این آئی اے نے بشنوئی گینگ-بی کے آئی دہشت گرد اتحاد کیس میں نئی چارج شیٹ داخل کی
۔ یہ کیس سال 2022 میں درج کیا گیا تھا
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے لارنس بشنوئی گینگ اور دہشت گرد تنظیم بببر خالسا انٹرنیشنل (بی کے آئی) کے درمیان جاری دہشت گرد-گینگسٹر اتحاد کیس میں ایک اور ملزم کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے۔ یہ کیس سال 2022 میں درج کیا گیا تھا، جس میں اب تک کل 22 افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کی جا چکی ہے۔
تازہ کارروائی میں این آئی اے نے راہل سرکار نامی شخص کو ملزم قرار دیا ہے۔ تحقیقات کے مطابق راہل سرکار لارنس بشنوئی گینگ کے اراکین کی مدد کر رہا تھا۔ وہ ان کے لیے جعلی شناختی دستاویزات جیسے آدھار کارڈ، ووٹر آئی ڈی، اور بینک پاس بک تیار کرواتا تھا۔
این آئی اے نے بتایا کہ راہل سرکار انہی جعلی دستاویزات کی مدد سے گینگ کے اہم اراکین، جن میں سچن بشنوئی بھی شامل ہے، کے لیے پاسپورٹ بنوانے میں مدد کرتا تھا۔ اس کا مقصد انہیں بیرون ملک فرار کروا کر وہاں سے دہشت گرد اور مجرمانہ سرگرمیاں جاری رکھنا تھا۔
ایجنسی کے مطابق اب تک اس کیس میں 18 ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں، جبکہ 4 اب بھی مفرور ہیں۔یہ معاملہ سب سے پہلے 4 اگست 2022 کو دہلی پولیس اسپیشل سیل نے درج کیا تھا۔ اس کے بعد 26 اگست 2022 کو اس کی تحقیقات این آئی اے کو سونپی گئی تھیں۔ فی الحال ایجنسی اس دہشت گرد-گینگسٹر نیٹ ورک کی گہرائی سے جانچ کر رہی ہے تاکہ ملک میں اس نیٹ ورک کے تمام روابط کو بے نقاب کیا جا سکے۔یہ کیس اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جرائم کی دنیا کے گینگسٹر اب بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ ہاتھ ملا کر ملک میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔



