بین ریاستی خبریں

دہلی میں کوویڈ سے متعلق نئی ہدایات: بند رہیں گے پرائیویٹ دفاتر

نئی دہلی ،11؍ جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی میں کورونا کی لہر کو دیکھتے ہوئے دہلی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی ایم اے ) نے نئی ہدایات جاری کی ہیں۔ دہلی میں کوویڈ کو کنٹرول کرنے کے لیے کیا مزید پابندیوں کی ضرورت ہے اس بارے میں آج ڈی ڈی ایم اے کی میٹنگ ہوئی، اور اس کے ساتھ ہی دارالحکومت میں نئی پابندیاں نافذکر دی گئی ہیں۔

اس کے تحت اب یہاں کے پرائیویٹ دفاتر مکمل طور پر بند ہو جائیں گے۔ اب تک کی پابندیوں کے مطابق 50 فیصد گنجائش والے پرائیویٹ دفاتر میں کام ہو رہا تھا۔ لیکن اب کچھ کیٹیگریز کو ریلیف دیتے ہوئے تمام پرائیویٹ دفاتر بند کرنے کے احکامات دئیے گئے ہیں۔

آئیے ایک بار دیکھتے ہیں کہ نئی ہدایات کے مطابق وہ کون طبقے ہیں جن کے تحت نجی دفاتر کھولے جائیں گے، باقی سب (Work From Home) ڈبلیو ایف ایچ کریں گے۔

1 ۔نجی بینک۔

2۔ ضروری خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کے دفاتر۔

3۔ انشورنس/ میڈی کلیم کمپنی۔

4۔ فارما کمپنیوں کے دفاتر جن میں پروڈکشن اور ڈسٹریبوشن کے انتظام کی ضرورت ہوتی ہے۔

5۔ ریزرو بینک آف انڈیا کے ذریعے ریگولیٹ شدہ ادارے ۔

6۔ تمام نان بینکنگ فنانشل کارپوریشنز۔

7۔ تمام مائیکرو فنانس ادارے۔

8۔اگر عدالتیں؍ٹربیونلز یا کمیشن کھلے ہیں تو وکلاء کے دفاتر

9۔ کورئیر سروس۔

واضح رہے کہ پیر کو ایک حکم کے مطابق دہلی میں ریستوراں اور بار بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ تاہم اس میں صرف وہاں بیٹھ کر کھانے کی ممانعت ہے۔ ٹیک اوے کی سہولت جاری رہے گی یعنی کھانا پیک کراکے آن لائن آرڈر کیا جا سکتا ہے۔

پریشان نہ ہوں، دہلی میں نہیں لگے گا لاک ڈاؤن : اروند کیجریوال

 دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے منگل کو ایک بار پھر کہا کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، لاک ڈاؤن نہیں لگایا جائے گا۔ یہ بھی کہا کہ حالات قابو میں آنے کے بعد جو بھی پابندیاں لگائی گئی ہیں، وہ بھی جلد ہٹا دی جائیں گی۔ ہم نے مرکزی حکومت سے درخواست کی ہے کہ جو پابندیاں دہلی میں ہیں وہ این سی آر میں بھی نافذ کی جائیں۔

اس وقت ہمارے لیے سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ لوگوں کا روزگار متاثر نہ ہو۔دہلی کے سب سے بڑے کورونا اسپتال لوک نائک اسپتال کا دورہ کرنے کے بعد وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ ہماری تیاریاں مکمل ہیں۔

ضرورت پڑنے پر ہم 37 ہزار بیڈز تک تیار کرسکتے ہیں اور آئی سی یو بیڈز بھی بڑھا سکتے ہیں لیکن ابھی اس کی ضرورت نہیں ہے۔کورونا پیک کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ مثبت شرح 25% تک آ رہی ہے۔ دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

Back to top button