نیرو مودی کو ہندوستانی حوالگی کا راستہ صاف، حوالگی کیخلاف آخری اپیل مسترد
ہندوستان کے مفرور ہیروں کے تاجر نیرو مودی کی برطانیہ کو حوالگی کے خلاف آخری اپیل جمعرات (15 دسمبر) کو مسترد کر دی گئی
لندن؍نئی دہلی ،15دسمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) ہندوستان کے مفرور ہیروں کے تاجر نیرو مودی کی برطانیہ کو حوالگی کے خلاف آخری اپیل جمعرات (15 دسمبر) کو مسترد کر دی گئی۔اس کے ساتھ نیرو مودی کو ہندوستان لانے کا راستہ صاف ہوگیا ہے۔ پنجاب نیشنل بینک کے بڑے فراڈ میں ملوث ہونے کے بعد نیرو مودی 2018 میں ہندوستان سے فرار ہو گیا تھا۔دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ کے الزام میں ہندوستان میں مقدمے کا سامنا ہے۔ نیرو مودی کو لندن کی ہائی کورٹ نے برطانیہ کی سپریم کورٹ میں اس کی حوالگی کے حکم کیخلاف اپیل کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ملزم کا موقف ہے کہ حوالگی کی صورت میں خودکشی کا خطرہ ہے۔ تاہم نیرو مودی کی اپیل ہائی کورٹ میں مسترد کر دی گئی۔
لندن میں رائل کورٹس آف جسٹس میں سنائے گئے فیصلے میں لارڈ جسٹس جیریمی اسٹیورٹ اسمتھ اور جسٹس رابرٹ جے نے کہا کہ اپیل کنندہ (نیرو مودی) کی سپریم کورٹ میں اپیل کی اجازت دینے کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے۔ نیرو مودی اس وقت لندن کی وینڈز ورتھ جیل میں سلاخوں کے پیچھے ہے۔ اس اپیل کے خارج ہونے کے بعد اب ملزم کے پاس برطانیہ میں حوالگی کے خلاف کوئی قانونی راستہ نہیں بچا ہے۔گزشتہ ماہ نیرو مودی نے برطانیہ کی سپریم کورٹ میں اپنی ہندوستان حوالگی کے خلاف اپیل کرنے کی اجازت کے لیے یوکے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔
یہ درخواست دماغی صحت کی بنیاد پر حوالگی کے خلاف 51 سالہ نیرو مودی کی اپیل مسترد ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔ عدالت نے ملزم کی خودکشی کے خطرے کی دلیل مسترد کر دی۔ پنجاب نیشنل بینک (PNB) گھوٹالے کا پردہ فاش ہونے پر نیرو مودی ہندوستان سے فرار ہو گیا تھا۔نیرو مودی 13,000 کروڑ روپے کے پی این بی گھوٹالہ کا کلیدی ملزم ہے۔ ہندوستانی حکام طویل عرصے سے نیرو مودی کو برطانیہ سے حوالے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ دھوکہ دہی، منی لانڈرنگ، شواہد کو تباہ کرنے اور گواہوں کو دھمکانے کے الزامات کا سامنا کیا جا سکے۔



