نیتن یاہو قیدیوں کی رہائی کے بارے میں فکرمند، حماس کا ٹھوس ضمانتوں کا مطالبہ
اگر ٹرمپ اقتدار میں ہوتے تو امریکہ کا رویہ بالکل مختلف ہوتا۔
دبئی، 6فروری :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں حماس کے ہاتھوں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کسی بھی قیمت پر معاہدے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔یہ بیان غزہ کو مزید امداد پہنچانے کی امریکی کوششوں کے حوالے سے ان کی اتحادی جماعتوں میں اختلاف کے بعد سامنے آیا ہے۔یہ بیانات ان مذہبی قوم پرست جماعتوں کے درمیان تنازعات کی تازہ ترین کڑی کو ظاہر کرتے ہیں جو فلسطینیوں کو کسی قسم کی رعایت دینے کی مخالفت کرتی ہیں، ان کے مقابل ایک سینٹرسٹ گروپ ہے جس میں سابق فوجی جرنیل بھی شامل ہیں۔انہوں نے کابینہ کے اجلاس سے قبل میڈیا پر شائع ہونے والے بیانات میں مزید کہا کہ یرغمالیوں کو رہا کرنے کی کوششیں ہر وقت جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ جیسا کہ میں نے وزراء کی سلامتی کونسل میں بھی زور دیا کہ ہم معاہدے کے ہر فارمولے پر متفق نہیں ہوں گے، کسی قیمت پر نہیں۔نیتن یاہو نے قومی سلامتی کے وزیر، ایک انتہائی دائیں بازو کے قوم پرست، ایتمار بین گویر کو بھی سرزنش کی، جو یہودی آباد کاروں کو غزہ واپس لوٹانا چاہتے ہیں، اور اسرائیل کے سب سے مضبوط اتحادی امریکی صدر جو بائیڈن پر بھی تنقید کی جو غزہ کی پٹی کو انسانی امداد پہنچانے کے لیے دباؤڈال رہے ہیں۔ہمیں اپنی مکمل حمایت کی پیشکش کرنے کے بجائے، بائیڈن (غزہ کو) انسانی امداد اور ایندھن فراہم کرنے میں مصروف ہے، جو حماس کو جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ٹرمپ اقتدار میں ہوتے تو امریکہ کا رویہ بالکل مختلف ہوتا۔بین گویر کا نام لیے بغیر، نیتن یاہو نے اس تبصرے کو مسترد کر دیا، جو کہ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے خطے کے دورے کے موقع پر کیا گیا تھا۔ نیتن یاہو کے بائیڈن کے ساتھ تعلقات بعض اوقات ایسے بیانات کی وجہ سے خراب ہوتے رہے ہیں۔اتوار کو کابینہ کے اجلاس کے دوران نیتن یاہو نے کہا کہ مجھے امریکہ اور عالمی برادری کے ساتھ اپنے تعلقات کو سنبھالنے میں کسی مدد کی ضرورت نہیں ہے جبکہ میں ثابت قدمی سے اپنے قومی مفادات کا دفاع کرتا ہوں۔
اسرائیل پر حماس کے حملے کے چار ماہ بعد، جس کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں تقریباً 1200 افراد ہلاک اور 240 کے قریب یرغمال بنائے گئے تھے، یہ تنازعہ اسرائیل میں کشیدہ سیاسی ماحول کو نمایاں کرتا ہے۔اس حملے کے بعد اسرائیل نے ایک مہم میں غزہ کی پٹی کے بڑے شہروں کو تباہ و برباد کردیا ہے اور فلسطینی محکمہ صحت کے مطابق، اب تک 27,000 سے زیادہ شہادتیں ہوچکی ہیں اور 23 لاکھ کی آبادی میں سے اکثریت کو بے گھر ہونے پر مجبور کیا گیا۔



