بین الاقوامی خبریںسرورقصحت اور سائنس کی دنیا
نئی تحقیق: سی ٹی اسکین سے بھی 100 گنا بہتر دنیا کی روشن ترین ایکسرے مشین
لندن،10نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دنیا کی سب سے روشن ایکسرے مشین تیار کی گئی ہے جو ایک جانب تو روایتی سی ٹی اسکین سے سو 100 گنا زائد تفصیل سے عکس دکھاتی ہے تو دوسری جانب کسی بھی ایسی شے کو ظاہر کرسکتی ہے جس کی جسامات ایک مائیکرون یعنی ایک میٹر کے دس لاکھ ویں حصے جتنی شے کو ظاہر کرسکتی ہے۔
ذراتی اسراع گر(پارٹیکل ایسلریٹر) کی مدد سے تیار کردہ اس ٹکنالوجی کو ’ہیئرآرکیکل فیز کنٹراسٹ ٹوموگرافی Hierarchical Phase Contrast Tomography‘ (HiP-CT) کا نام دیا گیا ہے۔ اب یہ تمام جسمانی اعضا کی باریک ترین تفصیلات کو تھری ڈی انداز میں ظاہر کرتی ہے۔ سب سے پہلے اسے کوویڈ سے فوت شدہ ایک مریض کے پھیپھڑے پر آزمایا گیا ے جس میں خون کی نالیوں میں آکسیجن رکنے کا منظر بھی دیکھا گیا ہے۔
ایکسرے ٹکنالوجی یوروپی سنکروٹرون ریسرچ مرکز (European Synchrotron Research Facility) میں وضع کی گئی ہے جہاں دنیا کی روشن ترین ایکسرے حاصل کی گئ ہے جو روایتی ایکس رے سے 100 ارب گنا طاقتور ہے۔ کورونا وبا کے دوران اس پر سنجیدگی سے کام شروع کیا گیا-اب یہ حال ہے کہ اس سے خون کی باریک ترین نالیوں کو تھری ڈی انداز میں دیکھا جاسکتا ہے بلکہ بعض اقسام کے خلیات بھی دکھائی دینے لگتے ہیں۔
اب یونیورسٹی کالج لندن کے ماہرین اسی ٹکنالوجی سے پورے انسانی جسم کا تھری ڈی اٹلس تیار کرر ہے ہیں
جو دنیا بھر کے ڈاکٹروں، سرجن اور سائنسدانوں کے لیے بہت سودمند ہوگا۔ واضح رہے کہ دنیا کے طاقتور ترین ایم آر آئی اور سی ٹی اسکینر ایک ملی میٹر سے نیچے کی شے نہیں دکھا سکتے۔ لیکن نئی ٹکنالوجی سے تیارشدہ انسانی جسمانی اٹلس پوری دنیا کے لیے مفت میں دستیاب ہوگا۔
امید ہے اس ٹکنالوجی سے کوویڈ covid-19 میں پھیپھڑوں پر ہونے والے نقصانات اور دیگر تفصیل کو بھی سمجھنے میں بھی مدد ملے گی۔ اگلے مرحلے میں مشین اکتساب اور مصنوعی ذہانت سے مزید بہتر انداز میں تشخیص میں مدد مل سکے گی۔ تاہم ماہرین کی اکثریت نے اس کام کو غیرمعمولی انقلاب سے تعبیر کیا ہے



