مقبوضہ بیت المقدس ، 4دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اسرائیلی فوج کی جانب سے جنوبی غزہ کی پٹی میں زمینی کارروائی شروع کرنے کے بعد وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ تل ابیب مزید قیدیوں کی رہائی کے لیے حماس کے ساتھ بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے لیکن فوجی دباؤ بھی برقرار رکھا ہوا ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل اخبار کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ اب ہم حماس کے ساتھ یرغمالیوں کو رہا کرنے کے بارے میں بات کر رہے ہیں لیکن ہم بمباری کے دباؤ میں بات کر رہے ہیں۔نیتن یاھو نے اپنی لیکود پارٹی کے ارکان کو یہ بھی بتایا کہ جنگی کونسل فوجی فیصلوں کے حوالے سے لاپرواہی سے دور رہتے ہوئے تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اسرائیل جنوبی اور شمالی محاذوں پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔انہوں نے اپنی لیکود پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزرا اور کنیسٹ ارکان سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ جنگ کے وقت سیکورٹی فورسز پر تنقید نہ کریں۔
یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب اسرائیلی فوج نے خان یونس کے شمال میں اتوار کو ایک زمینی کارروائی شروع کی۔ اس میں جنوبی شہر اور اس کے اطراف میں انخلا کے احکامات میں توسیع کی گئی تھی۔ پانچ علاقوں سے لوگوں کو نکل جانے کا کہا گیا۔جنوبی غزہ کی پٹی میں فوجی کارروائی میں تیزی نیتن یاھو کی جانب سے ہفتہ کو مذاکرات کے لیے قطر جانے والی موساد کی ٹیم کو واپس بلانے کے بعد سامنے آئی۔ واضح رہے 24 نومبر کو شروع ہونے والی جنگ بندی میں خواتین، بچوں اور غیر ملکی قیدیوں کو رہا کیا گیا جنہیں حماس نے 7 اکتوبر کے حملے میں حراست میں لیا تھا۔ بدلے میں اسرائیل نے اپنی جیلوں میں قید متعدد فلسطینیوں کو رہا کیا۔تنازعہ کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 110 یرغمالیوں کو رہا کیا گیا ہے جن میں جنگ بندی کے دوران 105 افراد کو رہا کیا گیا۔
رہا ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل تھے۔ حماس اور اس سے منسلک گروپوں کے ہاتھوں میں 136 یرغمالی ابھی تک موجود ہیں۔اسرائیل نے حماس کو ختم کرنے کا عزم کر رکھا ہے اور اس کے لیے غزہ پر شدید بمباری کی ہے۔ جنگ بندی کے بعد تین دنوں میں بڑے پیمانے پر بمباری میں مزید سینکڑوں فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔ 7 اکتوبر کے بعد سے غزہ میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 15523 ہوگئی ہے۔
اسرائیلی بمباری سے شہدائے فلسطین کی کل تعداد 15523 ہوگئی: وزارتِ صحت غزہ
غزہ، 4دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) غزہ میں حماس حکومت کی وزارت صحت نے اتوار کے روز اعلان کیا ہے کہ 7 اکتوبر سے لے کر اب تک اسرائیلی بمباری سے 152523 فلسطینی شہری شہید ہوگئے۔ وزارت صحت کے اس اعلان کے مطابق غزہ کے ان شہداء میں 70 فیصد تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ترجمان وزارت صحت اشرف القدرۃ نے اپنے بیان میں زخمیوں کی تعداد بتاتے ہوئے کہا کہ 7 اکتوبر سے اب تک صرف غزہ میں زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 41316 ہوچکی ہے۔اسرائیل کے غزہ پر یہ حملے فضائی بمباری کے علاوہ ٹینکوں اور سنائپرز کی مدد سے بھی جاری ہیں۔صرف پچھلے چند گھنٹوں کے دوران ہونے والے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 316 شہید اور 664 زخمی فلسطینیوں کو ملبے سے نکالا جاسکا ہے۔
جبکہ بہت سارے لوگ زخمی حالت میں ملبے کے نیچے ہیں۔ایک ہفتہ پر پھیلی جنگ بندی جو قطر، مصر اور امریکہ کی کوششوں سے عمل میں آئی تھی جس کے نتیجے میں 80 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی 240 فلسطینی قیدیوں کے بدلے ممکن ہوئی تھی۔ لیکن جنگ بندی میں وقفہ ختم ہونے کے بعد اسرائیل کی طرف سے غزہ پر دوبارہ بمباری شروع کی جاچکی ہے۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے کا الزام بھی لگا رہے ہیں۔
بیرون ملک حماس رہنماؤں کو ختم کردیں گے، سربراہ شاباک کی دھمکی
مقبوضہ بیت المقدس ، 4دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیل کی داخلی سلامتی سروس (شاباک) کے سربراہ رونن بار نے حماس کے رہنماؤں کو بیرون ملک قتل کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ اتوار کو اسرائیلی پبلک براڈکاسٹنگ کارپوریشن کی طرف سے نشر کی گئی ایک ریکارڈنگ میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل قطر، ترکی اور لبنان میں حماس کا پیچھا کرے گا۔ اس مقصد کے لیے اسے چاہے برسوں بھی لگ جائیں۔رونن بار نے مزید کہا کہ کابینہ نے ہمارے لیے ایک ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ ہدف حماس کو ختم کرنا ہے۔ ہم اپنے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے غزہ میں، مغربی کنارے میں، لبنان میں، ترکیہ میں اور قطر میں کہیں بھی جا سکتے ہیں۔ چاہے اس میں چند سال بھی لگ جائیں لیکن ہم اس پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا حالیہ حملہ ہمارا میونخ ہے۔میونخ کا ذکر کرتے ہوئے رونن بار نے 1972 میں اسرائیلی اولمپک ٹیم کے 11 ارکان کی ہلاکت پر اسرائیل کے ردعمل کا حوالیہ دیا۔
اس وقت فلسطینی بلیک ستمبر تنظیم کے بندوق برداروں نے میونخ اولمپکس پر حملہ کیا تھا۔ اسرائیل نے کئی سالوں اور کئی ملکوں میں تنظیم کے کارکنوں کے خلاف ٹارگٹ کلنگ مہم چلا کر اس حملے کا جواب دیا تھا۔رائٹرز کے مطابق یہ واضح نہیں ہے کہ ایجنسی کے سربراہ نے یہ بیانات کب یا کس کے لیے دیے۔سربراہ شاباک کے اس بیان پر حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ کے میڈیا ایڈوائزر طاہر النونو نے کہا ہے کہ حماس کے رہنماؤں کو اندرون اور بیرون ملک نشانہ بنانے کی اسرائیلی دھمکیاں تحریک کے کسی بھی رہنما کو خوفزدہ نہیں کرتیں۔ یہ دھمکیاں ان مشکلات کی عکاسی کر رہی ہیں جس کا اسرائیل سامنا کر رہا ہے، یہ دھمکیاں دشمن کے رہنماؤں کی طرف سے بیان کردہ برادر ملکوں کی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
شجاعیہ کالونی پر مزید حملے کریں گے، اسرائیل کی حماس رہنماؤں کی تصاویر کے ساتھ دھمکی
مقبوضہ بیت المقدس ، 4دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)غزہ شہر کے مشرق میں الشجاعیہ کالونی پر دوبارہ اسرائیلی حملے شروع ہوئے تو اسرائیلی فوج نے ایک نئی وارننگ جاری کردی ہے۔صہیونی فوج کے ترجمان اویچائی ادرائی نے دھمکی دی ہے کہ اس کالونی پر بڑی فائر پاور کے ساتھ حملہ کریں گے۔ انہوں نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک مختصر بیان میں کہا اس محلے میں حماس کے تمام رہنما جن کیلئے ہفتہ کو بھی اس کالونی پر حملہ کیا گیا تھا بدستور ہمارا ہدف ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ اسرائیلی فوج حماس کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے کے لیے کالونی میں انتہائی طاقت کے ساتھ کارروائی کرے گی۔ صہیونی فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ جن حماس رہنماؤں کی تصاویر ٹویٹ میں شائع کی گئی ہیں ان کے پاس صرف دو اختیارات ہیں۔ وہ ہتھیار ڈال دیں یا پھر وہ کمانڈر وسام فرحات اور یونس مشتھی کی طرح اپنی قسمت کا انتظار کریں۔
اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے دیگر علاقوں کے ساتھ ساتھ ہفتہ کے روز شجاعیہ محلے میں 50 سے زیادہ رہائشی عمارتوں اور گھروں پر بمباری کی تھی۔ اتوار کو غزہ انفارمیشن آفس نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اسرائیلی بمباری میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 700 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔اتوار کی شام فلسطینی حکام نے بتایا 7 اکتوبر کو شروع ہونے والی جنگ کے 58 ویں روز تک غزہ میں فلسطینی شہدا کی تعداد 15523 ہوگئی ہے۔ زخمیوں کی تعداد 41316 ہے۔
اسرائیلی فوج کی دوسرے بڑے شہر خان یونس پر زمینی کارروائی شروع
غزہ، 4دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کی پٹی کے دوسرے بڑے شہر خان یونس شہر کے اندر اور اطراف کے علاقوں کے مکینوں کو انخلاء کا حکم دینے کے بعد فوج نے خان یونس کے شمال میں زمینی کارروائی شروع کردی۔اطلاع کے مطابق اسرائیلی ٹینک جنوبی شہر میں اپنی زمینی کارروائی شروع کرنے کے بعد خان یونس کے شمال میں مختلف مقامات پر بمباری کر رہے ہیں۔ اتوار کے روز اسرائیلی فوج نے خان یونس اور اس کے آس پاس کے افراد کے لیے انخلا کے احکامات میں توسیع کی تھی اور کم از کم پانچ دیگر علاقوں اور محلوں کے رہائشیوں کو وہاں سے نکل جانے کو کہا تھا۔فلسطینی رہائشیوں کا کہنا تھا کہ فوج نے پرچے گرائے ہیں جس میں انہیں جنوب کی طرف سرحدی شہر رفح یا جنوب مغرب میں کسی ساحلی علاقے میں جانے کا حکم دیا گیا ہے۔ کتابچے میں کہا گیا ہے کہ خان یونس کا شہر ایک خطرناک جنگی علاقہ ہے۔
دریں اثنا امریکہ نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ لوگوں کے نئے اور بڑے پیمانے پر اخراج سے گریز کرے اور جنوبی غزہ کی پٹی میں اپنی زمینی کارروائی کے دوران شہریوں کے تحفظ کے لیے مزید کوششیں کرے۔سات اکتوبر کے حملے سے شروع ہونے والی جنگ کے ابتدائی دنوں میں اسرائیل کی جانب سے شہریوں کو شمال سے نکل جانے کے حکم دیا گیا تھا۔ اس کے بعد پٹی کی 23 لاکھ کی آبادی کا زیادہ تر حصہ جنوب کی طرف آ چکا ہے۔توقع کی جارہی ہے کہ غزہ کی پٹی کے جنوبی حصے پر حملے میں اسرائیل کی توجہ اہم ترین شہری مرکز خان یونس اور حماس کے رہنما یحییٰ سنوار اور محمد ضیف سمیت دیگر رہنماؤں کو نشانہ بنانے پر ہوگی.
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اسرائیل کا خیال ہے کہ یحییٰ سنوار محمد الضیف اور چند دیگر سینئر رہنماؤں کے ساتھ ملکر حماس کی فوجی کارروائیوں کا انتظام کر رہے ہیں۔اسرائیلی فوج مصر کی سرحد پر واقع رفح شہر پر بھی کارروائیاں کرے گی۔ اسرائیلی جنگی منصوبوں سے واقف ایک شخص نے بتایا ہے کہ غزہ اور مصر کے درمیان سرحدی گزرگاہ اور سمگلنگ کی سہولت دینے والی سرنگیں حماس کی فوجی صلاحیتوں کی تعمیر نو کے لیے اہم آکسیجن چینل ہیں۔ایک اسرائیلی عہدیدار نے کہا ہے کہ حماس کے عفریت میں تبدیل ہونے کی نمائندگی رفح کرتا ہے۔ مصر کے ساتھ غزہ کی پوری سرحد کا جائزہ لینا چاہیے۔
یرغمالیوں کی تلاش کےلیے برطانیہ کا غزہ کی فضائی نگرانی کا فیصلہ
لندن، 4دسمبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے افراد کی تلاش میں مدد فراہم کرنے کے لیے برطانوی فوج نے غزہ کی فضائی نگرانی کا فیصلہ کیا ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق برطانیہ کی وزارت دفاع نے جاری بیان میں کہا ہے کہ یرغمالیوں کو ریسکیو کرنے کے لیے مشرقی بحیرہ روم سیمت غزہ اور اسرائیل کی فضائی نگرانی کریں گے۔بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان فوجی پروازوں کا آغاز کب ہوگا تاہم اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ غیرمسلح ہوں گی اور ان کا مقصد صرف یرغمالیوں کو بچانا ہے۔7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کے بعد حماس نے 240 اسرائیلوں کو یرغمال بنایا تھا جن میں غیر ملکی بھی شامل تھے۔ یرغمالیوں میں سے 110 کو رہا کیا جا چکا ہے۔عارضی جنگ بندی کے اختتام پر اسرائیل نے جمعے سے ایک مرتبہ پھر غزہ پر حملوں کا آغاز کر دیا ہے جس کے بعد باقی یرغمالیوں کی رہائی کی امیدیں کھٹائی میں پڑ گئی ہیں۔
برطانیہ کا کہنا ہے کہ حماس کے اسرائیل پر حملے میں اس کے کم از کم 12 شہری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ پانچ لاپتہ ہیں۔تاہم برطانیہ نے واضح نہیں کیا کہ حماس نے اس کے کتنے شہریوں کو یرغمال بنا رکھا رہے۔وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ’نگرانی کرنے والا طیارہ غیر مسلح ہوگا اور اس کا جنگی کردار نہیں ہے۔ اس کا کام صرف یرغمالیوں کو تلاش کرنا ہے۔بیان کے مطابق یرغمالیوں کو ریسکیو کرنے کے حوالے سے معلومات متعلقہ حکام کو بھجوائی جائیں گی جو ریسکیو کرنے کے ذمہ دار ہیں۔برطانوی وزیر وکٹوریا ایٹکنز نے نشریاتی ادارے بی بی سی کو بتایا کہ اس مقصد کے لیے ’غیر مسلح اور بغیر پائلٹ ڈرونز‘ بھی استعمال کیے جائیں گے۔امریکہ کے ساتھ برطانیہ نے بھی اکتوبر میں متعدد فوجی ذرائع مشرقی بحیرہ روم میں بروئے کار لائے تھے تاکہ ’اس تنازع میں کسی قسم کی نقصان دہ مداخلت‘ سے بچا جا سکے۔اُس وقت برطانوی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ میری ٹائم پٹرولنگ کے علاوہ سرویلنس کے لیے طیارے تعینات کیے گئے ہیں۔



