قومی خبریں

ڈاکٹر خود کو ’نمبر ون‘ نہیں کہہ سکیں گے، NMC نے اشتہارات اور AI پروموشن پر سختی کر دی

پیسے دے کر رینکنگ بڑھانے سے لے کر AI پروموشن تک، ڈاکٹروں کے لیے NMC کے نئے اشتہاری ضابطے

نئی دہلی، 8 اکتوبر (اردودنیانیوز/ایجنسیز): نئی دہلی، 8 اکتوبر (اردودنیانیوز/ایجنسیز): قومی طبی کمیشن (NMC) نے ڈاکٹروں، اسپتالوں اور طبی اداروں کی تشہیر سے متعلق نئے ضابطے جاری کرتے ہوئے مریضوں کو متاثر کرنے والے مبالغہ آمیز اور گمراہ کن دعووں پر سختی کر دی ہے۔ نئی گائیڈلائنز کے تحت ڈاکٹر یا اسپتال خود کو ’نمبر ون‘، ’بہترین‘، ’سب سے قابل اعتماد‘، ’سرفہرست‘ یا ’معروف ترین‘ قرار دے کر تشہیر نہیں کر سکیں گے، جب تک ایسے دعووں کی آزادانہ اور شفاف طریقے سے تصدیق کا قابل اعتماد نظام موجود نہ ہو اور متعلقہ قانون اس کی اجازت نہ دیتا ہو۔

NMC کی گائیڈلائنز کے مطابق ڈاکٹر اپنی کامیابیوں، علاج کے نتائج یا مریضوں کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کر سکتے۔ کسی ڈاکٹر یا اسپتال کی تشہیر کے لیے مریضوں کے تعریفی بیانات، ریویوز، حمایت یا کامیاب علاج کی کہانیوں کا استعمال بھی ممنوع ہوگا۔ اسی طرح کسی ایک مریض کے علاج کے نتیجے کو عام یا یقینی نتیجے کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکے گا، کیونکہ اس سے دوسرے مریضوں میں علاج کے نتائج کے بارے میں غلط توقعات پیدا ہو سکتی ہیں۔

نئے ضابطوں کے تحت ڈاکٹر اپنی خدمات کی تشہیر ایسے انداز میں بھی نہیں کر سکیں گے جس سے مریض کو ان کی تعلیمی قابلیت، تجربے، مہارت یا طبی تخصص کے بارے میں غلط تاثر ملے۔ کمیشن نے مریضوں کی تصاویر، ویڈیوز، میڈیکل ریکارڈ اور طبی تصاویر کے استعمال پر بھی سخت اصول مقرر کیے ہیں۔ ایسے مواد کو اشتہاری مقصد کے لیے صرف اسی صورت استعمال کیا جا سکے گا جب قانون اس کی اجازت دیتا ہو اور ضروری رضامندی، رازداری اور حفاظتی اقدامات مکمل کیے گئے ہوں۔

گائیڈلائنز میں واضح کیا گیا ہے کہ مریض کی رضامندی کو کسی تعریفی بیان، تشہیری مہم یا حمایت کے لیے اس طرح استعمال نہیں کیا جا سکتا جس سے مریض کی نجی معلومات، عزت یا رازداری متاثر ہو۔ مریض کی اجازت حاصل ہونے کے باوجود اس کی معلومات یا تصویر کو تشہیری مقصد کے لیے استعمال کرتے وقت مقررہ قانونی اور اخلاقی اصولوں کی پابندی ضروری ہوگی۔

NMC نے ان اصولوں کا دائرہ روایتی اشتہارات تک محدود نہیں رکھا ہے۔ سوشل میڈیا، ویب سائٹس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، انفلونسر مارکیٹنگ، پوڈکاسٹ، بلاگز، ویڈیوز، مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع بھی ان ضابطوں میں شامل ہوں گے۔ کمیشن کے مطابق ایسی کوئی بھی معلومات جو کسی ڈاکٹر، اسپتال یا طبی ادارے کی خدمات، قابلیت، مہارت، کامیابیوں، سہولتوں یا تجارتی طبی خدمات کو فروغ دینے کے مقصد سے نشر یا شیئر کی جائے، اشتہار کے دائرے میں آ سکتی ہے۔

AI سے تیار تشہیری مواد پر بھی پابندی

مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر NMC نے AI سے تیار یا AI کی مدد سے بنائے گئے تشہیری مواد کے بارے میں بھی واضح اصول مقرر کیے ہیں۔ ڈاکٹر یا اسپتال مریضوں کو متوجہ کرنے کے لیے ایسا AI مواد استعمال نہیں کر سکیں گے جس میں ان کی خدمات، طبی نتائج، پیشہ ورانہ قابلیت، مریضوں کے تجربات یا طبی سہولتوں کے بارے میں غلط، گمراہ کن یا ناقابل اعتماد معلومات پیش کی جائیں۔

اسی طرح AI سے تیار یا تبدیل کیا گیا ایسا مواد بھی قابل قبول نہیں ہوگا جو لوگوں کو ڈاکٹر، مریض یا کسی طبی نتیجے کے بارے میں غلط فہمی میں مبتلا کر سکتا ہو۔ مریضوں سے متعلق معلومات کو مصنوعی ذہانت کے نظام میں استعمال کرتے وقت رازداری، ڈیٹا سکیورٹی اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کے تقاضوں پر عمل کرنا بھی ضروری ہوگا۔

ڈسکاؤنٹ، کوپن اور تحائف کے ذریعے مریضوں کو راغب کرنے پر روک

نئے ضابطوں کے تحت رجسٹرڈ میڈیکل پریکٹیشنرز اور اسپتال مریضوں کو کسی مخصوص طبی خدمت، ٹیسٹ یا علاج کی طرف راغب کرنے کے لیے ڈسکاؤنٹ، محدود مدت کی پیشکش، مقابلے، کوپن، تحائف، کیش بیک یا ریفرل فوائد جیسی اسکیمیں استعمال نہیں کر سکیں گے۔ NMC کا مقصد طبی خدمات کو عام تجارتی مصنوعات کی طرح فروغ دینے کے رجحان کو محدود کرنا ہے۔

پیسے دے کر رینکنگ بڑھانے پر بھی پابندی

کمیشن نے ڈاکٹر یا اسپتال کو انٹرنیٹ پر زیادہ نمایاں دکھانے کے لیے پیسے دے کر رینکنگ بڑھانے یا سرچ میں مصنوعی طور پر اوپر لانے کے طریقوں پر بھی پابندی عائد کی ہے۔ گائیڈلائنز کے مطابق کسی ڈاکٹر یا ادارے کی تلاش میں نمایاں حیثیت کو پیسے یا کسی خصوصی انتظام کے ذریعے مصنوعی طور پر بڑھانا مریضوں کو ڈاکٹر کی پیشہ ورانہ ساکھ اور قابلیت کے بارے میں غلط تاثر دے سکتا ہے۔

ڈاکٹروں کو صحت سے متعلق عمومی معلومات اور طبی تعلیم کے مقصد سے مضامین، کتابچے، پمفلٹس اور دیگر تعلیمی مواد تیار کرنے کی اجازت ہوگی، تاہم اس مواد کو کسی مخصوص ڈاکٹر یا اسپتال کی تشہیر کا ذریعہ نہیں بنایا جا سکے گا۔ خاص طور پر مریضوں کو کسی مخصوص ڈاکٹر یا اسپتال سے علاج کرانے کی ترغیب دینے یا کسی ادارے کو دوسروں سے بہتر قرار دینے والے دعووں سے گریز کرنا ہوگا۔

سرجری اور طبی کارروائیوں کی ویڈیو بھی ضابطوں کے تابع

NMC نے سرجری یا دیگر طبی کارروائیوں کی لائیو نشریات اور تجارتی تشہیر کے لیے ویڈیوز نشر کرنے کو بھی ضابطوں کے تحت لایا ہے۔ کسی طبی کارروائی کی ویڈیو اس انداز میں نشر نہیں کی جا سکے گی جو کمیشن کے اصولوں، مریض کی رازداری یا رضامندی کی خلاف ورزی کرے۔

خلاف ورزی پر وارننگ سے رجسٹریشن تک کارروائی

گائیڈلائنز کی خلاف ورزی کرنے والے ڈاکٹر یا ادارے کے خلاف معاملے کی سنگینی کے مطابق مختلف سطحوں پر تادیبی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اس میں وارننگ، لازمی اخلاقی تربیت، معطلی اور میڈیکل رجسٹریشن سے متعلق کارروائی شامل ہو سکتی ہے۔ سنگین یا بار بار ہونے والی خلاف ورزیوں کی صورت میں رجسٹریشن معطل کرنے، معطلی کی مدت بڑھانے یا متعلقہ قوانین کے تحت رجسٹر سے نام خارج کرنے سمیت دیگر اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

گائیڈلائنز کے مطابق کسی ڈاکٹر یا طبی ادارے کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے سے پہلے اسے شوکاز نوٹس جاری کیا جائے گا۔ متعلقہ شخص یا ادارے کو الزامات کا جواب دینے اور اپنی وضاحت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔اس کے بعد متعلقہ ریاستی میڈیکل کونسل دستیاب حقائق اور جواب کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی۔

اگر کسی میڈیکل پریکٹیشنر کو ریاستی میڈیکل کونسل کے فیصلے پر اعتراض ہو تو وہ مقررہ طریقہ کار کے تحت 60 دن کے اندر اپیل دائر کر سکتا ہے۔ اپیل پر متعلقہ اپیلیٹ اتھارٹی دونوں فریقوں کو سننے کے بعد فیصلہ کرے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button