بین الاقوامی خبریںسرورق

نیتن یاہو کا دعویٰ: "ہم نے مشرق وسطیٰ کا چہرہ بدل دیا”

جنگ کے لیے تیار ہیں، امریکہ ہتھیار فراہم کر رہا ہے

تل ابیب:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بدھ کے روز دعویٰ کیا کہ اسرائیل کی فوجی کارروائیوں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب اسرائیل نے قاہرہ میں منعقدہ غیر معمولی عرب سربراہی اجلاس میں غزہ کے لیے مصر کے امن منصوبے کو مسترد کر دیا۔

"جنگ کے لیے تیار ہیں، امریکہ ہتھیار فراہم کر رہا ہے”

نیتن یاہو نے نئے اسرائیلی آرمی چیف کی تقریب حلف برداری میں کہا کہ "اگر ضرورت پڑی تو ہم دوبارہ جنگ میں جا سکتے ہیں۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج نے شام کے جبل الشیخ پر پہنچ کر مشرق وسطیٰ کا چہرہ بدل دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "امریکہ کی حمایت سے اسرائیل کو مزید ہتھیار مل رہے ہیں، اور مقامی دفاعی صنعتوں کی توسیع سے بیرونی اسلحے پر انحصار کم ہوگا۔”

"ہم جنگ کے مقاصد مکمل کریں گے”

نیتن یاہو نے تل ابیب کی جنگی حکمت عملی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ "ہم نے اسرائیلی قیدیوں میں سے کئی کو واپس لا چکے ہیں اور باقی کو واپس لانے کے لیے بھی پرعزم ہیں۔”

غزہ، شام اور لبنان میں اسرائیلی پالیسی

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب اسرائیل نے مصر کے اس منصوبے کو مسترد کر دیا، جس میں تباہ شدہ غزہ کی تعمیر نو اور حماس کو کنٹرول سے ہٹانے کی تجویز دی گئی تھی۔

نیتن یاہو نے واضح کیا کہ اسرائیل غزہ کا کنٹرول فلسطینی اتھارٹی یا حماس کے حوالے کرنے پر راضی نہیں ہوگا، جس کے بعد غزہ کے مستقبل پر مزید سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

اسرائیل کی شام میں بڑھتی سرگرمیاں

باخبر ذرائع کے مطابق، اسرائیل مقبوضہ گولان کے بفر زون میں مسلسل دراندازی کر رہا ہے اور شام میں دروز اقلیت کو اسد حکومت کے خلاف دباؤ ڈالنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال

اسرائیل کے سات مختلف محاذوں پر لڑنے کے دعوے، غزہ میں امن منصوبے کی مستردگی، اور شام میں فوجی مداخلت نے خطے کو مزید غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ "یہ جنگ صرف آج کے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔”

متعلقہ خبریں

Back to top button