قومی خبریں

پیگاسس پر نئے انکشافات سے : بجٹ اجلاس میں دونوں ایوان میں سخت ہنگامہ آرائی کی قیاس آرائی

غیرقانونی جاسوسی غداری کے مترادف،پارلیمنٹ میں مودی کی جواب دہی طے کی جائے کوئی قانون سے بالاترنہیں،حکومت نے ایوان اورعدلیہ کوگمراہ کیا،نیویارک ٹائمزکی رپورٹ پراپوزیشن حملہ آور

نئی دہلی ،29جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پیگاسس اسکینڈل پر نیویارک ٹائمز کے انکشافات نے ایک بار پھر ملکی میں سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ کانگریس نے کہا ہے کہ نہ صرف راہل گاندھی بلکہ سابق وزیر اعظم کے او ایس ڈی، سابق وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے اور مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی کی بھی جاسوسی کی گئی۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے نریندر مودی حکومت پرسنگین الزامات لگائے ہیں۔

راہل گاندھی نے کہا کہ مودی حکومت نے ہماری جمہوریت کے بنیادی اداروں، سیاست دانوں اور عوام کی جاسوسی کے لیے پیگاسس کو خریدا ہے۔ فون ٹیپ کرکے حکمران جماعت، اپوزیشن، فوج، عدلیہ سب کو نشانہ بنایا ہے۔ وہیں کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجے والا سے لے کر راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملک ارجن کھڑگے نے بھی بی جے پی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق بھارت اور صہیونی ریاست اسرائیل کے درمیان 2017 میں طے پانے والے دفاعی معاہدے میں بنیادی طور پر پیگاسس اسپائی ویئر اور میزائل سسٹم کی خریداری شامل تھی۔ اسرائیل سے میزائل سسٹم خریدنے کے لیے 2 بلین ڈالر کے بڑے معاہدے کے دوران پیگاسس سپائی ویئر بھی اس صہیونی ریاست اسرائیل سے خریدا گیا تھا۔

وہیں سپریم کورٹ کے تحت ایک کمیٹی پیگاسس سافٹ ویئر کیس کی نگرانی کر رہی ہے ، جس کی رپورٹ کا انتظار ہے۔ عدالت نے ریٹائرڈ جج رویندرن کی نگرانی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجے والا نے کہا ہے کہ یہ واضح ہے کہ حکومت نے پارلیمنٹ سے جھوٹ بولا، جبکہ کانگریس ایک عرصے سے کہہ رہی ہے کہ مودی حکومت اسپائی ویئر پیگاسس کے ذریعہ غیر قانونی اور غیر آئینی جاسوسی کر رہی ہے۔

ہم ایوان میں ذمہ داری طے کریں گے۔کانگریس کے موقف سے واضح ہے کہ اپوزیشن اگلے ہفتے سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس میں پیگاسس ایشو کو اہم ایشو بنائے گی۔ کانگریس ذرائع کا کہنا ہے کہ جاسوسی اسکینڈل پر نئے انکشافات کے فوراً بعد پارٹی کے حکمت پالیسی سازوں نے اپوزیشن کی دوسری جماعتوں کے ساتھ مساوات کے لیے نئی حکمت عملی بنانا شروع کردی ہے۔

اس کی ذمہ داری راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملک ارجن کھڑگے کو سونپی گئی ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ ٹی ایم سی، شیو سینا سمیت کئی دیگر پارٹیاں بھی اس معاملہ پر کانگریس کے ساتھ آ سکتی ہیں اور حکومت سے اس پر بات کرنے کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔

جاسوسی اسکینڈل کو لے کر ممتا بنرجی پہلے ہی حکومت کی تنقید کرتی رہی ہیں۔خیال کیا جا رہا ہے کہ پارلیمنٹ میں بجٹ پیش ہونے کے بعد اس سیاسی ایجنڈے کو لے کر دونوں ایوانوں میںسخت ہنگامہ آرائی ہو سکتی ہے۔

ایک پریس کانفرنس میں ملک ارجن کھڑگے نے کہا کہ کانگریس نے گزشتہ سال پارلیمنٹ میں یہ مسئلہ اٹھایا تھا اوراب اسے دوبارہ اٹھائے گی۔پچھلے سال پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں بھی پیگاسس جاسوسی اسکینڈل کو اپوزیشن نے ایک مضبوط ایشو بنایا تھا۔

پیگاسس ایشو نے پچھلے سال پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور اپوزیشن جماعتوں نے اس پر بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے دونوں ایوانوں میں سخت ہنگامہ آرائی کی تھی ۔ اس پر پارلیمنٹ میں تقریباً دو ہفتے تک تنازعہ رہا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس بار بھی کچھ ایسے ہی امکانات نظر آرہے ہیں کہ پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس بھی ہنگامہ خیز ہوسکتا ہے اور اپوزیشن اس پر حکومت سے جواب مانگ سکتی ہے۔ آئی ٹی کے وزیر اشونی وشنو نے گزشتہ سال 18 جولائی کو لوک سبھا میں پیگاسس پر دیئے گئے ایک بیان میں ہندوستانی حکومت کی طرف سے اس کے استعمال کے الزامات کو مسترد کر دیا تھا،یہ معاملہ پہلی بار 2019 میں منظر عام پر آیا تھا۔

اس کے ذریعے تقریباً 1400 صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور کئی سیاستدانوں کے فون کی جاسوسی کا الزام لگایا گیاتھا۔ پیگاسس متاثرین کے فون پر واٹس ایپ سمیت دیگر اہم معلومات کی ہیکنگ کا الزام تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button