بین الاقوامی خبریںسرورق

امریکہ میں سابق فوجی میجر ندال ملک حسن کی 3 دسمبر کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت، براہِ راست نشریات کا منصوبہ

کون ہیں ندال ملک حسن؟فائرنگ اسکواڈ اور لائیو نشریات پر سوالات

واشنگٹن:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) امریکہ میں 2009 کے فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کے واقعے میں 13 افراد کو ہلاک کرنے کے جرم میں موت کی سزا پانے والے سابق فوجی میجر ندال ملک حسن ایک بار پھر خبروں میں ہیں۔ امریکی فوج نے ان کی سزا پر عمل درآمد کے لیے 3 دسمبر 2026 کی تاریخ مقرر کی ہے۔ فوج کے مطابق، اس روز دوپہر ایک بجے ٹیکساس کے فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے انہیں موت کی سزا دی جائے گی۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے سزا کی منظوری اور اس کارروائی کی لائیو نشریات سے متعلق دعووں نے بھی توجہ حاصل کی ہے۔

ندال ملک حسن امریکی فوج میں میجر کے عہدے پر فائز تھے اور پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر تھے۔ وہ فوجی اہلکاروں کی ذہنی صحت سے متعلق مسائل کے علاج کی ذمہ داری انجام دیتے تھے۔ 5 نومبر 2009 کو ٹیکساس کے فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کے بعد ان کا نام عالمی سطح پر سامنے آیا۔ تحقیقات کے دوران حسن نے اپنے حملے کو جہاد قرار دیا تھا اور مسلم ممالک میں امریکی فوجی کارروائیوں کو اپنے اقدام کی وجہ بتایا تھا۔

5 نومبر 2009 کو فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر ہونے والی فائرنگ میں 13 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے کو امریکی فوجی تنصیبات پر ہونے والے مہلک ترین فائرنگ کے واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔ حملے کے بعد حسن کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔

اگست 2013 میں فوجی عدالت نے انہیں قتل کے 13 اور قتل کی کوشش کے 32 الزامات میں مجرم قرار دیا اور موت کی سزا سنائی۔ گرفتاری کے دوران حسن کو بھی گولیاں لگی تھیں، جس کے نتیجے میں وہ مفلوج ہوگئے تھے۔

امریکی فوج کے مطابق، صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی سفارش پر 2 اکتوبر 2026 کو حسن کی موت کی سزا کی منظوری دی تھی۔ اس کے بعد فوجی حکام نے 3 دسمبر 2026 کو دوپہر ایک بجے سزا پر عمل درآمد کا وقت مقرر کیا۔

رپورٹس کے مطابق، سزا اسی فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر دیے جانے کا منصوبہ ہے جہاں 2009 میں یہ حملہ ہوا تھا۔ امریکی فوج میں موت کی سزا پر عمل درآمد انتہائی غیر معمولی ہے۔ فوجی ریکارڈ کے مطابق، آخری مرتبہ 1961 میں فوجی جان بینیٹ کو پھانسی دی گئی تھی۔

فائرنگ اسکواڈ ایسے فوجیوں کے دستے کو کہا جاتا ہے جو گولیاں چلا کر موت کی سزا پر عمل درآمد کرتا ہے۔ حسن کے معاملے میں اسی طریقے کے انتخاب نے امریکی فوجی انصاف کے نظام پر بحث کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے۔

اس کے علاوہ، سزا کی لائیو نشریات سے متعلق دعووں نے بھی سوالات پیدا کیے ہیں۔ بعض حلقوں کے نزدیک سرکاری کارروائیوں میں شفافیت ضروری ہے، جبکہ دوسرے افراد موت کی سزا کو براہِ راست دکھانے کو انسانی وقار اور اخلاقی اصولوں سے متعلق حساس معاملہ قرار دیتے ہیں۔ تاہم، لائیو نشریات کے انتظامات اور طریقۂ کار کی حتمی تفصیلات کی تصدیق ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button