بین الاقوامی خبریںسرورق

جمعہ سے پہلے کوئی جنگ بندی یا یرغمالیوں کی رہائی نہیں ہوگی: اسرائیل

حماس اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

تل ابیب:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) فلسطینی اور اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ کے ساتھ ساتھ غزہ کی پٹی کے مکینوں کو جنگ بندی کے نفاذ کے آغاز کا انتظار ہے مگر اسرائیلی حکام نے اعلان کیا کہ "جمعہ سے پہلے” لڑائی ختم نہیں کی جائے گی اور نہ ہی غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی ممکن ہوگی۔ایک اسرائیلی اہلکار نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ جمعرات کو فلسطینی تحریک حماس کے ساتھ لڑائی میں  کوئی وقفہ نہیں ہوگا ۔اسرائیل کے قومی سلامتی کے مشیر زاچی ہنیگبی نے کہا کہ غزہ میں یرغمال بنائے گئے کسی کو بھی جمعہ سے پہلے رہا نہیں کیا جائے گا۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے آج جمعرات کو توقع ہے کہ جنگ بندی کے نافذ العمل ہو گی اور رہائی کی پہلی کارروائی جمعرات سے شروع ہو گی۔

ہنیگبی نے اپنے تازہ ترین بیانات میں کہا کہ "ہمارے قیدیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات مسلسل تیار ہو رہے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ "رہائی فریقین کے درمیان اصل معاہدے کے مطابق شروع ہوگی جمعہ سے پہلے نہیں ہوگی "۔ٹائمز آف اسرائیل نے بدھ کے روز قومی سلامتی کونسل کے سربراہ زاچی ہنیگبی کے حوالے سے بتایا کہ قیدیوں کی پہلی کھیپ کو جمعہ سے پہلے رہا نہیں کیا جائے گا۔اس سے قبل کل بدھ کو حماس کے رہنما موسیٰ ابو مرزوق نے کہا تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان عارضی جنگ بندی جمعرات کی صبح دس بجے شروع ہو گی اور غزہ کی پٹی میں مکمل جنگ بندی ہو گی۔ بعد ازاں ایک سینیر اسرائیلی اہلکار نے ایک پریس بیان میں اس کی تصدیق کی تھی.

اخبار نے ایک حکومتی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا اور اسرائیلی فوج کے جنرل نتزان ایلون جو اس وقت معاہدے کی حتمی تفصیلات کے لیے قطر میں ہیں نے ان قیدیوں کے نام حاصل کیے ہیں جن کی رہائی کا امکان ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل قیدیوں کو رہا کرنے سے پہلے ان کے نام شائع نہیں کرے گا تاکہ معاہدہ ٹوٹنے کی صورت میں ان کے اہل خانہ کے دلوں میں جھوٹی امیدیں نہ پھیلیں۔ذرائع نے بتایا کہ فریقین نے ابھی تک جنگ بندی کی دستاویز پر دستخط نہیں کیے ہیں، یہ مرحلہ اگلے 24 گھنٹوں میں مکمل ہونے کی امید ہے۔امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایکسیس‘ نے ایک اسرائیلی اہلکار کے حوالے سے کہا کہ معاہدے پر عمل درآمد کو ملتوی کرنے کی وجہ کئی "تکنیکی مسائل” ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کو ان قیدیوں کے ناموں کی فہرست موصول نہیں ہوئی جنہیں رہا کیا جائے گا۔مذاکرات سے واقف ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہ التوا زیر حراست افراد کی رہائی کے تفصیلی منصوبے کو حتمی شکل دینے میں ناکامی کی وجہ سے ہوا۔یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب یہ توقع کی جا رہی تھی کہ جمعرات کو چار روزہ جنگ بندی شروع ہو جائے گی۔ آج جمعرات کو حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے اور اسرائیل میں قید قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا۔

اسرائیلی پریس نے مقامی وقت کے مطابق صبح دس بجے جنگ بندی کے نفاذ کے بعد دوپہر کو یرغمالیوں کی پہلی کھیپ کو رہا کرنے کے منصوبے کے بارے میں بات کی تھی۔یہاں تک کہ اسرائیل میں سرکاری دفتر نے بدھ کی شام صحافیوں کو تل ابیب کے ایک میڈیا سینٹر میں آنے کی دعوت دی جو جمعرات کی سہ پہر سے شروع ہونے والے "یرغمالیوں کی واپسی” کے لیے وقف ہے۔اسرائیل اور حماس کے درمیان چار روزہ جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا جس کے دوران حماس غزہ میں قید 50 خواتین اور بچوں کو رہا کرے گی جس کے بدلے میں اسرائیلی جیلوں سے 150 فلسطینی خواتین اور بچوں کو رہا کیا جائے گا۔


حماس اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

اسرائیل اور حماس نے قطر ، مصر اور امریکا کی ثالثی کے ساتھ چار دن کی جنگ بندی پر اتفاق کیا، تاہم اس جنگ بندی میں مشروط طور پر توسیع ہوسکتی ہے۔ ابتدائی طور پر طے پایا ہے کہ حماس غزہ کی پٹی میں سات اکتوبر کو یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں میں سے پچاس کو رہا کرے گی جب کہ اس کے بدلے میں اسرائیل اپنی جیلوں میں قید ڈیڑھ سو سےزائد فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے کہا ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا رد عمل بیان کیا ہے اور اسے ایک "مشکل فیصلہ” قرار دیا۔

معاہدے کے اہم نکات

امریکی ایکسیس ویب سائٹ کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ پہلے مرحلے میں بچوں اور خواتین سمیت 50 یرغمالیوں کی رہائی شامل ہے۔ یرغمالیوں کی رہائی ایک ساتھ نہیں بلکہ گروپوں کی شکل میں ہوگی۔ دوسری طرف اسرائیل تقریباً 150 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا، جن میں زیادہ تر خواتین اور نابالغ ہیں۔اسرائیلی وزارت انصاف نے آج ایک فہرست شائع کی ہے جس میں اسرائیلی جیلوں میں قید 300 فلسطینیوں کے نام شائع کیے ہیں۔Axios ویب سائٹ نے کہا کہ اس معاہدے میں مصر سے روزانہ 300 امدادی ٹرکوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت دی جائے گی اور لڑائی کے خاتمے کے دوران مزید ایندھن کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت بھی دی جائے گی۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ معاہدے کے دوسرے مرحلے میں حماس شامل ہو سکتی ہے۔ وہ مزید درجنوں یرغمالیوں کو رہا کرنے کے بدلے جنگ بندی میں توسیع کراسکتی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے کہا ہے کہ جمعرات کو قیدیوں کےتبادلے کی ڈیل پر عمل درآمد کا عمل شروع ہونے کی توقع ہے، تاہم اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں حماس کے خلاف جنگ جاری رکھے گا۔ جنگ جاری رہنے کی صورت میں قیدیوں کی رہائی کا عمل متاثر ہوسکتا ہے۔اسرائیلی وزارت انصاف کی فہرست میں 300 فلسطینیوں کے ناموں کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس معاہدے میں یکے بعد دیگرے رہائی کی جائے گی۔ پہلے گروپ کی رہائی کے بعد دوسرے کے لیے کارروائی شروع کی جائے گی۔

ایک مشکل لیکن درست فیصلہ- نیتن یاہو

benjamin netanyahu israel
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے حکومتی اجلاس سے قبل کہا تھا کہ اسرائیل میں حکام غزہ میں زیر حراست کچھ قیدیوں کو رہا کرنے کے معاہدے کے حوالے سے ایک "مشکل لیکن درست فیصلہ” کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے ذریعے قیدیوں کو مرحلہ وار رہا کیا جائے گا۔نیتن یاہو نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ سکیورٹی رہنما اس فیصلے کی مکمل حمایت کرتے ہیں، جس سے فوج کو لڑائی جاری رکھنے کے لیے تیاری کرنے کا موقع ملے گا۔نیتن یاہو نے مزید کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے مزید قیدیوں کو شامل کرنے کے معاہدے کو بہتر بنانے میں مدد کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ اسرائیل کے تمام اہداف کے حصول تک جنگ جاری رہے گی۔

ہمارے ہاتھ ٹریگر پر رہیں گے:حماس

israeli army hamas in gaza
اسرائیلی فوج کو غزہ میں حماس کی سخت مزاحمت کا سامنا

حماس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس معاہدے میں صلاح الدین اسٹریٹ کے ساتھ ساتھ شمالی سے جنوبی غزہ تک شہریوں کی نقل و حرکت کی آزادی کی ضمانت اور اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کے دوران پوری پٹی میں کسی پر حملہ یا گرفتاری نہ کرنے کا وعدہ شامل ہے۔حماس نے مزید کہا کہ اس معاہدے میں چار روزہ جنگ بندی کے دوران جنوبی غزہ میں فضائی ٹریفک کو روکنے کے بدلے میں شمالی غزہ میں روزانہ 6 گھنٹے فضائی کارروائیوں کو روکنا شامل ہے۔معاہدے کے تحت غزہ کے شمال اور جنوب کے تمام علاقوں میں سینکڑوں امدادی ٹرکوں اور ایندھن کے ٹرکوں کو داخل ہونے کی بھی اجازت دی جائے گی۔ حماس نے مزید کہا کہ جب ہم جنگ بندی کے معاہدے کی آمد کا اعلان کرتے ہیں، ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ "ہمارے ہاتھ ٹریگر پررہیں گے”۔حماس نے 7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی سے اسرائیل پر ایک غیر معمولی حملہ کیا، جس کے دوران اسرائیلی حکام کے مطابق غیر ملکیوں سمیت تقریباً 240 افراد کو اغوا کر کے پٹی منتقل کر دیا گیا۔


 الشفاء ڈاکٹر کے مطابق اسپتال کے ڈائریکٹر کو اسرائیلی فورسز نے گرفتار کر لیا ہے

غزہ شہر کے الشفاء ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس طبی سہولت کے ڈائریکٹر اور کئی دیگر طبی عملے کو جمعرات کو اسرائیلی فورسز نے گرفتار کر لیا۔ڈاکٹر محمد ابو سلمیہ کو کئی دیگر سینئر ڈاکٹروں کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا تھا۔” اسپتال کے ایک شعبے کے سربراہ خالد ابو سمرہ نے کہا۔ یہ ہسپتال 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد حماس کے خلاف اسرائیلی آپریشن کا ایک بڑا مرکز رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button