
لندن، 3اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کورونا وبا نے یورپ کی نوجوان آ بادی کو بھی شدید متاثر کیا ہے، کوئی بے روزگار ہوگیا تو کسی کو ملازمت کا موقع نہیں مل سکا۔ای یو کی مجوزہ اسکیم کے تحت نوجوان افراد کو یورپی بلاک میں روزگار کے لیے تربیت فراہم کی جائے گی۔25 سالہ کارمین کوئنتانا گومز ہسپانوی شہر میڈرڈ کی ایک نوجوان گریجویٹ ہیں۔ گومز کے لیے اس وقت سب سے اہم مسئلہ اپنے لیے ملازمت تلاش کرنا ہے۔
اردودنیا ایپ انسٹال کے لیے کلک کریں
وہ کہتی ہیں کہ انہیں ملازمت اس لیے نہیں مل رہی کیونکہ ان کے پاس نوکری کا خاطر خواہ تجربہ نہیں ہے۔ اسپین سمیت یورپ کے کئی ممالک میں گومز کی طرح کئی دیگر نوجوان ایسی ہی صورتحال سے گزر رہے ہیں۔ اس لیے یورپی یونین ’آلما‘ (ALMA) نامی روزگار کی ایک نئی اسکیم تیار کر رہی ہے۔ اس اسکیم کے تحت یورپی یونین کے رکن ممالک کے نوجوان شہری بیرون ملک موجود ملازمت کے مواقعوں سے مستفید ہوسکیں گے۔یورپی یونین آلما اسکیم کے ذریعے ایسے نوجوانوں کی مدد کرے گی جو تعلیم، تربیت، یا کسی قسم کے روزگار سے وابستہ نہیں ہیں۔
ان کو کام کا تجربہ حاصل کرنے کے لیے یورپی بلاک کے کسی دوسرے ملک بھیجا جائے گا۔ یورپین کمیشن کے مطابق اس اسکیم میں ایسے لوگوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی جو ملازمت تلاش کر رہے ہیں، جسمانی طور پر معذور ہیں، جن کے پاس ناکافی پیشہ ورانہ تجربہ ہے، یا پھر وہ ترکِ وطن پس منظر رکھتے ہوں۔ اس پروگرام میں شامل کیے جانے والے نوجوان افراد کو بیرون ملک سفر کرنے کے ساتھ ساتھ رہائش، انشورنس اور بنیادی اخراجات کے لیے وظیفہ بھی ملے گا۔
ان کی ہر سطح پر پیشہ ورانہ رہنمائی بھی کی جائے گی۔اس بارے میں یورپین کمیشن کی ترجمان فیئرلے نوئٹس نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اس اسیکم کا مقصد نوجوان افراد کو اپنی مہارت، معلومات اور تجربہ بہتر بنانے کا موقع فراہم کرنا ہے: اس طرح وہ یورپ بھر میں اپنے نئے روابط بھی قائم کرسکیں گے۔یہ اسکیم فی الحال حتمی طور پر تیار نہیں ہے لیکن مختلف کمپنیاں ابھی سے ہی اس میں دلچسپی دکھا سکتی ہیں۔ آلما اسکیم کے پہلے سال کے لیے پندرہ ملین یورو کی رقم مختص کی گئی ہے۔
یورپین کمیشن کی ترجمان فیئرلے نوئٹس نے اس اسکیم کے بارے میں مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ شرکا کے تمام اخراجات ای یو ادا کرے گا، لہٰذا کمپنیاں اِن ملازمین کو تنخواہ دینے یا نہ دینے کا خود ہی فیصلہ کرسکتی ہیں۔ اس دوران رکن ممالک کی طرف سے وظیفے کی پیشکش بھی کی جاسکتی ہے۔
دریں اثنا یورپین یوتھ فورم اس بات پر زیادہ خوش نہیں ہے۔ انہوں نے ایک تنقیدی ٹوئیٹ میں لکھا،آلما کو تمام نوجوانوں کے لیے روزگار کی منڈی میں مساوی مواقع کی جانب بڑھنا چاہیے، جس میں کسی قسم کا بلا معاوضہ کام شامل نہ ہو۔



