ارب پتی کی طرف سے بیش قیمت تحفہ ملنے کے بعد نیتن یاھو شدید پریشان
نیتن یاہو جو پہلے ہی اندرونی طور پر بڑی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں
مقبوضہ بیت المقدس، 17اپریل :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)چندہ ماہ پیشتر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے لاڈلے بیٹے کے امریکہ میں پرتعیش زندگی گذارنے کے حوالے سے اسرائیلی عوامی حلقوں میں اس وقت غم وغصے کی لہر دوڑ گئی تھی، جب اسرائیلی غزہ جنگ میں اگلے محاذوں پر لڑ رہے تھے۔کہتے ہیں کہ والد بیٹے کا راز ہوتا ہے۔ نیتن یاھو نے وہی کیا جواس کا بیٹا کرچکا ہے۔ اب اس کے باپ کی باری ہے۔نیتن یاھو ایک طرف سادہ طرز زندگی اور جنگ میں عوام کو سادگی اپنانے کی تلقین کرتے نظرآتے ہیں مگر خود انہوں نے ایک امریکی نژاد ارب پتی کی جوہری بنکر نما پر تعیش رہائش گاہ پر قیام کرکے تنقید کا ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے۔
7 اکتوبر سے غزہ میں زیر حراست قیدیوں کے معاملے کے حل میں ناکامی کے ساتھ ساتھ جنگ کے انتظام کے نتیجے میں نیتن یاہو جو پہلے ہی اندرونی طور پر بڑی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں ایک نئی مخمصے سے دوچار ہو گئے ہیں۔کئی اسرائیلی انجمنوں نے وزیر اعظم کو یروشلم میں امریکی ارب پتی سائمن فالک کے گھر پر ویک اینڈ کے دوران دعوت کو قبول کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا، جب کہ ملک ایرانی حملے کی زد میں تھا۔ اس دعوت کو اسرائیلی قوانین کے مطابق ایک ممنوعہ تحفہ وصول کرنا سمجھا جا سکتا ہے۔اسرائیل کوالٹی گورنمنٹ تحریک نے عدلیہ سیاس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔جبکہ اٹارنی جنرل گالی بہارو میرا اور شلومیٹ بارنیا فراگو کو ایک خط بھیجا گیا جس میں اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کے قانونی مشیر ہدائی نیگیو نے کہا کہ وزیر اعظم کا اسرائیل میں غیر ملکی کے گھر میں رہنا اخلاقی مسئلہ کے علاوہ ہے۔
’ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق نیتن یاہو کے اقدامات سے ریاستی ملازمین پر تحائف قبول کرنے کی پابندی کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔کوالٹی گورنمنٹ تحریک نے ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایک وسیع و عریض ولا میں رہائش اور رہائشی خدمات بغیر معاوضے کے ایک ممنوعہ تحفہ کے مترادف اور فوائد حاصل کرنے سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی ہے۔اس نے وزیر اعظم کے لیے جنگ کے دوران ایک غیر ملکی رہائشی کے نجی گھر میں رہنا بھی نامناسب سمجھا جس میں ان کے ہزاروں شہری بے گھر ہو گئے تھے، جب کہ ان کی سرکاری امداد سے چلنے والی رہائش گاہیں خالی پڑی تھیں۔



