
نیتن یاہو کی اقوام متحدہ میں تقریر، متعدد مندوبین کا احتجاجاً واک آؤٹ
نیتن یاہو نے ایران پر حملے کا دفاع کیا،محمود عباس کا ویڈیو خطاب، غزہ امن منصوبے اور یمن بحران بھی جنرل اسمبلی میں زیر بحث
نیویارک ، 25 ستمبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز)اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائی کا دفاع کیا اور کہا کہ ایران پر حملہ کرنا ان کی جانب سے کیے گئے ’’آسان ترین فیصلوں‘‘ میں سے ایک تھا، تاہم ان کی تقریر شروع ہوتے ہی بڑی تعداد میں مندوبین نے احتجاجاً ہال سے واک آؤٹ کردیا، جس کے بعد جنرل اسمبلی کی متعدد نشستیں خالی نظر آنے لگیں۔
نیتن یاہو جب جنرل اسمبلی کے پوڈیم پر پہنچے تو ہال میں مختلف ردعمل دیکھنے میں آیا۔ کچھ مندوبین نے تالیاں بجائیں، بعض نے مخالفت میں آوازیں بلند کیں، جبکہ درجنوں نمائندے اپنی نشستوں سے اٹھ کر ہال سے باہر چلے گئے۔ اس دوران جنرل اسمبلی کے صدر خلیل الرحمٰن نے کئی مرتبہ ’’ہال میں نظم و ضبط‘‘ برقرار رکھنے کی اپیل کی۔
اسرائیلی وزیراعظم نے اپنی تقریر کے دوران واک آؤٹ کرنے والے مندوبین کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں ’’اخلاقی بزدل‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہال میں موجود مزید افراد بھی ان کی تقریر نہیں سننا چاہتے تو وہ بھی باہر چلے جائیں۔
نیتن یاہو نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر ہونے والی عالمی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے الزامات کو ’’صدی کا سب سے بڑا جھوٹ‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنے دفاع کے ساتھ ان ممالک کے مفادات کا بھی تحفظ کر رہا ہے جن کے نمائندے ان کی تقریر کے دوران ہال سے باہر نکل گئے۔
ایرانی جوہری پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ کئی ممالک کے رہنما نجی طور پر اسرائیل کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اس نے ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی کارروائی صرف اپنے دفاع تک محدود نہیں بلکہ خطے کے دیگر ممالک کو درپیش خطرات سے بھی متعلق ہے۔
نیتن یاہو نے ایران کے خلاف اسرائیلی حملے کو اپنے لیے آسان ترین فیصلوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اپنی سلامتی اور وجود کے تحفظ کے لیے کارروائی کرنا پڑی۔ انہوں نے ایران سے لاحق خطرے کو اسرائیلی فوجی کارروائی کی بنیادی وجوہات میں شامل قرار دیا۔
نیتن یاہو کے خطاب سے قبل فلسطینی مشن نے اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک کے نمائندوں کو ایک پیغام بھیجا تھا، جس میں زیادہ سے زیادہ عملے کو جنرل اسمبلی کے ہال میں موجود رہنے اور اسرائیلی وزیراعظم کے نام کا اعلان ہوتے ہی اجتماعی طور پر واک آؤٹ کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔
فلسطینی مشن نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ اجتماعی واک آؤٹ کا مقصد نیتن یاہو اور ان کی حکومت کو یہ واضح پیغام دینا ہے کہ متعدد ممالک غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں، مبینہ جنگی جرائم، نسل کشی اور فلسطینی علاقوں پر قبضے سے متعلق اسرائیلی پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔
اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی اور جنگی جرائم کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔ اسرائیلی حکومت فلسطینی علاقوں پر اپنے کنٹرول اور اسرائیلی بستیوں سے متعلق بین الاقوامی اعتراضات کو بھی تسلیم نہیں کرتی اور ان بستیوں کو قانونی قرار دیتی ہے، جبکہ بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیلی بستیوں کی قانونی حیثیت پر شدید اعتراضات موجود ہیں۔
دوسری جانب فلسطینی صدر محمود عباس نے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا، تاہم امریکی ویزا نہ ملنے کے باعث وہ ذاتی طور پر اجلاس میں شرکت نہ کرسکے اور ان کا خطاب پہلے سے ریکارڈ شدہ ویڈیو کے ذریعے نشر کیا گیا۔ یہ مسلسل دوسرا سال ہے جب عباس کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکی ویزا نہیں ملا۔
محمود عباس نے اپنے خطاب میں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی اپنی سرزمین نہیں چھوڑیں گے اور کسی دوسرے فریق کو ان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے عالمی برادری سے فلسطینی عوام کے لیے مزید عملی اقدامات کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
غزہ میں امن معاہدے کے حوالے سے حماس نے بھی آئندہ مرحلے پر آگے بڑھنے کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔ حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ تنظیم غزہ کی تعمیر نو اور امن سے متعلق ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے روڈ میپ پر عمل درآمد کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
تاہم حماس کے ترجمان کے بیان میں تنظیم کے غیر مسلح ہونے سے متعلق کوئی واضح ذکر نہیں کیا گیا۔ اسرائیل پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ حماس کے غیر مسلح ہونے تک غزہ میں تعمیر نو کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اسرائیل اور حماس اس سے قبل ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات بھی عائد کرتے رہے ہیں۔ حماس نے اسرائیل پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے جبکہ اسرائیل کی جانب سے بھی حماس کی کارروائیوں پر اعتراضات کیے جاتے رہے ہیں۔ غزہ کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی موجودگی بھی تنازع کا ایک اہم معاملہ بنی ہوئی ہے۔
غزہ کی تعمیر نو کے لیے درکار مالی وسائل کا مسئلہ بھی عالمی سطح پر زیر بحث ہے۔ رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ، عالمی بینک اور یورپی یونین کے 27 رکن ممالک نے غزہ کی بحالی کے لیے تقریباً 71 ارب یورو درکار ہونے کا تخمینہ لگایا ہے، جبکہ اب تک صرف تقریباً ایک ارب یورو جمع کیے جا سکے ہیں۔
غزہ کے بعد یمن کا بحران بھی اقوام متحدہ کی سطح پر اہم موضوع بنا ہوا ہے۔ ایران نواز حوثی گروپ نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ایک ’’حساس ہدف‘‘ اور بحیرہ احمر کے ساحلی شہر ینبع میں سعودی آئل کمپنی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
حوثی فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے ایک بیان میں کہا کہ کارروائیوں کے دوران کروز میزائل، بیلسٹک میزائل اور ڈرونز استعمال کیے گئے، تاہم انہوں نے حملوں کا درست وقت نہیں بتایا۔ یہ چند دنوں کے دوران ریاض کو نشانہ بنانے کا دوسرا دعویٰ تھا۔
حوثی گروپ نے سعودی عرب کے جنوب مغربی صوبے جازان میں بھی درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا۔ یحییٰ سریع نے ان کارروائیوں کو سعودی سرزمین سے ہونے والی مبینہ فضائی کارروائیوں اور یمن کی ناکہ بندی کا جواب قرار دیا۔
حوثیوں کے ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔ سعودی حکومت اور آرامکو نے فوری طور پر ان دعوؤں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ تاہم سعودی فوج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ سعودی عرب کی جانب آنے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو روک لیا گیا تھا۔
سعودی فوج کے مطابق ان میزائلوں کا ہدف بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع اور جنوب مغربی شہر طائف کے علاقے تھے۔ حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان جاری کشیدگی نے یمن کے پہلے سے سنگین انسانی بحران کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔
اقوام متحدہ میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے حوثیوں کی جانب سے یمن کے بعض علاقوں پر قبضے کے خدشات کے حوالے سے کہا کہ سعودی حکومت اپنے زیر کنٹرول علاقوں کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔
جب سعودی وزیر خارجہ سے حوثیوں کے خلاف امریکی فوجی کردار کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے براہ راست جواب دینے کے بجائے دیگر معاملات پر توجہ مرکوز کی۔ ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ ابراہام معاہدوں میں شامل ہوگا، تاہم انہوں نے کہا کہ غزہ امن منصوبے پر مکمل عمل درآمد سے پہلے دیگر معاملات کو ترجیح نہیں دی جائے گی۔
یمن میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث اقوام متحدہ نے شہریوں تک انسانی امداد کی فوری رسائی یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے کہا کہ تشدد سے متاثر ہونے والے اور نقل مکانی پر مجبور شہریوں کو خوراک، رہائش اور طبی سہولیات تک رسائی فراہم کرنا ضروری ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق اگست کے آغاز سے یمن میں زمینی لڑائی، توپ خانے کی کارروائیوں اور فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 125 شہری ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔ وولکر ترک نے حوثیوں سے گزشتہ چند برسوں کے دوران حراست میں لیے گئے 73 اقوام متحدہ کے اہلکاروں کو رہا کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نیتن یاہو کی تقریر کے دوران ہونے والا واک آؤٹ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ کی جنگ، ایران کا جوہری پروگرام، اسرائیل ایران کشیدگی، فلسطینی ریاست کا مستقبل، غزہ کی تعمیر نو اور یمن کا بحران عالمی سفارت کاری کے اہم موضوعات بنے ہوئے ہیں۔
Delegates at the UN General Assembly in New York walk out as Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu arrives to deliver a speech.
He responds by calling them "moral cowards”.https://t.co/PAiZ4D1jU3
📺 Sky 501, Virgin 602, Freeview 233 and YouTube pic.twitter.com/M0rn4B4mgs
— Sky News (@SkyNews) September 24, 2026



