کرونا کی نئی قسم اومیکرون غیر معمولی منتقلی کے باعث ہر شخص کو متأثر کرے گا-انتھونی فاؤچی
نیویارک، 12جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکہ میں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز اور ہسپتالوں میں کم ہوتی جگہوں کے باوجود ملک اب ایک ایسے مرحلے پر پہنچ رہا ہے جہاں اس وبا کو زندگی کا معمول سمجھ کر قبول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ امریکی ماہر وبائی امراض سائنسی ماہر انتھونی فاؤچی کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کو مکمل طور پر ختم کرنا مکمن نہیں اور اومی کرون ویرینٹ منتقلی کی غیر معمولی صلاحیت کے ساتھ ہر شخص تک پہنچے گا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر اینتھونی فاؤچی کا کہنا تھا کہ اس وائرس کو ختم کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے کیونکہ یہ تیزی سے پھیلتا ہے اور اس میں نیا ویریئنٹ بننے کی صلاحیت ہے اور اس کے ساتھ ہی غیر ویکسین شدہ افراد کی تعداد بھی بہت بڑھ گئی ہے۔
ویکسین شدہ افراد اس کے سنگین نتائج سے محفوظ ہیں تاہم انفیکشن کے مقابلے میں ویکسین کی افادیت کم ہوگئی ہے۔ اینتھونی فاؤچی کا کہنا تھا کہ ’اومی کرون میں اتار اور چڑھاؤ کے ساتھ ملک ممکنہ طور پر ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگا جہاں امید ہے کہ کمیونٹی میں اس کے خلاف تحفظ ممکن ہوگا اور ادویات موجود ہوں گی، تاکہ اگر کسی کو وائرس لگ بھی جائے اور وہ شدید خطرے سے دوچار ہوں تو بھی علاج کرنا آسان ہو۔
انہوں نے کہا کہ ’شاید ہم اس مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں کہ اس تبدیلی کی دہانے پر ہوں۔انتھونی فاؤچی نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں کیسز ریکارڈ کیے جارہے ہیں، ہسپتالوں میں تقریباً دیڑھ لاکھ افراد داخل ہیں اور 1200 سے زیادہ اموات ہو رہی ہیں اس لیے ابھی اس مرحملے میں داخل نہیں ہوئے کہ کمیونٹی میں سب کورونا سے محفوظ ہوں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت کورونا وائرس کی وجہ سے ایک لاکھ 45 ہزار 982 افراد امریکی ہسپتالوں میں داخل ہیں۔



