نیتن یاہو اپنے وارنٹ گرفتاری کیخلاف اپیل کریں گے: اسرائیلی اہلکار
بینجمن نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف جاری کیے گئے وارنٹ گرفتاری کے خلاف اپیل کریں گے
مقبوضہ بیت المقدس،28نومبر ( ایجنسیز ) ایک اسرائیلی اہلکار نے انکشاف کیا ہے کہ وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو بین الاقوامی فوجداری عدالت کو آگاہ کریں گے کہ اسرائیل ان کے اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف جاری کیے گئے وارنٹ گرفتاری کے خلاف اپیل کرے گا۔امریکی ویب سائٹ ایکسیس کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کو مطلع کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ اسرائیل ان کے اور گیلنٹ کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے فیصلے کے خلاف اپیل کرے گا۔
اسرائیلی حکومت کے قانونی مشیر نے گذشتہ ہفتے کے اوائل میں کہا تھا کہ وہ عدالت کے فیصلے کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرے گی اور تحقیقات میں اس کے فوجی اور سویلین میکانزم کی شرکت پر اصرار کریں گی۔دالت نے پہلے اسرائیل کی طرف سے جمع کرائی گئی ایک اپیل کو مسترد کر دی تھی اور کہا تھا کہ یہ درست نہیں ہے ؛کیوں کہ اسرائیل عدالت کے چارٹر پر دستخط کرنے والا رکن ملک نہیں ہے۔نیتن یاہو نے عدالت پر سخت تنقید کرتے ہوئے اس کے احکامات کو ذلت آمیز اور یہود مخالف قرار دیا۔
تل ابیب کے سب سے مضبوط اتحادی واشنگٹن نے بھی اس فیصلے کے خلاف سخت زبان استعمال کی تھی۔قابل ذکر ہے کہ بین الاقوامی فوجداری چارٹر پر دستخط کرنے والے تمام 123 ممالک نیتن یاہو اور گیلنٹ کیخلاف گرفتاری کے احکامات کو نافذ کرنے کے پابند ہیں، جس کی وجہ سے اسرائیلی حکام بڑے پیمانے پر محصور ہو گئے ہیں خاص طور پر جب سے فرانس، ہالینڈ، بلجیم اور دیگر نے کہا ہے کہ وہ عدالت کے فیصلے کے احترام کے پابند ہیں تو اس کے بعد نیتن یاھو کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔
بہت سے ماہرین کے مطابق یہ فیصلے بھی اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی اخلاقی اور قانونی مذمت کے مترادف ہیں۔اس کے باوجود اس کے اثرات زمین پر معمولی رہتے ہیں۔ پچھلے تجربات کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوتین، سوڈانی صدر عمر البشیر، اور دیگر کے خلاف جاری وارنٹ کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے۔عدالت نے تصدیق کی کہ اس بات پر یقین کرنے کی وجوہات ہیں کہ نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع نے ”جان بوجھ کر غزہ کے شہریوں کو ان چیزوں سے محروم رکھا جو ان کی بقا کے لیے ناگزیر ہیں، جن میں خوراک، پانی، ادویات اور طبی سامان کے ساتھ ساتھ ایندھن اور بجلی شامل ہیں۔ اسرائیلی حکومت کے یہ اقدامات جنگی جرائم کا حصہ ہیں۔



