سوانح حیات فلمی و اسپوریٹس

نیلما عظیم ۔ بہترین ڈانسر،اداکارہ ،فلمساز اور ہدایت کار

سلام بن عثمان

 2 دسمبر 1958 کو ماسکو میں پیدا ہوئیں۔والدہ بھی بہترین افسانہ نگار رہیں۔ماسکو سے سب دہلی آئے تو والدین اس وقت کا مشہور اخبار بلٹز میں بطور صحافی منسلک تھے۔جس کہ وجہ سے گھر کا ماحول بھی ادبی رہا یہ کہانا غلط نہیں ہوگا کہ نیلمہ کو ادب ورثہ میں ملا۔خواجہ احمد عباس بالی ووڈ کے مشہور کہانی کار کی فہرست میں شمار تھے۔

نیلمہ عظیم جب کبھی اپنے نانا کے گھر جاتی تو ادبی ماحول میں اپنے آپ کو دیکھتی کبھی مجروح سلطانپوری،کیفی اعظمی و دیگر ادیب و شاعر خواجہ احمد عباس کے یہاں اکثر محفل جمی رہتی تھی۔

نیلمہ neelma-azeem-best-dancer-actress-filmmaker-and-director

نیلمہ کو بچپن سے ہی ڈانس کا شوق تھا والدین نے جب دیکھا کہ بچی کا رجحان ڈانس کی طرف ہے تو انھوں نے اس وقت کے مشہور ڈانس ماسٹر برجو مہاراج کی کلاس میں نیلمہ کو ڈانس کی تربیت کے لئے داخلہ کرایا۔اس وقت نیلمہ آٹھویں کلاس میں تھی۔برجو مہاراج کے علاؤہ ڈانس ماسٹر شکلاء جی کے یہاں بھی ڈانس سیکھنے کے لئے نیلمہ جایا کرتی تھی۔نیلمہ کو کتھک بہت پسند تھا۔

نیلمہ neelma-azeem-best-dancer-actress-filmmaker-and-director

برجو مہاراج کے پاس ڈانس سیکھنے کے دوران کتھک کی زبان سمجھ چکی تھی۔ کتھک کی دھن کو بہت اچھی طرح گا بھی لیتی تھی۔؎

جب برجو مہاراج نے نیلمہ کے اس فن کو دیکھا تو وہ بہت خوش ہوئے اور انھوں نے اپنے ساتھ کتھک کے شوز میں ساتھ لے جانے لگے۔پھر کیا تھا نیلمہ کتھک میں اتنی ماہر ہوگئی تھی کہ اب وہ پروگرام کے کوریوگرفر کی حیثیت سے بھی کام کرنا شروع کیا۔

نیلمہ neelma-azeem-best-dancer-actress-filmmaker-and-director

اس کے علاؤہ نیلمہ کو اداکاری کو شوق بھی بچپن سے تھا کیونکہ ان کے نانا خوجہ احمد عباس بالی ووڈ کے مشہور کہانی کار تھے کبھی کبھی اسٹوڈیو میں نانا کے ساتھ جایا کرتی تھی،اور اس شوق نے نیلمہ کو حبیب تنویر کے ڈراموں تک پہنچا دیا۔اس وقت نیلمہ ڈراموں میں اپنی اداکاری کے ذریعے بہت مشہور تھی۔

اس وقت شیکھر کپور این ایس ڈی سے اداکاری سیکھ کر حبیب تنویر کے ڈراموں میں شامل ہوگئے۔شیکھر کپور کو بھی ڈرامہ سے بہت شہرت ملی ۔

تین شادیوں کے ناکامی کے بعد نیلمہ نے اپنا وقت اداکاری کے علاؤہ افسانہ نگاری،ہدایت کاری اور فلم سازی کے ساتھ برجو مہاراج کے شوز بھی کرتی رہیں

وہاں نیلمہ سے شیکھر کپور کی ملاقات ہوئی اور ڈرامہ کرتے کرتے دونوں ایک دوسرے کے قریب ہو گئے،نیلمہ اس وقت صرف پندرہ سال کی تھی۔اور شیکھر کپور کی عمر 21 سال تھی۔

دو برس بعد 1975 میں دونوں نے شادی کی،ایک لڑکا ہوا جو آج بالی ووڈ کا مشہور اداکار شاہد کپور ہے۔مگر اولاد ہونے کے بعد سے دونوں کے اختلافات اتنے بڑھے کہ طلاق تک بات پہنچی گئی اور 1981 کو دونوں کا طلاق ہوگیا۔نیلمہ شاہد کے ساتھ اکیلے رہنے لگی،اپنے آپ کو سنبھالنے کے لئے ایک مرتبہ پھر نیلمہ بروجو مہاراج شوز میں شامل ہوگئی۔

نیلمہ نے ایک انٹرویو میں بتایا کی "کم عمر میں طلاق ہونا بہت ہی پریشان کن معاملہ میری ذاتی زندگی میں تھا شاہد کی پرورش اور اس کو وہ پیار نہیں مل سکا جس کی وجہ سے شاہد خاموش مزاج طبیعت کا تھا، شاہدکو والد کے پیار محبت کی کمی محسوس ہونے کی وجہ بھی رہی۔شاہد نے مجھے ہمیشہ کام کے لئے دوڑتے دیکھا ہے۔

"ڈرامہ کے وقت سے ہی بالی ووڈ کے اداکاروں سے دوستی رہی جس میں راج ببر اور نادرہ ببر سر فہرست ہیں۔ نیلمہ جب دلی میں رہتی تھی اس وقت ایک فلم آفر ملا "کرم یودھا” جس کے لئے ممبئی آنا شروع ہوا۔

فلم مکمل ہونےکے اس درمیان ایک اور فلم ملی "سلیم لنگڑے پر مت روؤ” نمائش کے لئے فلم کرم یودھا سنیما گھروں دیر سے آئی پہلی فلم سلیم لنگڑے۔۔۔۔اور اس طرح نیلمہ عظیم کا فلمی سفر شروع ہوا۔چاہے وہ حبیب تنویر کے ڈرامہ ہو یا پرتھوی تھیٹر کے ڈرامہ ہوں نیلمہ فرصت کے وقت ڈراموں کو ترجیح دیا کرتی تھیں۔جس کی وجہ سے زیادہ تر وقت پرتھوی تھیٹر میں ہی گزرتا تھا اور وہیں پرتھوی کیفے میں ہی ڈراموں اور بالی ووڈ کی نیٹ ورکنگ ہوا کرتی تھی۔

اس وقت کے مشہور ڈرامہ نگار لیکھ ٹنڈن ایک ٹی وی سیریل بنا رہے تھے” پھروہی تلاش” اس سیریل کے لئے نیلمہ کو شہناز کے کردار کے لئے لیا گیا۔ کہانی کے مطابق لیکھ ٹنڈن کو نیلمہ میں شہناز نظر آئی۔نیلمہ کے سامنے مرکزی کردار شاہ رخ خان کا تھا( آج کا سپر اسٹار) کیپٹن کا کردار تھا مگر ڈائریکٹر کو کسی بھی زاویے سے شاہ رخ خان کیپٹن نہیں لگ رہے تھے۔

جس کی وجہ سے شاہ رخ خان کو ہٹا کر راجیش کھٹر کو لیا گیا۔سیریل کے درمیان نیلمہ اور راجیش کھٹر کے درمیان محبت ہوگئی اور دونوں نے 1990 میں شادی بھی کی۔اور اس شادی سے ایک لڑکا پیدا ہوا ایشانت کھٹر، آج بالی ووڈ میں اپنی شناخت بنا رہا ہے۔نیلمہ کو پھر وہی تلاش میں شہناز کے کردار سے شہرت ملی بالی ووڈ سے زیادہ ٹی وی شوز سے نیلمہ کو بہت شہرت ملی۔

مہیش بھٹ نے جب یہ سیریل دیکھا تو وہ شہناز کے کردار سے بہت متاثر ہوئے اور جب انھیں معلوم ہوا کہ نیلمہ پرتھوی تھیٹر آتی ہے تو انھوں نے پرتھوی کیفے میں اپنا فون نمبر دیا اور ملنے کو کہا۔نیلمہ بہت ڈری سہمی تھی مگر ہمت والی نیلمہ نے مہیش بھٹ سے رابطہ کیا ان کے گھر گئیں مہیش بھٹ نے اپنی فلم سڑک کا آفر دیا اور یہ بھی بتایا کہ مرکزی کردار میں سنجے دت اور میری بیٹی پوجا بھٹ ہے آپ کو دوسری ہیروئن کے طور پر کام کرنا ہے اور آپ کے ساتھ دیپک تیجوری ہے۔نیلمہ فلم کے لئے تیار ہوگئی۔ فلم سڑک میں ایک نغمہ نیلمہ پر فلمایا گیا جو بہت مشہور ہوا

"جینے کی تمنا جاگ اٹھی۔۔۔تک دھن دھن تک دھن دھن تک۔۔۔۔”

فلم کے نغمہ کی شوٹنگ مکمل ہوئی تو معلوم ہوا کہ نیلمہ بغیر سینڈل کے شوٹنگ کی وہ بھی تیز دھوپ میں پیروں میں ہلکے ہلکے چھالے پڑ گئے تھے۔فلم سڑک کے بعد نیلمہ نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا بالی ووڈ میں وہ مشہور ہو گئیں۔

اس درمیان نیلمہ کو رشی کیش مکھرجی کا فون آیا مگر نیلمہ کو یقین نہیں ہو ریا تھا کہ اتنے بڑے فلم ساز نے مجھے فون کیا،نیلمہ نے اپنے طور پر معلومات نکالی کہ یہ نمبر رشی دا کا ہے،جب معلوم ہوا کہ یہ نمبر واقعی رشی دا کا ہی ہے جب جا کر نیلمہ نے رشی دا سے ملاقات کی،انھوں نے اپنی سیریل "تلاش” کی کہانی سنائی نیلمہ کو کہانی بہت پسند آئی اور سیریل کے لئے ہاں کردی۔ اس سے پہلے رشی کیش مکھرجی اس سیریل کے لئے شبانہ اعظمی یا پھر ریکھا کو لینا چاہتے تھے مگر ان دونوں کی جگہ نیلمہ کو موقع ملا۔

نیلمہ ٹی وی سیریل اور فلم کرتے کرتے وہ ایک الگ سوچ میں مبتلا ہو جاتی کہ میں کتنی مصروف ہوگئی ہوں ایک طرف میرا کتھک جس سے وہ بے حد محبت کرتی اور دوسری طرف کتھک شوز کی کوریوگرافی کرانا ہوتا تھا اس کے علاؤہ دو بچوں کی پرورش یہ ایک ذاتی ذمہ داری بھی تھی۔ گھر کی بھی روک ٹوک کی وجہ سے انھیں کئی فلموں کو انکار کرنا پڑا وہ تمام کی تمام فلم سپر ہٹ ہوئی۔

وہ فلمیں تھیں حنا،امراؤجان،اتسو،مشعل،اور منڈی کے علاؤہ اور بھی فلم رہی۔اسی درمیان 2004 میں رضا علی خان سے تیسری شادی بھی ہوئی مگر یہ شادی بھی آپسی اختلاف کا شکار ہوئی 2009 یعنی پانچ سال بعد دونوں کا طلاق ہوگیا۔نیلمہ بہت پریشان ہوگئی۔تین شادیوں کے ناکامی کے بعد نیلمہ نے اپنا وقت اداکاری کے علاؤہ افسانہ نگاری،ہدایت کاری اور فلم سازی کے ساتھ برجو مہاراج کے شوز بھی کرتی رہیں،

https://urduduniya.in/%d9%be%d9%88%d9%86%d9%85-%da%a9%d9%88-%d9%85%d8%b3-%d8%a7%d9%86%da%88%db%8c%d8%a7-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%d8%a7%d9%84%db%8c-%d9%88%d9%88%da%88-%d8%aa%da%a9-%d9%be%db%81%d9%86%da%86%d8%a7%db%8c/

اس کے ساتھ اسٹیج شوز کو بھی رونق بخشی۔ایک فلم بنائی "نواب نوٹنکی”نیلمہ بالی ووڈ کی ایک ایسی اداکارہ رہی جسے اداکاری کا بڑا ہنر ورثہ میں ملا۔نیلمہ ادب سے منسلک وہ تمام تر باتیں مشاعرے،شعری نشست،افسانوی نشست یہ تمام ان کی زندگی کا حصہ رہا ہے جسے ان کے نانا خواجہ احمد عباس کے ذریعے ورثہ میں ملا۔

نیلمہ کو اداکاری سیکھنے کے لئے اسکول نہیں جانا پڑا اور نا ہی کسی نے انھیں متعارف کرایا۔کام ان کے پاس خود چل کر آیا ان کا شوق اور ہنر نے ایک بہترین شناخت دلائی۔ نیلمہ کے زندگی کا سب سے بڑا حصہ ڈانس اور ٹی وی شوز کے ساتھ ذاتی زندگی کو خوشگوار ماحول میں تبدیل کرنے میں گزرا۔جس کی وجہ سے انھیں زیادہ فلمیں کرنے کا موقع نہیں ملا۔

دوسری طرف دیکھا جائے تو تین شادیوں کے بعد نیلمہ نے دو بیٹے شاہد اور ایشانت بالی ووڈ کو بہترین اداکار،کے ساتھ بہترین ڈانسر دئے۔دونوں بیٹے ہر لحاظ سے بہتر ہے ان کا بالوں کے اسٹائل ہو یا پھر ڈانس کا پھرتیلا بدن جسے بالی ووڈ نے بھی قبول کیا اور انھیں فلمیں مل رہی ہے۔نیلمہ عظیم ایک کامیاب اداکارہ، ڈانسر، کریوگرافر،ہدایت کار،اور فلم ساز کے ساتھ، ایک کامیاب زندگی پر، کامیابی کے ساتھ نیلمہ ایک کامیاب سفر پر گامزن ہے۔

نیلمہ عظیم نے بالی ووڈ کے علاؤہ کئی ٹی وی سیریل بھی کئے ہے جن میں پھر وہی تلاش،امر پالی،دی سورڈ آف ٹیپو سلطان، جنون،کاشمیر،شانتی قابل تعریف رہی۔وہیں ان کی مشہور فلمیں رہیں جن میں سلیم لنگڑے پر مت روؤ،کرم یودھا، سڑک، ایتہاس،عشق وشق،بلیک میل،دی اللیگل ہے۔

نیلمہ بالی ووڈ اور ٹالی ووڈ کے بدلتے دور میں اب ویب سیریز میں آنے والی ہے "مآم اینڈ کو”سوہاسنی جوشی کے کردار میں نظر آئیں گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button