کٹھمنڈو جل اٹھا: سوشل میڈیا پابندی پر احتجاج، 19 ہلاکتیں، وزیر داخلہ مستعفی
پارلیمنٹ پر دھاوا اور کرفیو نافذ
کٹھمنڈو، 8 ستمبر (اردو دنیا/ایجنسیز)نیپال میں سوشل میڈیا پر پابندی عوامی غصے کا سبب بن گئی۔ کٹھمنڈو سمیت مختلف شہروں میں پیر کے روز ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ فیس بک، ایکس (ٹوئٹر)، یوٹیوب اور انسٹاگرام سمیت 26 سوشل میڈیا ایپس پر پابندی نے نوجوان نسل کو مشتعل کر دیا۔احتجاج کے دوران ملک بھر میں جھڑپیں ہوئیں جن میں کم از کم 19 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو کٹھمنڈو کے مختلف اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔
شدید عوامی غصے اور خونریز جھڑپوں کے بعد نیپال کے وزیر داخلہ رامیش لکھک نے استعفیٰ دے دیا۔ کابینہ اجلاس کے دوران انہوں نے اپنا استعفیٰ وزیراعظم کے پی شرما اولی کو پیش کیا۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے ’’اخلاقی بنیادوں‘‘ پر استعفیٰ دیا۔
مظاہرین نے کٹھمنڈو کے علاقے نیو بانیسور میں پارلیمنٹ کا گھیراؤ کیا، خاردار تاریں پھلانگیں اور پولیس کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ اس دوران پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا مگر مظاہرین کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے سکیورٹی فورسز کو پارلیمنٹ کے اندر پناہ لینی پڑی۔
ضلعی انتظامیہ نے پارلیمنٹ، صدارتی محل اور حکومتی دفاتر کے گرد کرفیو نافذ کر دیا۔ اس کے علاوہ بٹول، بھیراوا، اٹہری اور دمک میں بھی کرفیو لگا دیا گیا ہے۔
ادھر بھارت-نیپال سرحد پر بھی ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ بھارتی بارڈر فورس "سشستر سیما بال” (SSB) نے کہا کہ حالات پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔مظاہرے کو "جنریشن زیڈ احتجاج” کا نام دیا جا رہا ہے، جس میں زیادہ تر نوجوان شامل تھے۔ وہ نعرے لگا رہے تھے:”سوشل میڈیا پر پابندی ختم کرو، بدعنوانی ختم کرو، سوشل میڈیا نہیں۔”



