بین الاقوامی خبریں

نیتن یاہوصدارتی الیکشن میں ٹرمپ کی فتح کیلئے پر امید ہیں: تجزیہ کار

نیتن یاہوصدارتی الیکشن میں ٹرمپ کی فتح کیلئے پرامید ہیں: تجزیہ کار

نیویارک ،27اکتوبر ( ایجنسیز)

جیسا کہ امریکی صدارتی انتخابات اواخر کی طرف بڑھ رہے ہیں تو اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو ممکنہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کی امید کر رہے ہیں۔بطورِ صدر ٹرمپ کا آخری دور نیتن یاہو کے لیے اچھا تھا اور پانچ نومبر کو ہونے والے ووٹ کے حوالے سے سابق صدر نے اپنی شرقِ اوسط کی پالیسی پر ملے جلے پیغامات بھیجے ہیں۔نیتن یاہو کو ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کرنے کی ترغیب دینے سے لے کر – جس سے اسرائیل نے ہفتے کے روز اپنے حملوں میں گریز کیا تھا –

اسرائیلی رہنما پر تنقید کرنے تک ان کے تبصروں میں مختلف باتیں شامل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ سات اکتوبر کا حملہ کبھی نہ ہوتا، اگر میں صدر ہوتا اور یہ کہ وہ اسرائیل پر جنگیں ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔اس کے باوجود ٹرمپ کی اتنخابی مہم کے نعرے امریکہ کو دوبارہ عظیم بنائیںکے ساتھ ساتھ یہی غیر واضح پالیسیاں ہیں جن کے بارے میں تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ نیتن یاہو پُر امید ہیں۔ریپبلکن صدر کے طور پر ایک تنہائی پسند ٹرمپ نیتن یاہو کو غزہ اور لبنان میں جاری تنازعات کو فریقین کی باہمی رضامندی سے حل کرنے کے لیے مزید آزادی دے سکتے ہیں۔

یروشلم کی عبرانی یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر گڈیئن راحت نے اے ایف پی کو بتایا کہ نیتن یاہو کے لیے ایک اہم سنگ میل امریکی انتخابات ہیں۔ وہ ٹرمپ کی فتح کے لیے دعا کر رہے ہیں جس سے ان کے خیال میں انہیں نقل و حرکت کی بہت زیادہ آزادی ملے گی اور جو وہ کرنا چاہتے ہیں، کر سکیں گے۔ایک سیاسی مبصر اور نیتن یاہو کے سابق چیف آف سٹاف ابیب بشینسکی نے بھی اسی طرح کہاکہ ریپبلکن کے ساتھ ان کا تجربہ بہت اچھا ہے۔ جس کے برعکس ڈیموکریٹس ان پر زیادہ سخت ہیں۔وزیراعظم کے طور پر نیتن یاہو نے 17 سالوں میں صرف ایک ریپبلکن رہنما ٹرمپ کے مدمقابل خدمات انجام دیں۔

ٹرمپ نے اپنی صدارت کے دوران کئی ایسے اقدامات کیے جن میں اسرائیل کے فلسطینیوں اور وسیع خطے کے ساتھ تنازعات کے بارے میں بعض دیرینہ امریکی پالیسیوں سے مکمل انحراف کیا گیا۔ اس سے نیتن یاہو کو اندرونِ ملک معاملات میں مدد ملی۔ریپبلکن صدر نے امریکی سفارت خانہ یروشلم منتقل کیا،جسے اسرائیل اپنا غیر منقسم دارالحکومت قرار دیتا ہے، مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی خودمختاری کو تسلیم کیا اور تین عرب ریاستوں اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے عمل کی نگرانی کی۔ٹرمپ اسرائیل کے قدیم دشمن ایران کے ساتھ تاریخی جوہری معاہدے سے بھی دستبردار ہو گئے اور اسلامی جمہوریہ پر سخت اقتصادی پابندیاں دوبارہ عائد کر دیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button