اسپورٹسسوانح حیات فلمی و اسپوریٹس

افتخار علی خان پٹوڈی بہترین بلے باز، ٹیم انڈیا کے پہلے مسلم کپتان

سلام بن عثمان
 
افتخار علی خان پٹوڈی 16 مارچ 1910 کو برٹش انڈیا کے پنجاب اور موجودہ ہندوستان کے ہریانہ میں نواب آف پٹوڈی خاندان میں پیدا ہوئے۔ افتخار علی خان کے آباؤ اجداد افغانستان کے قبیلے پشتون گھرانے سے تھے۔ والد محمد ابراہیم علی خان صدیقی پٹوڈی اور والدہ سحر بانو پٹوڈی تھیں۔ ان کا خاندان مشہور شاعر مرزا غالب کے قریبی رشتہ داروں میں تھا۔

افتخار علی خان پٹوڈی کو بچپن ہی سے کرکٹ میں دلچسپی تھی۔ انھیں ہندوستان میں آکسفورڈ کے مشہور کرکٹر ایم جی سلئیر نے اور انگلینڈ کے فرینک وولی نے کرکٹ میں کوچنگ کی۔ انھیں کرکٹ کے میدان میں پیٹ کہہ کر پکارا جاتا تھا۔

اپنے شروعاتی وقت میں 1927 میں انگلینڈ میں ایک میچ میں 106 اور 84 رنز بنائے تھے جس کی وجہ سے ان کی آکسفورڈ ٹیم کو شکست سے بچا لیا۔

انھیں اس وقت کے خطاب "بلیو” سے نوازا گیا۔ اس وقت انھوں نے 1931 کے سیزن میں اپنی ٹیم آکسفورڈ کے لیے 1307 رنز بنائے 93 کے اوسط سے بلے بازی کی۔اسی سال انگلینڈ یونیورسٹی کی جانب سے ایلن ریٹکلف نے کیمبرج کی طرف سے کھیلتے ہوئے 201 رنز کی بہترین بلے بازی کی۔ یہ اس وقت کا بہت بڑا ریکارڈ تھا۔ افتخار علی خان پٹوڈی کو جب معلوم ہوا تو انھوں نے فوراً اعلان کیا۔

اس ریکارڈ کو میں بہت جلد ختم کروں گا۔ اعلان کے اگلے ہی روز افتخار علی خان پٹوڈی نے برق رفتاری کے ساتھ بلے بازی کرتے ہوئے 238 رنز ناٹ آؤٹ کی شاندار اننگ کھیلی۔ یہ ریکارڈ 2005 تک آکسفورڈ یونیورسٹی میں محفوظ تھا۔ 1932 میں افتخار علی خان پٹوڈی انگلینڈ کے ورسیسٹر شائر کی طرف سے کھیلنے کے لیے ان کا انتخاب کیا گیا۔ انھوں نے صرف تین میچ اور چھ اننگز میں 65 رنز ہی بنائے۔

2 دسمبر 1932 کو انگلینڈ کی طرف سے نمائندگی کرتے ہوئے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ آسٹریلیا کے خلاف کھیلا۔ افتخار علی خان پٹوڈی 34-1932 تک انگلینڈ کی طرف سے ٹیسٹ میچ کھیلتے ہوئے ہندوستان کے پہلے ٹیسٹ کھلاڑی بنے جنھوں نے دو ملکوں کی طرف سے نمائندگی کی۔

افتخار علی خان پٹوڈی 1917 سے 1947 تک برٹش حکومت کے دور اقتدار کے وقت ہریانہ کی شاہی ریاست پٹوڈی کے حکمران نواب تھے۔ آزاد ریاست ہندوستان میں شامل ہونے کے بعد پٹوڈی لقب کا استعمال کیا گیا۔ اس لقب کو حکومت ہند نے 1952 میں ان کی موت تک قائم رکھا۔

افتخار علی خان پٹوڈی نے اپنی تعلیم برٹش حکومت کے وقت چیف کالج، لاہور سے حاصل کی۔ اس کے بعد کی تعلیم آکسفورڈ یونیورسٹی سے۔ افتخار علی خان پٹوڈی نے نواب حمیداللہ خان کی لڑکی بیگم ساجدہ سے شادی کی۔ حمید اللہ خان بھوپال کے نواب تھے۔

1928-31 تک آکسفورڈ یونیورسٹی کی طرف سے کرکٹ کھیلا۔ 1938 تک انگلینڈ میں ورکشائر کی طرف سے بھی کھیلا۔انھیں33 -1932 میں ایشز سیریز کے پہلے ٹیسٹ کے لیے انگلینڈ ٹیم میں شامل کیا گیا۔ افتخار علی خان پٹوڈی نے اپنے پہلے ٹیسٹ میں سڈنی کے میدان پر 102 رنز کی بہترین بلے بازی کی اور انگلینڈ کو دس وکٹوں سے فتح دلائی۔ انھیں اس وقت کے مشہور کھلاڑی رنجیت سنگھ کا متبادل کہا جانے لگا۔

اس وقت انگلینڈ ٹیم کے کپتان کے ساتھ ناراضگی کی وجہ سے وہ ذہنی دباؤ میں تھے جس کی وجہ سے دوسرے ٹیسٹ میں 15 اور 5 رنز ہی بنا سکے۔ انھیں بعد کے ملبورن ٹیسٹ میں بٹھا دیا گیا۔ 1933 میں پٹوڈی کا کاؤنٹی کرکٹ کا واحد مکمل سیزن رہا۔ اس میں انھوں نے شاندار بلے بازی کی۔ اس سیزن میں انھوں نے دو ڈبل سنچریاں بنائیں۔

انھوں نے 49 کے اوسط سے 1749 رنز بنائے۔ 1932 میں انھیں وزڈن کرکٹر آف دی ایئر کے خطاب سے نوازا گیا۔ لیکن 1934 میں شاندار بلے بازی کے بعد ان کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے زیادہ میچ نہیں کھیل سکے۔ انھوں نے جون 1934 میں انگلینڈ کے لیے اپنے تیسرے اور آخری ٹیسٹ میں آسٹریلیا کے خلاف ٹرینٹ برج کے میدان میں 12 اور 10 رنز بنائے۔
افتخار علی خان پٹوڈی 1936 میں انگلینڈ دورہ کے لیے کپتان مقرر ہوئے تھے۔ مگر صحت کی بنیاد پر انھوں نے کپتانی کے لیے معذرت ظاہر کی۔ آخر کار انھیں ہندوستان کے لیے کھیلنا پڑا۔

1946 میں افتخار علی خان پٹوڈی نے انگلینڈ کے دورے میں کپتانی قبول کی۔ انگلینڈ دورہ کے وقت 46 کے اوسط سے پانچ ٹیسٹ میچ میں 55 رنز بنائے۔ ان کی کپتانی پر سخت نکتہ چینی کی گئی۔ افتخار علی خان پٹوڈی کرکٹ کے علاوہ، بہترین ہاکی، بلئیرڈ اور پولو کے ماہر کھلاڑیوں میں ان کا شمار تھا۔

2007 میں ان کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر ان کی یاد میں ملبورن کرکٹ کلب نے افتخار علی خان پٹوڈی کے نام ایک یادگار ٹرافی کا انعقاد کیا۔ افتخار علی خان پٹوڈی نے 2 دسمبر 1932 کو انگلینڈ کی طرف سے نمائندگی کرتے ہوئے آسٹریلیا کے خلاف اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔ انھوں نے تین ٹیسٹ انگلینڈ کی طرف سے کھیلے اور تین ٹیسٹ ہندوستان کی طرف سے کھیلے۔

اپنے چھ ٹیسٹ میچوں میں 199 رنز بنائے۔ جس میں ایک نصف سنچری کے ساتھ بہترین 102 رنز بھی شامل ہیں۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں 127 میچوں میں 8750 رنز بنائے۔ جس میں 29 سنچریاں اور 34 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ بہترین اسکور 238 رنز ناٹ آؤٹ۔ 757 گیند بازی میں 15 وکٹوں کے ساتھ ایک مرتبہ ایک میچ میں پانچ وکٹ لینے کا اعزاز حاصل ہے۔ بہترین گیند بازی میں 111 رنز دے کر چھ وکٹوں کے ساتھ 58 بہترین کیچ بھی شامل ہیں۔

افتخار علی خان پٹوڈی 5 جنوری 1952 کو پولو کھیلتے ہوئے دل کا دورہ پڑنے سے دہلی میں انتقال ہوا۔ اس وقت ان کے بیٹے منصور علی خان پٹودی گیارہ برس کے تھے۔ جو بعد میں ٹیم انڈیا کے مشہور کپتان اور کھلاڑی بنے۔

ان کے بعد منصور علی خان پٹوڈی نے نویں نواب کی حیثیت سے ان کی جگہ لی۔ افتخار علی خان پٹوڈی بالی ووڈ کے مشہور اداکار سیف علی خان اور سوہا علی خان کے دادا تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button