بین ریاستی خبریں

تین چار بچے پیدا کرنے کی اپیل، نونیت رانا کے بیان پر پرینکا چترویدی برہم: پہلے شوہروں کو پرورش کی ذمہ داری سکھائیں

نونیت رانا کے متنازع بیان پر پرینکا چترویدی کا طنز

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) بھارتیہ جنتا پارٹی کی لیڈر نونیت رانا کے اس متنازع بیان پر کہ ہندوؤں کو کم از کم تین یا چار بچے پیدا کرنے چاہئیں، سیاسی حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ اس بیان پر شیو سینا (اُدھو ٹھاکرے گروپ) کی سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا رکن پرینکا چترویدی نے سخت اور طنزیہ ردعمل ظاہر کیا ہے۔

پرینکا چترویدی نے ایک نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو اس طرح کے مشورے دینے سے پہلے سیاست دانوں کو اپنے گھروں میں جھانکنا چاہیے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ بچوں کی پرورش صرف خواتین کی ذمہ داری نہیں بلکہ شوہروں کو بھی اس میں برابر کی ذمہ داری نبھانی چاہیے۔

انہوں نے کہا،“اگر کسی کو خواتین سے یہ کہنا ہے کہ زیادہ بچے پیدا کرو، تو پہلے جا کر اپنے شوہر سے بات کریں، انہیں بچوں کی پرورش کی ذمہ داری سکھائیں، اور پھر دوسروں کو نصیحت دیں۔ جو لوگ اپنے شوہروں اور پڑوسیوں کو قائل نہیں کر سکتے، وہ ملک کی خواتین کو قائل کرنے کی کوشش چھوڑ دیں۔”

 نونیت رانا نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ زیادہ بچے پیدا کرنے کی اپیل ان عناصر کا مقابلہ کرنے کے لیے ہے جو مبینہ طور پر بڑی تعداد میں بچے پیدا کرکے بھارت کو پاکستان بنانے کی سازش کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ کچھ لوگ کھلے عام چار بیویوں اور 19 بچوں کی بات کرتے ہیں، اس لیے ہندوؤں کو بھی تین سے چار بچے پیدا کرنے چاہئیں۔

نونیت رانا کے اس بیان کو اپوزیشن جماعتوں نے اشتعال انگیز اور سماجی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آبادی جیسے حساس موضوع پر غیر ذمہ دارانہ بیانات نہ صرف خواتین پر دباؤ ڈالتے ہیں بلکہ معاشرے میں نفرت اور تقسیم کو بھی ہوا دیتے ہیں۔

اسی دوران نونیت رانا نے اُدھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیو سینا اور راج ٹھاکرے کی مہاراشٹر نونرمان سینا کے درمیان برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن انتخابات کے لیے ممکنہ اتحاد کو بھی غیر مؤثر قرار دیا اور کہا کہ اُدھو ٹھاکرے اب سیاسی طور پر کمزور ہو چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button