نیتن یاھو کا غزہ سے فلسطینیوں کی رضا کارانہ نقل مکانی پر کام کا اعتراف
غزہ میں مزید 100 سے زائد جاں بحق، اسرائیل کا جنگ جاری رکھنے کا اعلان
مقبوضہ بیت المقدس، 27دسمبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) ایسا لگتا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اب بھی غزہ کے لوگوں کو بے گھر کرنے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ وہ بعض دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر غزہ سے فلسطینیوں کی رضا کارانہ نقل مکانی پر کام کررہے ہیں۔ان کایہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری جانب غزہ میں گھمسان کی جنگ جاری ہے اور تین ماہ کی جنگ کے نتیجے میں اب تک 90 فی صد آبادی اپنے گھر بار سے محروم سڑکوں پر کھلے آسمان تلے وحشیانہ بمباری میں زندگی گذاز رہی ہے۔اسرائیلی اخبار ’یروشلم پوسٹ‘ نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ حکمراں لیکود پارٹی کے ارکان کنیسٹ کے ایک بند پارلیمانی اجلاس کے دوران نیتن یاہو نے کہا کہ وہ غزہ سے فلسطینیوں کی رضاکارانہ ہجرت کو نافذ کرنے کے منصوبے کی تیاری پرکام کر ر ہے ہیں۔
نیتن یاھو نے کہا کہ اس منصوبے کی راہ میں رکاوٹ وہ ممالک ہیں جو فلسطینیوں کو پناہ دے سکتے ہیں تاہم تل ابیب اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے کام کررہا ہے۔نیتن یاہو کی قیادت میں لیکوڈ پارٹی کے ایک رکن کنیسٹ ڈینی ڈینن نے کہا کہ دنیا پہلے ہی اس معاملے پر بات کر رہی ہے۔ کینیڈا کے امیگریشن وزیر مارک ملر نے ان معاملات کے بارے میں عوامی سطح پر بات کی جب کہ امریکی صدارتی امیدوار اور سابق سفارت کار نکی ہیلی نے بھی اس امکان کو رد نہیں کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اسرائیل میں ایک ٹیم بنانا ہوگی جو اس معاملے کو دیکھے۔
ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ غزہ سے اپنی مرضی سے فلسطینی علاقہ چھوڑ کر دوسرے ممالک میں جانے کے تیار ہیں تو ہم ان کی کیسے مدد کرسکتے ہیں۔اس کا مزید کہنا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد اس کی اسٹریٹجک اہمیت کی وجہ سے اس معاملے کو منظم کیا جانا چاہیے۔اخبار کے مطابق نیتن یاہو نے ڈینن کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔گذشتہ نومبر میں ڈینن نے غزہ کی پٹی کے رہائشیوں کے لیے رضاکارانہ ہجرت کا یہ مسئلہ تجویز کیا تھا۔جب کہ یورپی ممالک کے علاوہ بیشتر عرب ممالک نے بھی غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کو مسترد کردیا تھا۔گذشتہ 7 اکتوبر سے اسرائیلی فوج غزہ پر تباہ کن جنگ مسلط کیے ہوئے ہے جس میں اب تک 20,000 سے زائد افراد شہید 55,000 کے قریب زخمی ہو چکے ہیں۔ ہزاروں لا پتا ہیں۔ شہداء اور زخمیوں میں 70 فی صد بچے اور خواتین ہیں۔
غزہ میں مزید 100 سے زائد جاں بحق، اسرائیل کا جنگ جاری رکھنے کا اعلان
مقبوضہ بیت المقدس، 27دسمبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے حماس کارکنان کیخلاف جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے ،جبکہ فلسطینی اسرائیلی فضائی حملوں میں 100 سے زائد افراد کی ہلاکتوں پر سوگوار ہیں۔برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے شمالی غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجیوں سے ملاقات کی۔اسرائیل کو سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد شروع کی جانے والی جوابی کارروائی کی شدّت میں کمی لانے کے لیے عالمی دباؤ کا سامنا ہے تاہم نیتن یاہو نے اپنی لیکوڈ پارٹی کے قانون سازوں کو بتایا کہ ’جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔انہوں نے میڈیا کی اِن قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا کہ ان کی حکومت جنگ روک سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اسرائیل فوجی دباؤ ڈالے بغیر اپنے باقی یرغمالیوں کو رہا کرانے میں کامیاب نہیں ہو گا۔
غزہ کے دورے کے دوران انہوں نے جنگ بندی کے بین الاقوامی مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم (جنگ) نہیں روک رہے۔ جنگ اُس وقت تک جاری رہے گی جب تک ہم اسے مکمل نہیں کر لیتے۔غزہ میں فلسطینی 70 افراد کی سفید کفنوں میں لپٹی لاشوں کے گرد سوگوار بیٹھے تھے جو محکمہ صحت کے حکام کے مطابق پٹی کے وسط میں واقع مغازی کیمپ پر ہونے والے فضائی حملے میں ہلاک ہوئے۔ابراہیم یوسف نامی ایک شخص نے بتایا کہ اُن کی اہلیہ اور چار ماہ کے بچے سمیت 4 بچے اس مکان کے ملبے تلے دب گئے جہاں وہ مغازی میں مقیم تھے۔
فلسطینی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے وسطی غزہ میں اپنی فضائی اور زمینی کارروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے بتایا کہ مغازی میں ہلاک ہونے والوں میں بہت سے خواتین اور بچے شامل ہیں۔ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی طیاروں اور ٹینکوں کے قریبی البریج اور النصیرات میں گھروں اور سڑکوں پر حملے کے نتیجے میں دیگرآٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔طبی ماہرین نے بتایا کہ جنوبی غزہ میں خان یونس میں اسرائیلی فضائی حملے میں 23 افراد ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 100 سے زائد ہو گئی ہے۔
کرسمس کے موقع پر یسوع مسیح کی جائے پیدائش بیت لحم میں فضا سوگوار رہی اور کرسمس کا جشن منسوخ کر دیا گیا۔ مقامی رہنماؤں نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کے تناظر میں فلسطینی آبادی کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے تہوار کو کم جوش و خروش کے ساتھ منانے کا اعلان کیا تھا۔کہیں برقی قمقمے نظر آئے اور نہ ہی گلی محلوں میں روایتی سجاوٹ۔ حتیٰ کہ شہر کے مرکز میں واقع مینجر سکوائر کا روایتی بہت بڑا کرسمس ٹری بھی غائب تھا۔ میونسپلٹی نے کرسمس کے موقع پر پریڈ اور دیگر تقریبات بھی منسوخ کر دیں اور مختلف علاقوں میں پہلے سے کی گئی سجاوٹوں کو بھی ہٹا دیا۔



