
حکومت کا نیا اقدام: انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کو ڈیجیٹل اسپیس تک رسائی کا اختیار ملے گا
ہوشیار رہیں! انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ آپ کے ای میل اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نگرانی کر سکتا ہے
نئی دہلی: حکومت نے سالانہ 12 لاکھ روپے تک کی آمدنی کو ٹیکس فری کر دیا ہے، لیکن یکم اپریل 2025 سے انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کو شہریوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، ذاتی ای میل، بینک اکاؤنٹس، آن لائن انویسٹمنٹ، اور ٹریڈنگ اکاؤنٹس تک قانونی رسائی حاصل ہو جائے گی۔
ایماندار ٹیکس دہندگان کے لیے پریشانی کی کوئی بات نہیں
نئے انکم ٹیکس ایکٹ کے تحت، ٹیکس حکام کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ایسے افراد کی جانچ کریں جن کے بارے میں شبہ ہو کہ انہوں نے اپنی آمدنی یا اثاثے ظاہر نہیں کیے۔ تاہم، ایماندار ٹیکس دہندگان کو کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
موجودہ قانون اور نیا انکم ٹیکس بل
موجودہ انکم ٹیکس ایکٹ 1961 کے سیکشن 132 کے تحت، ٹیکس افسران کو جائیداد، کھاتوں اور دیگر مالی دستاویزات کی تلاشی لینے اور ضبط کرنے کا اختیار حاصل ہے، اگر انہیں شبہ ہو کہ کسی فرد نے جان بوجھ کر اپنی آمدنی کو چھپایا ہے۔ اس قانون کے تحت، افسران تالے توڑ کر کسی بھی لاکر، باکس، یا دیگر کی تلاشی لے سکتے ہیں۔
نئے انکم ٹیکس بل کے مطابق، یہ اختیار اب ورچوئل ڈیجیٹل اسپیس تک بھی بڑھا دیا گیا ہے، یعنی حکام کمپیوٹر سسٹمز اور آن لائن ڈیٹا کی بھی تلاشی لے سکیں گے۔
سیکشن 247: ڈیجیٹل تلاشی کا نیا قانون
نئے انکم ٹیکس بل کے سیکشن 247 کے تحت، اگر کسی افسر کے پاس کسی فرد کی غیر ظاہر شدہ آمدنی یا جائیداد کے بارے میں معقول شک ہو، تو وہ کسی بھی لاکر، الماری، سیف یا دیگر ذخیرے کے تالے توڑنے کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر سسٹم اور ورچوئل ڈیجیٹل اسپیس تک رسائی حاصل کر سکے گا، چاہے اس کے لاگ اِن کوڈز موجود نہ ہوں۔
احتیاط برتیں!
یہ نیا قانون حکومت کے مالیاتی نظام میں شفافیت اور کرپشن کے خاتمے کے لیے ایک اہم اقدام ہے۔ تاہم، شہریوں کو خبردار رہنے اور اپنے سوشل میڈیا، بینکنگ اور آن لائن سرمایہ کاری کے کھاتوں میں مکمل دیانت داری برتنے کی ضرورت ہے، کیونکہ انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ اب ان کی ڈیجیٹل سرگرمیوں کی نگرانی کر سکتا ہے۔



