بین الاقوامی خبریں

نیو یارک کی اعلیٰ ترین اپیل کورٹ کا ہش منی کیس میں ٹرمپ کی سزا روکنے سے انکار

منتخب صدر کے لیے امریکی سپریم کورٹ آخری ممکنہ راستہ ہے

نیویارک، 10جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)نیو یارک کی اعلی ترین عدالت نے ڈونلڈٹرمپ کے ہش منی کیس میں جمعے کو ہونے والی سزا کو روکنے سے سے انکار کر دیا ہے۔سماعت کو روکنے کے لیے منتخب صدر کے لیے امریکی سپریم کورٹ آخری ممکنہ راستہ ہے۔ان کے ڈپٹی اٹارنی، جان سوئر نے لکھا، ٹرمپ کو اب سزا دینا ایک شدید ناانصافی ہو گی۔نیو یارک کے ججوں کا کہنا ہیکہ ٹرمپ کی سزاؤں کا تعلق سرکاری اقدامات کی بجائے ذاتی معاملات سے ہے۔نیو یارک کی اعلی ترین عدالت نے جمعرات کو ڈونلڈٹرمپ کے ہش منی کیس میں آئندہ ہونے والی سزا کو روکنے سے سے انکار کر دیا ہے۔

اب جمعے کو سزا کی سماعت کو روکنے کے لیے منتخب صدر کے لیے امریکی سپریم کورٹ آخری ممکنہ راستہ ہے۔نیو یارک کی اپیل کورٹ کے ایک جج نے ٹرمپ کی لیگل ٹیم کو اس معاملے پر سماعت کی منظوری سے انکار پر مبنی ایک مختصر حکم جاری کیا۔ٹرمپ نے، جو 20 جنوری کو دوسری بار اپنے عہدہ صدارت کا حلف اٹھائیں گے، سپریم کورٹ میں جمعے کو دی جانے والی سزا کی منسوخی کی درخواست کر چکے ہیں۔ان کے وکلاء نے بدھ کو اس کے بعد ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سے رجوع کیا جب نیو یارک کی عدالتوں نے جج ہوان ایم مرشان کی جانب سے دی گئی سزا کو ملتوی کرنے سے انکار کردیا۔

مرشان نے گزشتہ مئی میں ٹرمپ پر بزنس ریکارڈز میں جعلسازی کے 34 الزامات پر مقدمے اور سزاکی سماعت کی صدارت کی تھی۔واضح رہے کہ ٹرمپ نے کسی بھی غلط کام کرنے سے انکارکیا ہے۔نیو یارک کی اعلیٰ ترین عدالت میں ٹرمپ کے وکلاء نے کہا کہ مرشان اور ریاست کی درمیانے درجیکی اپیل کورٹ دونوں سزا کو روکنے میں ’’غلطی سے ناکام‘‘ ہوئے تھے۔اگرچہ مرشان یہ نشاندہی کر چکے ہیں کہ وہ ٹرمپ پرجیل کی سزا، جرمانے یا پروبیشن نافذ نہیں کریں گے تاہم ٹرمپ کے وکلا کی دلیل ہے کہ مجرم ٹھہرانے کے بھی ناقابل برداشت ضمنی اثرات ہوں گے جن میں منصب صدارت سنبھالنے کی تیاریوں سے ممکنہ طور پر ان کی توجہ ہٹانا شامل ہے۔نیو یارک کے ججوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی سزاؤں کا تعلق سرکاری اقدامات کی بجائے ذاتی معاملات سے ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button