نیرَو مودی کی برطانیہ میں نئی اپیل، بھارت حوالگی ایک بار پھر تاخیر کا شکار
نیرَو مودی نے برطانیہ کی عدالت میں نئی اپیل دائر کر دی ہے، جسے قبول کر لیا گیا
لندن:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) بھارت کے مشہور پنجاب نیشنل بینک (PNB) گھوٹالے کے مرکزی ملزم اور مفرور ہیرا کاروباری نیرَو مودی نے برطانیہ کی عدالت میں نئی اپیل دائر کر دی ہے، جس کے بعد ان کی بھارت حوالگی ایک بار پھر تاخیر کا شکار ہو گئی ہے۔
نیرَو مودی پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے ماموں میہول چوکسی کے ساتھ مل کر بینک کو 6,498 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا، جو کہ مجموعی 13,578 کروڑ روپے کے گھوٹالے کا حصہ ہے۔ وہ مارچ 2019 سے لندن کی واندس ورتھ جیل میں قید ہیں، جب اسکاٹ لینڈ یارڈ نے انہیں بھارت کی حوالگی کی درخواست پر گرفتار کیا تھا۔
ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کورٹ نے مودی کی اس نئی درخواست پر سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مودی کے وکلاء نے عدالت میں دعویٰ کیا ہے کہ اگر انہیں بھارت بھیجا گیا تو وہ کئی ایجنسیوں کی تفتیش اور ممکنہ تشدد کا سامنا کریں گے۔
بھارتی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ اس اپیل کو سفارتی ذرائع سے بھرپور طریقے سے چیلنج کرے گی۔ ایک سرکاری عہدیدار کے مطابق:
"ہمارا جواب جلد ہی جمع کرا دیا جائے گا جس میں مودی کے تمام الزامات کی تردید کی جائے گی اور عدالت سے درخواست کی جائے گی کہ اپیل کو خارج کر دیا جائے، کیونکہ حوالگی کا حکم 2022 میں حتمی ہو چکا ہے۔”
حکام نے یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ مودی کے خلاف کارروائی صرف بھارتی قانون کے تحت کی جائے گی اور انہیں کسی ایجنسی کی غیر ضروری تفتیش کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
گزشتہ مئی میں برطانوی عدالت نے نیرَو مودی کی دسویں ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ ان کے پاس حوالگی سے بچنے کی ٹھوس وجوہات موجود ہیں۔ اب اس نئی سماعت کی تاریخ کا انتظار ہے، جس سے ان کی حوالگی کی کارروائی مزید مؤخر ہونے کا اندیشہ ہے۔



