کیا نوجوت سنگھ سدھو بھی اپنا ’سیاسی قبلہ‘ بدل سکتے ہیں،اٹھے سوال
نوجوت سنگھ سدھو نے کانگریس کے لیے ایک نیا چیلنج کھڑا کر دیا
نئی دہلی، 4 فروری:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) نوجوت سنگھ سدھو ہمیشہ پنجاب کانگریس کے لیے مسائل پیدا کرتے رہے ہیں۔ ایک طرف پنجاب میں کانگریس لوک سبھا انتخابات کے لیے عام آدمی پارٹی کے ساتھ اتحاد کے محاذ پر رسہ کشی میں مصروف ہے تو دوسری طرف نوجوت سنگھ سدھو نے کانگریس کے لیے ایک نیا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ سدھو پارٹی کی اہم میٹنگوں میں بھی شرکت نہیں کر رہے ہیں اور پنجاب کانگریس یونٹ پریشان ہے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب کانگریس نے سدھو کی شکایت براہ راست کانگریس ہائی کمان سے کی ہے۔اطلاعات ہیں کہ کانگریس کی پنجاب یونٹ کے کئی سینئر لیڈروں نے سدھو کے رویہ پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔
ان لیڈروں نے کانگریس ہائی کمان کو ایک خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ سدھو کیخلاف ڈسپلن کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے۔ پنجاب کانگریس کی طرف سے بھیجی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سدھو پارٹی لائن پر نہیں چل رہے ہیں بلکہ کھچڑی مختلف طریقے سے پکانے میں مصروف ہیں۔نوجوت سنگھ سدھو پنجاب کانگریس کی الیکشن کمیٹی کے رکن ہیں، لیکن پھر بھی وہ یکم فروری کو ہونے والی میٹنگ میں شریک نہیں ہوئے۔ اس ملاقات کے علاوہ انہوں نے ایک الگ میٹنگ بھی کی تھی جس کی تصاویر بھی انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کی تھیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سدھو پنجاب کانگریس کے لیڈروں کے خلاف طاقت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ سدھو نے پنجاب کانگریس کے انچارج اور جنرل سکریٹری دیویندر یادو کی کالوں اور پیغامات کا بھی جواب نہیں دیا۔
خیال رہے کہ اس سے پہلے موگا میں پارٹی کی اجازت کے بغیر سدھو کا جلسہ منعقد کرنا بھی تنازعات کا حصہ ہے۔ اس معاملے میں پنجاب کانگریس کے سربراہ امریندر سنگھ راجہ وڈنگ نے یہاں تک کہ سابق ایم ایل اے مہیشندر نہال سنگھ والا اور ان کے بیٹے دھرم پال سنگھ کو پارٹی سے معطل کر دیا تھا۔سدھو آج کل سوشل میڈیا پر فنی اعتبار سے ناقص شاعری(تک بندی ) کر رہے ہیں۔ حال ہی میں سدھو نے ایکس پر لکھا کہ یہ غلبہ، یہ طاقت، یہ نشہ، یہ دولت! ہر کوئی کرایہ دار ہے اور گھر بدلتا رہتا ہے۔ ایسے میں سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا نوجوت سنگھ سدھو ایک بار پھر اپنا قبلہ بد ل سکتے ہیں؟ ۔



