

جب وہ مرہم سا ہوجائے تو زخموں پر لگائیں۔ ان کو مواد سے صاف کرکے بہت جلد اچھا کردیتا ہے۔ نیم کی چھال بھی خون صاف کرتی ہے اس کے علاوہ اس کو مناسب دوائوں کے ساتھ جوش دے کر پرانے موسمی بخاروں میں پلاتے ہیں اور پیٹ کے کیڑوں کو مارنے کے لئے بھی دیتے ہیں۔

نیم کے پھول بھی خون کو صاف کرتے ہیں اور پھولوں کا کاجل آنکھوں کی خارش کے لئے بہت مفید ہے۔ نیم کے پھول لے کر روئی میں لپیٹ کر بتی بنائیں اور چراغ میں سرسوں کے تیل میں جلائیں۔ اور اس کا کاجل حاصل کریں۔

اس کے بعد یہ کاجل 5 گرام، پھٹکری بھنی ہوئی ایک گرام کو مکھن20گرام میں ملاکر کانسی کے کٹورے میں نیم کی لکڑی سے رگڑیں ۔ آنکھوں میں خارش ہوگی تو وہ دور ہوجائے گی اور پلکیں سوجی ہوں اور ان کے بال گرگئے ہوں تو وہ بھی اگ آئیں گے۔

نبولی (نیم کا پھل) بھی خون کو صاف کرتی ہے پکی نبولیاں چوسنے سے خون صاف ہونے کے علاوہ قبض بھی دور ہوجاتا ہے۔ اگر پیٹ میں کیڑے ہوں تو وہ بھی ان کے استعمال سے مرجاتے ہیں۔

نبولیوں کے بیج بواسیر میں مفید ہے اسے دوسری مناسب دوائوں کے ساتھ خونی وبادی بواسیر میں کھلاتے ہیں ۔ 20گرام بیج سفید کھتہ اور بھنسیا گوگل 10گرام ملاکر جنگلی بیر کے برابر گولیاں بنائیں اور ایک ایک گولی صبح وشام پانی سے کھلائیں اور نبولی کے بیج کو پتھر پر پانی کے ساتھ گھس کر روئی لتھیڑ کر بواسیری مسوں پر لگائیں اوپر سے لنگوٹ باندھیں۔

جلن اور درد رک جائے گا۔نیم کا تیل جو نبولیوں کے بیج سے دوسرے روغنی بیجوں کی طرح نکالا جاتا ہے۔ بہت اچھا دافع تعفن (اینٹی سیپٹک) ہے اس کو سٹرے ہوئے زخموں پر لگانے سے فائدہ ہوتا ہے ۔ اگر زخم میں کیڑے پڑ گئے ہوں تو وہ اس کے لگانے سے مرجاتے ہیں ۔

اس سے مرہم بناکر سڑے ہوئے زخموں پر استعمال کرتے ہیں اور جوئوں کو مارنے کے لئے سرکے بالوں میں لگاتے ہیں۔ نیم کارس بھی خون کو صاف کرتا ہے او رمقوی ہے۔ خارش، پھوڑے پھنسی او رآتشک وجذام (کوڑھ) کے مریض بھی اس کے پلانے سے اچھے ہوجاتے ہیں۔ یہ رس روزانہ 50گرام تک پیا جاسکتا ہے۔

ضروری ہدایت

آج کل شہروں میں صبح صبح پارکوں اور چوراہوں پر ڈیبل پر بہت سارے ٹیفن رکھے نظر آتے ہیں جو مختلف قسم ہا قسم کے پتوں کا عرق بیچتے ہیں، لوگ صبح کی سیرکرنے کے بعد اپنے آپ کو صحت مند رکھنے کے لئے وہ مشروب جو آج بڑے شہروں میں فیشن بن گیا ہے چسکیاں لے کر پیتے ہیں۔

نیم کا عرق کریلے کا عرق وغیرہ وہ عرق کتنی صفائی کے ساتھ تیار کئے گئے ہیں اور ہمارے بدن کے لئے کتنے مفید ہوسکتے ہیں یہ بغیر کسی طبیب کے کہنا مشکل ہے لہٰذا صبح کے اوقات بڑے بڑے گلاسوں میں ملنے والے ان مشروبات کو بغیر طبیب کی ہدایت کے استعمال نہ کریں کیونکہ اس طرح کے مشروبات گردوں کے لئے نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔

رحیمی شفاخانہ
248چھٹا کراس گنگونڈنا ہلی مین روڈ نیئر چندرا لے آؤٹ میسوروڈ بنگلور39
فون نمبر: 9343712908

متعلقہ خبریں

Back to top button