
این ایم پی مسئلہ: مودی حکومت کی منیٹائزیشن پالیسی پر وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے اٹھایا سوال
کہا بی جے پی کی نہیں ملک کی جائیداد ہے،جسے مودی فروخت کررہے ہیں
کولکاتہ، 25 اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے مرکزی حکومت کی نیشنل منیٹائزیشن پائپ لائن پالیسی (این ایم پی) پر سوالات اٹھائے ہیں، جس کے ذریعے تقریباچھ لاکھ کروڑ روپے جمع کرنے کا منصوبہ ہے۔ بدھ کو حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ یہ مودی یا بی جے پی کی ملکیت نہیں ہے،یہ پراپرٹی ملک کی ہے۔ بنگال کی #وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ وزیر اعظم ملک کے #اثاثے نہیں بیچ سکتے۔ یہ ایک افسوس ناک فیصلہ ہے اور میں حیران ہوں، بہت سے لوگ اس فیصلے کے خلاف #احتجاج میں میرے ساتھ شامل ہوں گے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ ملک کی جائیداد بیچنے کی سازش ہے۔ ترنمول کانگریس سربراہ نے این ایم پی کو ایک حیران کن اور بدقسمت فیصلہ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ان جائیدادوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی #انتخابات کے دوران اپوزیشن جماعتوں کے خلاف استعمال کی جائے گی۔
ممتا نے ریاستی سکریٹریٹ میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہم اس حیران کن اور بدقسمت فیصلے کی مذمت کرتے ہیں، یہ اثاثے ملک کے ہیں، یہ نہ مودی کی ملکیت ہیں اور نہ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی۔ انہوں نے کہا کہ پورا ملک اس’عوام دشمن‘ فیصلے کی مخالفت کرے گا اور ساتھ کھڑا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو شرم آنی چاہیے، کسی نے انہیں ہمارے ملک کی #جائیداد بیچنے کا حق نہیں دیا۔



